video – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Fri, 30 Jul 2021 07:55:38 +0000 ur hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png video – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 فٹنس ٹرینرز ہمیشہ فٹ کیسے رہتے ہیں؟وڈیو https://htv.com.pk/ur/fitness/qa-session-with-fitness-trainer-chris-rigby Thu, 28 Feb 2019 12:00:38 +0000 http://htv.com.pk/ur/?p=23370 Fitness Trainer Chris Rigby

فٹ رہنا اور اچھی باڈی بنانا تو ہر کوئی چاہتا ہے لیکن ہر کوئی یہ خواب پورا نہیں کر پاتا ۔ فٹنس ٹرینر ز کے لئے یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ دوسروںکو فٹ رکھنے کے لئے ان کا خود بھی فٹ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ دوحہ میں فٹنس ٹریننگ دینے […]

The post فٹنس ٹرینرز ہمیشہ فٹ کیسے رہتے ہیں؟وڈیو appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
Fitness Trainer Chris Rigby

فٹ رہنا اور اچھی باڈی بنانا تو ہر کوئی چاہتا ہے لیکن ہر کوئی یہ خواب پورا نہیں کر پاتا ۔ فٹنس ٹرینر ز کے لئے یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ دوسروںکو فٹ رکھنے کے لئے ان کا خود بھی فٹ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
دوحہ میں فٹنس ٹریننگ دینے والے زبردست ٹرینر کرس رگبی گزشتہ دنوں پاکستان آئے تو انہوں نےہمیں اچھی باڈی بنانے اور فٹنس کو برقرار رکھنے کے راز بتائے جوکہ مندرجہ ذیل ہیں :


1۔ ورزش باقائدگی سے کریں

اگرآپ ورزش کواپنی عادت اورروٹین کاحصہ بنالیں تو کوئی شک نہیں آپ کاوزن بڑھے گانہیں اوراگر…مزید جانئے

2۔زندگی میں بیلنس بنائے رکھیں

مثال کے طور پر ذہنی پریشانی جسمانی صحت پر برا اثر ڈالتی ہے اور اکثر ہمیں بیمار کردیتی ہے ۔اس لیے ذہن و بدن میں ایک صحت مند توازن قائم ہونا ضروری ہے۔
ہماری…مزید جانئے

3۔صحت بخش غذا کھائیں

اگر آپ فوری طورپرقوت مدافعت میں اضافہ کے خواہشمند ہیں تو اپنی غذامیں ان چیزوں جیسے حل پذیر فائبر اورگہرے پتوں اوررنگوں والی سبزیاں وغیرہ کااستعمال آج ہی سے…مزید جانئے

4۔صحت بخش فیٹس کا استعمال کریں

زیادہ تر کوکنگ آئل میں شامل چکنائی وزن کو بڑھاتی ہے اس لیے لوگ تیل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہتے ہیں لیکن بہت سے تیل ایسے بھی ہیں جو وزن کم…مزید جانئے

5۔ورزش کو آسان بنائیں

مضبوط پٹھوں،صحت مند اور بیماریوں سے دور زندگی گزارنے کے لئے ورزش بے حد ضروری ہے۔مندرجہ ذیل 8ورزشیں ایسی ہیں جو…مزید جانئے

The post فٹنس ٹرینرز ہمیشہ فٹ کیسے رہتے ہیں؟وڈیو appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے https://htv.com.pk/ur/womens-health/periods Mon, 20 Aug 2018 13:24:17 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=29955 periods

 مہینے کے ان دنوں میں مجھے گھرمیں یہاں وہاں گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔ کراچی کی رہائشی تیرہ سالہ بچی ساجدہ نے اپنے چہرہ کوچادرسے ڈھکتے ہوئے کہا۔ساجدہ کوداغ لگ جانے یاشرمندگی کے ڈرسے مہینے کے پانچ دن توضرورچھٹی کرناپڑجاتی تھی جس سے اس کی پڑھائی کا خاصہ حرج ہوتاتھا۔کپڑے پرداغ لگ جاناہی ایک […]

The post ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
periods
مہینے کے ان دنوں میں مجھے گھرمیں یہاں وہاں گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔ کراچی کی رہائشی تیرہ سالہ بچی ساجدہ نے اپنے چہرہ کوچادرسے ڈھکتے ہوئے کہا۔ساجدہ کوداغ لگ جانے یاشرمندگی کے ڈرسے مہینے کے پانچ دن توضرورچھٹی کرناپڑجاتی تھی جس سے اس کی پڑھائی کا خاصہ حرج ہوتاتھا۔کپڑے پرداغ لگ جاناہی ایک وجہ نہیںبلکہ کئی اوروجوہات کی بناء پرمعاشرہ پیریڈز یعنی ماہواری کوشرم کاباعث سمجھتاہے اورلوگ اس بارے میں بات نہیں کرناچاہتے۔

ناپاکی اوردیگرچیزوں کوبہانہ بناکرخواتین کوکمروں میں بندکردیاجاتاہے اوروہ مفلوج ہوکررہ جاتی ہیں۔UNICEFکے ایک ایس ایم ایس پول کے مطابق جب 700لڑکیوں کی آراء لی گئی تو معلوم ہواکہ 29فیصد پاکستانی لڑکیاں اورعورتیںپیریڈز کے دنوں میں داغ کے ڈرسے اپنے اسکول اوردیگرکاموں پرنہیں جاتیں۔
یہاں نہایت کم عمرلڑکیوں کویہ سکھایاجاتاہے کہ وہ اپنے نجی معاملات اپنے تک ہی رکھیں۔خاص طورپرجن معاملات کاتعلق ان کے جسم سے ہوتاہے۔اسی وجہ سے نوجوان لڑکیاں ذاتی طورپرخود سے اپنے پیریڈ کے مسائل کومنظم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں اوران دنوںنہایت محتاط رہتی ہیں۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثرلڑکیوں کواس مسئلے کے بارے میں مناسب معلومات حاصل نہیں ہوتی۔
جب پاکستانی خواتین سے ان کے پہلے پیریڈ کے بارے میں سوال پوچھاجاتاہے تو خواتین کی بڑی تعدادیہی جواب دیتی ہے کہ انھیں اپنے پہلے پیریڈسے پہلے ماہواری کے بارے میں کچھ معلومات حاصل نہیں تھیں۔کچھ خواتین نے اپنے پہلے پیریڈ کے بارے میں خطرناک اوردھچکہ لگنے والے احساسات کاتذکرہ کیا جوانھوں نے پہلی دفعہ آنے والے خون کو دیکھنے پرمحسوس کیا۔بہت سی کم عمرلڑکیوں نے توبتایاکہ انھیں لگاکہ اب وہ مرنے والی ہیں اورانھیں سمجھ ہی نہیں آیاکہ کیاکریں اورکس سے مددطلب کریں۔

مندرجہ بالاUNICEF سروے کے مطابق یہ بھی پتاچلاہے کہ49 فیصد پاکستانی لڑکیاں اپنے پہلے پیریڈ سے پہلے حیض کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔

2017 میںریئل میڈیسن فاؤنڈیشن نے بتایاکہ پاکستان میں79 فیصد خواتین اپنی حیض کی مدت کوحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں گزارتی ہیں۔یہ سب تولیدی صحت کی تعلیم،ماہواری سے متعلق مکمل آگاہی اوراس کی صحت وصفائی کے اصولوں پرمنظم طریقے سے عمل کرنے سے متعلق شعوراوررسائی کی کمی کانتیجہ ہے۔پاکستان بھرمیں خواتین کے لئے حیض کاانتظام ایک اہم چیلنج ہے۔خاص طورپرکم آمدنی کے باعث جس کی وجہ سے خواتین کوصاف پانی،واش روم اورصفائی رکھنے والی مصنوعات دستیاب نہیں۔بات چیت کافقدان اورممنوعہ موضوع ہونے کی وجہ سے خواتین اپنے مسائل کااظہارنہیں کرپاتی جسکی وجہ سے حیض کی یہ مدت ان کے لئے مزید مشکلات کاباعث بنتی ہے۔خاص طورپرپاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشرتی،ثقافتی اورمذہبی پابندیاں زندگی کی وضاحت کرتی ہیں۔
ہمارے ہاںخریدنے کی سکت نہ ہونابھی ابھی تک ایک اہم مسئلہ ہے۔یہ سبب بھی ماہواری میں حفظان صحت کے اصولوں پراثراندازہوتاہے۔پاکستان میں زیادہ ترلڑکیوں اورعورتوں کوحیض کی اہم مصنوعات اورٹوائیلٹ جیسی بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔اسی وجہ سے داغ کے خوف کے باعث وہ اپنی روزمرہ سرگرمیاں ترک کردیتی ہیںاورباقاعدہ انفیکشن کاشکارہوجاتی ہیں۔لڑکیاں اورخواتین پیریڈ میں آنے والے خون کے بندوبست کے لئے پرانے کپڑے،ٹکڑے،موزے،پتے حتٰی کے راکھ تک کااستعمال کرتی ہیں۔یہ تمام معاملات انفیکشن اوردیگرامراض کاسبب بنتے ہیں جس سے وہ بے خبرہوتی ہیں۔
پاکستان میں حیض کے حفظان صحت کے اصولوں کومانیٹرکرنے والوں کاکہناہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے پسماندہ طبقے کوبڑی مشکلات کاسامناہے۔ہمارا مقصد ہے کہ حیض کے معمولات کوصحت مند عمل کے طورپرلاگوکریں اوراس عمل کوخواتین کی لائف سائیکل کامثبت حصہ بنائیں۔ ہمارا مقصد غریب خواتین کوصرف حیض کی تعلیم دینانہیں بلکہ انھیںصفائی کی بنیادی مصنوعات کی دستیابی بھی ہے۔جس کی مددسے وہ محفوظ اورصحت مندطریقے سے اعتماداوروقارکے ساتھ حیض کی مدت گزاریں۔یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان میں پیریڈ کومعمول کاحصہ سمجھیں تاکہ خواتین اورلڑکیاں حیض کی مدت کواعتماد اوروقار کے ساتھ گزارسکیں۔

تحریر : ثناء لوکھنڈوالا

ترجمہ : سائرہ شاہد

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

The post ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
تیزابیت سے چھٹکارا پانا ہے تو ان 7غذاؤں کا استعمال کریں https://htv.com.pk/ur/nutrition/acidity-reflux Tue, 22 May 2018 06:34:02 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28204 Acidity

ایسڈٹی  یعنی تیزابیت دنیابھرمیں ہونے والاایک اہم مسئلہ ہے۔لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہترغذاکااستعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدارزیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعدایسڈٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی […]

The post تیزابیت سے چھٹکارا پانا ہے تو ان 7غذاؤں کا استعمال کریں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
Acidity

ایسڈٹی  یعنی تیزابیت دنیابھرمیں ہونے والاایک اہم مسئلہ ہے۔لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہترغذاکااستعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدارزیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعدایسڈٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے۔ اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے سے غذائی نالی کاخارجی راستہ بند ہوجاتاہے۔اس سے ایسڈٹی کی شکایت ہوتی ہے جس کے باعث گیسٹروکامرض لاحق ہونے کاخطرہ رہتاہے۔

 

اگرغذاکاصحیح انتخاب کیاجائے تو تیزابیت سے بچاجاسکتاہے۔کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کوکم کیاجاسکتاہے۔گیسٹرک ایسڈ سے بچنے کے لئے ان غذاؤں کاروزمرہ استعمال مفید رہتاہے۔

1۔ادرک

تیزابیت میں ادرک کااستعمال بہترین ہے۔ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن ،بدہضمی اورپیٹ کے دیگرامراض میں بھی مفید ہے۔اگرآپ کوتیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے میں جلن کی شکایت بھی ہوتوادرک کاقہوہ بناکرجب وہ روم ٹمپریچرپرآجائے تو پی لیں۔تازہ ادرک کاچھوٹاٹکڑاسمودھی ،سیریل اوردیگرغذاؤں کے ساتھ لیاجاسکتا ہے۔

2۔ہرے پتوں کی سبزیاں

ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک ،پودینا،دھنیا،میتھی،کیلے،بندگوبھی وغیرہ کو اگراپنی روزمرہ غذاکاحصہ بنالیاجائے تو تیزابیت کی شکایت سے چھٹکاراپایاجاسکتاہے۔تیزابیت کامسئلہ ہوتاہی غذاکے غلط استعمال کے سبب ہے ۔ اگرغذاکامتوازن استعمال کیاجائے تو اس مسئلے سے بچاجاسکتاہے۔

مزید جانئے :ہاضمہ درست کرنے کے لیے ورزش کریں

3۔دہی

جب بھی سینے میں جلن اورایسڈٹی کی شکایت ہوتو ایک پیالہ ٹھنڈادہی استعمال کریں۔دہی کھانے کے بعد آپ خود حیران رہ جائیں گے کہ کتنی جلدی آپ کی طبیعت میں بہتری آتی ہے۔دہی میں کیلایاخربوزہ شامل کرکے آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔دہی کی غذائیت مسئلہ کوختم کرکے آپ کوتوانائی بھی فراہم کرتی ہے۔

4۔کیلا

کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لئے یہ ایسڈٹی میں کارآمد رہتاہے۔کسی بھی ایسے مسئلے کے پیش نظرآپ ایک سے دوکیلے کھاسکتے ہیں۔ کیلے ذائقہ میں مزیدارہوتے ہیں اسی لئے اسے کھانامشکل نہیں ہوتا۔اس کے استعمال سے آپ کم وقت میں طبیعت میں کافی بہتری محسوس کریں گے۔

مزید جانئے :تیزابیت گھر میں موجود چیزوں سے ختم کریں

5۔جوکادلیہ

ناشتے میں جوکادلیہ تیزابیت کاشکارافراد کے لئے بہترین آپشن ہے۔اسمیں موجود فائبر اپھارہ اورواٹرریٹنشن کوکنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے۔یہ پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کوجذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔اس مسئلہ کے لئے کچھ اورفائبرسے لبریز غذائیں جیسے گندم اورچاول کی پروڈکٹ بھی فائدہ مند رہتی ہیں۔

6۔خربوزہ

خربوزہ ایک الکلائن پھل ہے۔ایسڈٹی کی شکایت میں آپ اسے ڈائریکٹ ٹھنڈاکرکے یااسمودھی کے طورپربھی لے سکتے ہیں۔یہ پیٹ کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔اس کے استعمال سے منٹوں میں آرام آتاہے۔گرمی میں ہونے والی پانی کی کمی کودورکرکے پیٹ کوصحت مند رکھتاہے۔

7۔چیونگم

چیونگم چبانے سے چند ہی سیکنڈو ں میں آپ محسوس کریں گے کہ ایسڈٹی کی علامات میں کمی واقع ہوئی ہے۔چیونگم سے سلیواکی پیداوارمیں اضافہ ہوتاہے جس کی وجہ سے تیزابیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔یہ نہایت سستااورکارآمد طریقہ ہے۔جسے آسانی سے استعمال کیاجاسکتاہے۔

انگریزی میں پڑھئے 

تحریر : قاضی طلحہ

ترجمہ :سائرہ شاہد


The post تیزابیت سے چھٹکارا پانا ہے تو ان 7غذاؤں کا استعمال کریں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فہد مرزا بوٹوکس ٹریٹمنٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں https://htv.com.pk/ur/beauty/pinched-perfect-botox Mon, 21 May 2018 07:24:13 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28159 Fahad Mirza on Botox

 یہ سچ ہے کہ پلاسٹک سرجری کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ہا لی وڈ میں مقبول ڈک پائوٹ(ہونٹوں کی بناوٹ)سپاٹ ماتھا اور باربی جیسا جسم آجاتا ہے۔لیکن اب کاسمیٹک سرجری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے قدرتی طریقوں یعنی کے نیچرل بیوٹی پر بات کرنی شرو ع کردی ہے ۔ […]

The post معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فہد مرزا بوٹوکس ٹریٹمنٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
Fahad Mirza on Botox

 یہ سچ ہے کہ پلاسٹک سرجری کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ہا لی وڈ میں مقبول ڈک پائوٹ(ہونٹوں کی بناوٹ)سپاٹ ماتھا اور باربی جیسا جسم آجاتا ہے۔لیکن اب کاسمیٹک سرجری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے قدرتی طریقوں یعنی کے نیچرل بیوٹی پر بات کرنی شرو ع کردی ہے ۔
فیشن کی دنیا میں اہمیت کی حامل ہونے کے باوجود کاسمیٹک سرجری کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، خاص طور سے اس موقع پر جب سرجری کرانے کے فنکاروں اور ماڈلز وغیرہ کے چہرے پہچان میں بھی نہیں آتے، جوکہ کافی حد تک درست بھی ہے ۔

 ڈاکٹر مرزا ضیاء الدین میڈیکل یونیور سٹی کے کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن ہیں جو اس شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ آپ ایک ماڈل اوراداکار کی حیثیت سے بھی کافی مشہور ہیں ۔ ڈاکٹر مرزا (جو اپنا 99 فیصد وقت اپنے میڈیکل شعبے کو دیتے ہیں) اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خوبصورتی ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا ۔

خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے

سائنسی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ خوبصورتی کے بارے میں ہمارے مشاہدے کا ہمارے اندرونی احساسات سے گہرا تعلق ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی کا چہرہ ہماری دیکھنے اور جاننے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔خوبصورتی کا ریشو جسے گولڈن ریشو بھی کہتے ہیں وہ 1.618ہے۔ اس ریشو میں جو بھی چہرہ فٹ بیٹھے گا آنکھوں کو اچھا لگے گا۔

ڈاکٹر فہد مرزا اس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ خوبصورتی پر کسی خاص نسل یارنگ کی اجارہ داری نہیں ۔ـ’اس بات سے بالکل قطع نظر کہ آپ کون ہیں انسانی ذہن ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس بات کا فیصلہ کر لیتا ہے کہ جو چہرہ آپ دیکھ رہے ہیں وہ خوبصورت ہے یا نہیں۔اس کا دارومدارڈیوائن ریشو یا گولڈن ریشو (1.618) پر ہے جو کہ انسانی آنکھ کو سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے ۔‘

اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ بات برملا کہنا چاہوں گی کہ آپ کے پیشے کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ آپ لوگوں کی خوبصورت دکھنے کی خواہش کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں جب کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح سے آپ نے خوبصورت کا ایک مخصوص معیار سیٹ کردیا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ :

’دیکھئے بوڑھا ہونا تو ہمارے ہاتھ میں نہیں لیکن بوڑھا دکھنا نہ دکھنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔اگر کوئی عمل آپ کی اصل عمر میں سے5 سے 10 سال کم کرنے میں مدد دے تو اسمیں کیا مذائقہ ہے؟میں اس کی حمایت نہیں کرتا لیکن یہ تو معاشرے کا معیار ہے جو اس پرپورا نہ اترے لوگ اُس پر تنقید کرنے لگتے ہیں۔اگر ہم کسی شخص کو اس کی احساس ِکمتری سے باہر نکالنے میں مدد کرتے ہیں تو اس میںکوئی حرج نہیں۔ـ‘

بوٹوکس اور فلرزکے بارے میں کونسی باتیں جاننا ضروری ہیں؟

عمر کے بڑھنے کے ساتھ آپ کی جلد پتلی اور کمزورہوتی جاتی ہے۔جس طرح کپڑا بنانے کے لئے دھاگے کا تانہ بانہ بنا جاتا ہے اسی طر ح کولاجن اور ایلاسٹن ہماری جلد کو تشکیل دیتے ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ ان دونوں چیزوں میں کمی جلد کو ڈھیلا اور کمزور بنادیتی ہے ۔ جس سے کھال لٹک جاتی ہےلیکن آپ کے چہرے کے مسلز مضبوط رہتے ہیں۔

مسلز میں کھنچاؤ کے نتیجے میںماتھے پر لکیریں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بوٹوکس ان پٹھوں کو کمزور کرکے جلد کو ہموار اور بیلنس بناتا ہے۔ جن مسلز میں انجیکشن لگتا ہے وہ مزید نہیں سکڑتے جس کی وجہ سے جھریاں یا لکیریں نرم پڑ جاتی ہیں ۔یہ اینٹی ایجنگ بھی کہلاتا ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ یہ لکیریں جلد پر مستقل طور پر بن جاتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے آپ کی ہتھیلی کی لکیریں ہوتی ہیں۔’ 45 سال کی عمر کے بعد بوٹوکس کا استعمال کرلینا اچھا ہے کیونکہ اس میںاینٹی ایجنگ خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بے بی بوٹولس بھی کہا جاتا ہےجو جلد کے مسلز کو معمولی نقصان پہنچا کر اس کی لچک کو قائم رکھتا ہے۔یہ انجیکشنز آپ کو ایسی قدرتی خوبصورتی فراہم کرتے ہیں جس کی امید بوٹوکس سے عموماً نہیں کی جاتی ۔’
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ چہرہ جتنا پتلا ہوگا اتنا ہی جوان دکھے گا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چہرہ جتنا بھرا ہوا ہوگا اتنا ہی جوان نظر آئے گا ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جب چہرے کے فیٹس کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو آپ کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔ـ”آپ بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کے آپ کی آنکھ کا نچلا پپوٹہ کہاں ختم ہورہا ہے اور گال کہاں سے شروع ہورہے ہیں۔ یہ والیوم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ فلرز جو ہائیلورونک ایسڈ سے بنتا ہے والیوم کی اس کمی کو دور کرتا ہے اور جلد کو تازگی فراہم کرتا ہے۔اس کے اثرات کتنے عرصے تک قائم رہتے ہیں اس کا دارومدار مختلف عوامل پر ہوتا ہے لیکن یہ عرصہ چھ ماہ سے ایک سال یا 18ماہ تک ہو سکتا ہے۔’
ڈاکٹر فہد اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلرز کے سنگین سائڈ افیکٹس ہوتے ہیں۔اگر یہ انجیکشن نسوں میں لگایا جائے تو اندھا پن یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔یہ ہدایت بھی دی جاتی ہے کہ بوٹوکس انجیکشن لگوانے کے بعد کم ازکم 4گھنٹے سیدھا بیٹھا جائے۔ لیٹنا، بھاگنا یا اچھل کود کرنا منع ہوتا ہے۔ یہ دوا جسم میں داخل کرنے کے بعد ایک خوراک اینٹی  بائیوٹک کی بھی دی جاتی ہے۔

پلاسٹک سرجری کا عمل :

آپ کے خیال میں یہ عمل کس عمر میں کرانا مناسب ہے؟

’یہ بات تو طے ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر مریض، جو جلد کو خوبصورت بنانے کا کوئی عمل کرانا چاہتے ہوں، کا علاج نہیں کرتا ۔ چہرے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرانے کے خواہش مند افراد جن کی عمر 21سال سے کم ہو ، ایسے مریضوں کو بھی میں نہیں دیکھتا کیوںکہ ان کے چہرے کی بناوٹ ابھی بھی تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔‘اُن کے خیال میں30یا اس سے زیادہ عمر کے وہ لوگ اس عمل کے لئے موضوع ہیں جو اس سے پوری طرح واقف ہیں اور اپنے اندر بہتری لانے کے خواہش مند ہیں ۔

مزید جانئے: بڑی عمر میں ایکنی سے نجات حاصل کرنے کے 5 حل

مرد اور عورتوں میں چاہے وہ خاص شخصیات ہوں یا عام لوگ، یہ ٹریٹمنٹ کرانے کا کیا تناسب ہے؟

جوان نظر آنے کے لئے عورتوں کا اس طرف زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ۔اس عمل کو کروانے والے 10میں سے9مریض خواتین ہوتی ہیں۔ مرد زیادہ تر بالوں کے پتلا ہونے کی وجہ سے رابطہ کرتے ہیں جس کا علاج کامیابی سے کیا جاتا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ہماری میڈیا انڈسٹری کے لو گ یہ ٹریٹمنٹ کرانے سے بالکل نہیں شرماتے۔’مرد حضرات اپنی تھوڑی،ناک اور جبڑوں کی ہڈی کو بڑھانے کے لئے فلرز کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ ان کے کام میں سب سے زیادہ فوقیت شکل صورت کو دی جاتی ہے۔گلیمر کی دنیا میں یہ تناسب مردوں میں40  فیصد اور خواتین میں 60 فیصد ہے۔‘

کرداشیان کو کم اور میگھن مارکل کو زیادہ ذہن میں لائیں :

فنکاری میں چہرے کے تاثرات کا اظہار نہایت ضروری ہوتا ہے ۔جبکہ ہمیں زیادہ تعداد میں ایسے اداکار دیکھنے کو ملتے ہیں جن کے چہرے بالکل سپاٹ ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خوبصورت دکھائی دینے یا جھریوں اور لکیروں کو چھپانے کی خواہش میں یہ ٹریٹمنٹ کراچکے ہیں۔فن کی اس گہرائی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں ؟یہاں تک کہ اداکارہ نکول کڈمین نے بوٹوکس کو چھوڑنے کے بعدایک بار اس کے بارے میں کہا ،’ میں اب اس کا استعمال نہیں کرتی لہٰذا اب میں اپنے ماتھے کو دوبارہ حرکت دے سکتی ہوں۔‘

مزید جانئے :وٹامنزمیں چھپے صحت کے راز

یہ حقیقت ہے کہ بوٹوکس مسلز کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اگر آپ نے ان مسائل کا ایک ہی حل نکال لیا ہے تو آپ کو جذبات سے عاری چہرہ بھی قبول کرنا پڑے گا۔آپ کی جھریاں تو ختم ہو جائیںگی لیکن ساتھ ہی آپ چہرے کے تاثرات کا اظہار بھی نہیں کرسکیں گے۔’اچھے معالج جن میںمیں بھی شامل ہوں مریض کی صلاحیت اور جنس کے لحاظ سے دوا کی صحیح مقدار کا تعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بے بی بوٹوکس کا مشورہ دیتے ہیںجو دونوں طرح مفید ہے ،جھریوں سے پاک چہرہ اور تاثرات کے اظہار میں تھوڑا سا سمجھوتہ۔‘

ان تمام جدتوں اور معلومات کے باوجودہمیں یہ کیوں لگتا ہے کہ یہ کام ناصرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں نا پسندیدہ ہے ؟
اس کا حل یہ ہے کہ خوبصورتی کو نارمل سمجھا جائے۔وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ آپ نیا چہرہ نہیں بنا سکتے ؛آپ صرف ان نقوش کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ایک تجربہ کارتربیت یافتہ ڈاکٹر کو باکمال نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ خوبصورت بنانے کے اس کام کو مہارت کے ساتھ انجام دے سکے۔کیونکہ یہ کام چہرے کی تراش خراش سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔

فوٹو شاپ سے بہتر :

چلیں ہم بات کرتے ہیں جون میئر کی ،ا س کاووکل کورڈجب خراب ہوگیاتو دوبارہ گانے کے لئے اس نے دو چیزوں کا سہارا لیا ایک سرجری اور دوسرا بٹکس انجیکشن۔ماہرین ایک سے زیادہ طریقوں کے ذریعے ٹوکسن کا استعمال کرنا جانتے ہیں ۔کیا ان کے استعمال کے بارے میں پاکستان میں بھی یہ معلومات عام ہے؟

یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ بوٹوکس کا طریقہ کار عارضی طور پر مسلز کو مفلوج کرکے جھریوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ماہرین اب مائیگرین،ڈپریشن اور سیریبرل پالسے کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے بھی اس پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔البتہ یہ ایک خطرناک دوا ہے جو موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اگریہ انجیکشن خون میں شامل ہو جائے تو سانس لینے والے مسلز کو مفلوج کر سکتا ہے لہٰذا صرف ایک مخصوص مقدارماہرین کی زیر نگرانی دینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔اب دنیا میں ان نون کاسمیٹک طریقوں کو اپنایا جارہا ہے۔

خود نمائی کا شوق اوردیوانگی :

کیا کبھی کوئی ایسی صورت حال بھی پیش آئی ہے کہ آپ نے کسی مریض کو کسی وجہ سے انکار کیا ہو؟

میں کسی مریض کو علاج کے لئے انکار تو نہیں کرسکتا لیکن اس علاج کے لئے اس کے حوصلے کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ میں مریض کو اپنے اندر خود بہتری لانے پر آمادہ کرتا ہوں ۔عرصہ دراز سے لوگ یہ سمجھتے آرہے ہیں کہ یہ طریقہ کار ان کی ازدواجی زندگی کو محفوظ رکھنے یا دوسروں کومتاثرکرنے میں کارآمد رہے گا لیکن ایسے مریضوں کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے جو اپنی ظاہری شکل وصورت میں بہتری نہیں لانا چاہتے اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کا علاج کرکے میں ان کے مسائل کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ اس لئے اس طرح کے بہت سے مریضوں کو میں انکار کرچکا ہوں ۔

آپ کا پیغام ایسے نو عمر افراد کے لئے جو اپنے لئے خوبصورتی کے غیر حقیقی اور مضرِصحت معیار سیٹ کر لیتے ہیں

یہ صحیح نہیں ہوگا کہ میں اس بات کا درس دوں جس پر میں خود عمل نہیں کرتا یہ میرا روزانہ کا کام ہے۔میرا تعلق ایسے شعبے سے ہے جہاں خوبصورت دکھنا ضروری ہے۔ڈاکٹرمرزا اچھی جلد کے لئے ان لوگوں کو جم جانے،اور زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں ساتھ ہی سن بلاک اور نائٹ کریموں کے استعمال پر بھی زور دیتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جو کچھ آپ کو قدرت نے عطا کیا ہے آپ اس کی حفاظت کریں۔کاسمیٹکس پروسیجر کا استعمال اس صورت میں کیا جائے جبکہ مقصد چہرے کو بالکل بدل دینے کے بجائے تحفظ فراہم کرنا ہو۔اگر آپ مسئلے کا شکار ہیں تو اس کو حل کریں لیکن اسے مقابلے کے طور پر نہ اپنائیں۔

یہ آرٹیکل انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

ترجمہ : سعدیہ اویس

The post معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فہد مرزا بوٹوکس ٹریٹمنٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
گھٹنوں کے درد سے نجات پانے کے گھریلو ٹوٹکے https://htv.com.pk/ur/health/remedies-for-knee-pain Wed, 18 Apr 2018 11:42:35 +0000 http://htv.com.pk/ur/?p=8151

 گھٹنوں میں درد رہنا ان دنوں ایک عام بات ہے۔ یوں تو گھٹنوں میں درد رہنے کی شکایت عموماً عمررسیدہ افراد کو رہتی ہے لیکن آج کل خوراک میں کیلشیم اور دیگر غذائی اجزا کی کمی کے باعث کم عمری میں بھی ہڈیاں اور جوڑ درد کرنے لگتے ہیں۔ مردوں سے زیادہ عورتیں اس تکلیف […]

The post گھٹنوں کے درد سے نجات پانے کے گھریلو ٹوٹکے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

 گھٹنوں میں درد رہنا ان دنوں ایک عام بات ہے۔ یوں تو گھٹنوں میں درد رہنے کی شکایت عموماً عمررسیدہ افراد کو رہتی ہے لیکن آج کل خوراک میں کیلشیم اور دیگر غذائی اجزا کی کمی کے باعث کم عمری میں بھی ہڈیاں اور جوڑ درد کرنے لگتے ہیں۔
مردوں سے زیادہ عورتیں اس تکلیف سے دو چار رہتی ہیں ۔ یہ درد گھٹنے کے کسی خاص حصے میں بھی ہو سکتا ہے اور پورے گھٹنے میں بھی ۔
ان گھریلو ٹوٹکوں سے اس درد میں کافی حد تک راحت مل سکتی ہے ۔ خاص طور سے اگر درد ہلکی نوعیت کا ہو تو ان طریقوں کو ضرور آزما کر دیکھیں ۔

سکائی

ہڈیوں کا درد دور کرنے کا سب سے پرانا اور آزمود ہ طریقہ درد والی جگہ کی سکائی کرنا ہے ۔ کسی ٹھنڈی چیز سے گھٹنوں کی سکائی کرنے سے اس جگہ نسوں میں خون کی روانی کم ہوجاتی ہے جس سے سوجن کم ہوجاتی ہے ۔ اس سے درد بھی کم ہو جاتا ہے ۔

1۔ ایک مٹھی برف کے کیوب لے کرانہیں ایک پتلے تولیئے میں لپیٹ لیں ۔
2۔ اس سے درد والی جگہ کی 10سے 20منٹ تک سکائی کریں۔
3۔ اس عمل کو دن میں 2سے3بار دہرائیں ۔

سرکہ

sirka
1۔ دو کپ پانی میں دو چھوٹے چمچ سرکہ شامل کرلیں۔ اس سیال کو دن بھر میں تھوڑا تھوڑاکر کے پئیں ۔ اس ٹانک کے روزانہ استعمال سے گھٹنوں میں درد میں کمی واقع ہو جائے گی ۔
2۔ اس کے علاوہ گرم پانی کے ٹب میں ایک سے دو کپ سرکے کے شامل کرکے اس میں 30منٹ کے لیے گھٹنوں کو بھگونے سے بھی کافی فائدہ ہوتا ہے ۔
3۔ زیتون کے تیل کو سرکے کے ساتھ ہم وزن ملا کر اس کا گھٹنوں پر مساج کرنا مفید ہے ۔

ادرک

1۔ ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں 10منٹ کے لیے ابال لیں ۔اس چائے کو چھان کر اس میں تھوڑا سا شہد اور لیمبو کے چند قطرے ڈال کر پی لیں ۔ اس چائے کو دن میں 2سے 3بار پیا جا سکتا ہے ۔
2۔ادرک کے تیل سے گھٹنوں کی مالش بھی درد دور کرنے میں معاون ہو سکتی ہے ۔

ہلدی

haldi
1۔ ایک چھوٹا چمچ پسا ہوا ادرک اور ایک چھوٹا چمچ ہلدی ایک کپ پانی میں ڈال کر 10منٹ کے لیے ابالیں ۔اسے چھان کر تھوڑا سا شہد شامل کریں۔ اس سیال کو دن میں دو بار استعمال کریں ۔
2۔ گرم دودھ میں ایک چھوٹا چمچ ہلدی اور تھوڑا سا شہد ڈال کر بھی گھٹنوں کا درد دود کرنے کے لیے پیا جاسکتا ہے ۔

لیمبو

limbo
1۔ ایک سے دو لیمبو لے کر انہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں ۔
2۔ان ٹکڑوں کو ایک ململ کے کپڑے میں باندھ لیں ۔اس پوٹلی کو تل کے گرم تیل میں تھوڑی دیر کے لیے بھگو دیں۔
3۔ پھر گھٹنوں پر رکھ کر 10سے15منٹ کے لیے چھوڑ دیں ۔

روزانہ صبح گرم پانی میں لیمبو کا عرق ڈال کر نہار منہ پینا گھٹنوں کے درد میں راحت دیتا ہے ۔

مزید جانئے: دس عادتیں اپنائیں اور کمر کا درد بھول جائیں


The post گھٹنوں کے درد سے نجات پانے کے گھریلو ٹوٹکے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>