ماں کے دودھ میں اضافے کے قدرتی طریقے

2,290

ماں کا دودھ بچے کی پہلی غذا ہے ۔بچے کی اچھی صحت اور بیماریوں سے حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ اسے فارمولا ملک کے بجائے صرف ماں کا دودھ دیا جائے ۔پیدائش کے بعد بچے کو ماں کا دودھ دیا جاتا ہے ۔لیکن  اکثر مائیں کچھ ہی عرصے میں بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دیتی ہیں اور اسے فیڈر لگادیتی ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ بار بار بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے ۔ماں کا دودھ چھڑانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک وجہ دودھ کی پیداوار میں کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچے کا پیٹ نہیں بھرتا اور بچہ بھوک کی وجہ سے روتا رہتا ہے لہٰذامجبور ہوکر ماں  بچے کو فیڈر لگادیتی ہے۔

کچھ قدرتی طریقوں سے ماں کے دودھ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے :

زیادہ پانی پیئیں:

یوں تو ہر شخص کی پانی کی ضرورت الگ الگ ہوتی ہے لیکن دودھ پلانے والی ماؤں کو روزانہ آٹھ گلاس پانی ضرور پینا چاہئے ۔خاص طور پر جب بچے کو دودھ پلانے بیٹھیں تو ایک گلاس پانی پی لیں۔

متوازن غذا کھائیں :

دودھ پلانے والی ماؤں کو دوسری خواتین کے مقابلے میں 500  اضافی کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے ۔

لہٰذا ماؤں اپنی خوراک میں پروٹین والی غذائیں جیسے مچھلی، انڈے،دودھ،دہی،سبزیاں ،جوء اور میتھی کے بیج شامل کریں ۔ایک چمچ میتھی کے بیج ایک کپ پانی میں بھگو کر رات بھر کے لئے رکھ دیں ۔صبح کے وقت پانچ منٹ تک ابالیں ،پھر اس چائے کو چھان کر اس میں شہد ملا کر پی لیں ۔

وٹامنز ضرور لیں :

ماہرین کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے کیلشیئم،وٹامن ڈی،آئرن اور فولک ایسڈبہت ضروری ہیں ۔ان وٹامنز اور منرلز کا باقاعدگی کے ساتھ استعمال ماں کے دودھ میں اضافے کو یقینی بناتا ہے۔

بچے کو جلدی جلدی اور بار بار فیڈ کرائیں:

ماں کا  دودھ پینے والے بچوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔لہٰذاجب بھی بچہ روئے یادودھ زیادہ آتا محسو س ہو بچے کو دودھ پلائیں ۔


پریگننسی آسان بنائیں ان غذاؤں سے


دونوں طرف سے برابر پلائیں :

بچہ جتنا دودھ پئے گادودھ کی پیداوار میں اتنا ہی ا ضافہ ہوگا ۔بچے کو دونوں طرف سے دودھ پلائیں اور بریسٹ کو بالکل خالی کردیں اس طرح دودھ دوبارہ  بننا شروع ہو جائے گا ۔

ٹپس:

۔ابتد ائی چھ ماہ تک بچے کواپنے پاس سلائیں ۔

۔بچے کی بھوک کا خاص خیال رکھیں۔

۔بچے کو چسنی نہ لگائیں ۔

۔صحت بخش غذا کھائیں ۔

۔زیادہ پانی ور لکوئڈ پیئیں ۔

۔ضرورت کے مطابق آرام کریں۔

۔چست کپڑوں کے بجائے ڈھیلے کپڑے پہنیں ۔


بچیوں کو ماہواری کے لئے کیسے تیار کریں؟


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...