الزائمر ، ناقابل علاج مگر بچاؤ ممکن

الزائمر کی علامات اور بچاؤ کے لیے اپنائی جانے والی مختلف تدابیر

1,555
loading...

الزائمر ایک دماغی مرض کا نام ہے جس کے علاج میں ابھی تک کسی قسم کی خاطر خواہ پیش رفت ثابت نہیں ہوئی ۔ یہ بیماری بزرگ افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔ الزائمر بیماری غیر متغیراور ترقی پذیر دماغی بیماری ہے ، جو کہ آہستہ آہستہ یاداشت اور سوچنےسمجھنے کی صلاحیت کو حتم کر دیتی ہےاور آہستہ آہستہ یہ بیماری روز مرہ کی زندگی میں ہونے والےمعمولی کام کو پُورا کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

یہ بیماری صرف بزرگ افراد تک ہی محدود نہیں ہے یہ بیماری زائد عمر سے پہلے بھی آپکو اپنا شکار بنا سکتی ہے.2006 میں اس مرض میں 26.6 ملین افراد مبتلا تھے اور ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 2050 تک ہر آٹھ افراد میں سے ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اسکا علاج تو ابھی نہ ممکن ہی ہے لیکن پھر بھی بازاروں میں چند ادویات ایسی موجود ہیں جو اس مرض کے اثرات کو کم کرتی ہیں لیکن ان ادویات کے ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ۔

مزید جانئے :امتحانات کے دوران بچوں کی یاداشت تیز بنانے والی5 غذائیں

ماہرین کے مطابق الزئمر کی کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اگر ان پر نظر رکھ کے چند تدابیر اپنا ئی جائیں تو اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

الزئمر کی علامت

ماہرین کے مطابق الزائمر بیماری کے آغاز کی چار علامات ہوتی ہیں،پہلی علامت غیر ضروری طورپر بڑھی ہوئی خود اعتمادی، دوسری علامت الفاظ کی ادائیگی میں مشکل اور غیر مناسب الفاظ کا انتخاب، تیسری علامت لکھتے ہوئے الفاظ کے ہجے بھول جانا اور آخری علامت تحریر کو پڑھتے ہوئے سمجھنے میں مشکل پیش آنا۔

مزید جانئے :’الزائمر‘ کا ابتداء میں علاج ممکن


بچاؤ کے لئے تدابیر

خون میں شکر کی کمی

طبی ماہرین کا کہنا ہے کے خون میں شکر کی کمی یادداشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا سبب بنتی ہے۔ خون میں شکر کی مقدار اور سطح کو نارمل حالت میں رکھ کر اس بیماری کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

ویڈیو گیمز

ماہرین کے مطابق دس سال تک ایک تحقیق کی گئی جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کے ایسے ویڈیو گیمز جو ملٹی ٹاسکنگ ہوں بڑھتی عمر میں انکے کھیلنے سے یادداشت کمزور ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

مزید جانئے :کیا آپ خواب دیکھتے ہیں؟جواب سے آپ کی صحت کا گہرا تعلق ہے

دانتوں کی صفائی

اگر تو آپ درمیانی عمر میں یاداشت کی کمزوری اور دماغی امراض سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے دانتوں کو برش کرنا کبھی نہ بھولیں۔ تحقیق کے مطابق مسوڑوں سے خون رسنے کا با عث بننے والا بیکٹریا دماغی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دانتوں اور مسوڑوں کی صحت کا خیال رکھ کے الزائمر کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

وزن کم کریں

اگر کسی کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے تو اسے فوری طور پر کم کرنےکی کوشش کرنی چاہیے کیوں کے بڑھتا ہوا وزن مختلف امراض کی وجہ اور یاداشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے لیے صحت مند غذا اور ورزش لازمی ہے۔ ورزش صرف چربی ہی کم نہیں کرتی بلکہ نظام دوران خون کے ساتھ جسم کو مختلف امراض سے محفوظ رکھنے والے دفاعی نظام کو بھی بہتر بناتی ہے ۔ جو دماغی امراض سے محفوظ رکھنے اور یاداشت کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کرتا ہے ۔

مزید جانئے :امتحانات کے دوران بچوں کی یاداشت تیز بنانے والی5 غذائیں

نیند کی کمی یا بے خوابی

کم نیند دماغی امراض الزائمر کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکا کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جو لوگ کم سوتے ہیں یا بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں ان کے دماغ میں ایسی غیرمعمولی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جو الزائمر کی ابتدائی علامات مانی جاتی ہیں۔

ورزش

اپنے جسم کو حرکت دینا یا باقاعدگی سے ورزش کرنا بہت سی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان میں فشار خون، شوگر اور فالج پیش پیش ہیں۔ اسی طرح ورزش الزائمر کے خلاف بھی ایک بہترین ہتھیار ہےاور اس سے ذہنی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔

مزید جانئے :یادداشت کی کمزوری ،احتیاط اور خوراک، علاج سے زیادہ ضروری


 

تبصرے
Loading...