نیند کا بے ڈھنگا شیڈول ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ

2,951

ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرح ہمارے جسم کے اندر موجود خلیات کی بھی اپنی 24 گھنٹے کی ٹائم لائن ہوتی ہے، اگر وہ ایک ہی ترتیب میں ہو تو ہماری جسمانی گھڑی ذہنی اور جسمانی امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اگر یہ بے ترتیب ہو تو جسمانی گھڑی کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔مگر جب آپ کی اس بارے میں پڑھئے :پر سکون نیند اور انرجی سے بھرپور دن گزارنے کے لئے تھری ڈے پلان”>نیند کا کوئی وقت طے نہ ہو جیسے نائٹ شفٹ میں کام کرنا یا رات گئے تک جاگنا وغیرہ، تو اس جسمانی گھڑی کی ترتیب بدل جاتی ہے اور جسم وائرل انفیکشن اور ڈپریشن کا آسانی سے شکار ہوجاتا ہے۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اس تحقیق کے مطابق جب جسمانی گھڑی کے معمولات متاثر ہوتے ہیں تو ذہنی اور جسمانی مسائل ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسا ہونے پر ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ درست وقت پر نیند اور سورج کی روشنی درکار ہوتے ہیں۔ایسا تو نہیں کہ اپنی جسمانی گھڑی کو درست رکھنا فلو یا دیگر امراض سے سو فیصد بچاتے ہیں مگر مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس گھڑی کا خیال رکھنا مجموعی صحت کے لیے ضروری ہے۔


 اس بارے میں جانئے :10عادتیں جوکامیاب لوگ کبھی نہیں اپناتے

 

محققین نے اپنی اس تحقیق میں پرانی تحقیق کا حوالہ بھی دیا جس میں نیند، سورج کی روشنی اور مزاج پر روشنی ڈالی گئی تھی۔اس اطالوی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جن مریضوں کو مشرقی سمت والے کمروں میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی زیادہ آتی تھی، وہ مغربی سمت والے مریضوں کے مقابلے میں ہسپتال سے جلد صحت یاب ہوکر گھر چلے گئے۔

محققین نے بتایا کہ صبح کی روشنی درحقیقت جسم کو سکون پہنچانے والی دوا کی طرح کام کرتی ہے، قدرتی روشنی ڈپریشن کو دور بھگانے کے لیے بہترین ہے۔اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نیند پوری کرنے سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ وہ درست وقت پر ہو اور صبح کی روشنی میں چہل قدمی ضرور کی جائے تاکہ جسمانی گھڑی درست انداز سے کام کرتی رہے۔


اس بارے میں پڑھئے :پر سکون نیند اور انرجی سے بھرپور دن گزارنے کے لئے تھری ڈے پلان


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...