معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فہد مرزا بوٹوکس ٹریٹمنٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں

2,054

 یہ سچ ہے کہ پلاسٹک سرجری کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ہا لی وڈ میں مقبول ڈک پائوٹ(ہونٹوں کی بناوٹ)سپاٹ ماتھا اور باربی جیسا جسم آجاتا ہے۔لیکن اب کاسمیٹک سرجری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے قدرتی طریقوں یعنی کے نیچرل بیوٹی پر بات کرنی شرو ع کردی ہے ۔
فیشن کی دنیا میں اہمیت کی حامل ہونے کے باوجود کاسمیٹک سرجری کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، خاص طور سے اس موقع پر جب سرجری کرانے کے فنکاروں اور ماڈلز وغیرہ کے چہرے پہچان میں بھی نہیں آتے، جوکہ کافی حد تک درست بھی ہے ۔

 ڈاکٹر مرزا ضیاء الدین میڈیکل یونیور سٹی کے کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن ہیں جو اس شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ آپ ایک ماڈل اوراداکار کی حیثیت سے بھی کافی مشہور ہیں ۔ ڈاکٹر مرزا (جو اپنا 99 فیصد وقت اپنے میڈیکل شعبے کو دیتے ہیں) اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خوبصورتی ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا ۔

خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے

سائنسی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ خوبصورتی کے بارے میں ہمارے مشاہدے کا ہمارے اندرونی احساسات سے گہرا تعلق ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی کا چہرہ ہماری دیکھنے اور جاننے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔خوبصورتی کا ریشو جسے گولڈن ریشو بھی کہتے ہیں وہ 1.618ہے۔ اس ریشو میں جو بھی چہرہ فٹ بیٹھے گا آنکھوں کو اچھا لگے گا۔

ڈاکٹر فہد مرزا اس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ خوبصورتی پر کسی خاص نسل یارنگ کی اجارہ داری نہیں ۔ـ’اس بات سے بالکل قطع نظر کہ آپ کون ہیں انسانی ذہن ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس بات کا فیصلہ کر لیتا ہے کہ جو چہرہ آپ دیکھ رہے ہیں وہ خوبصورت ہے یا نہیں۔اس کا دارومدارڈیوائن ریشو یا گولڈن ریشو (1.618) پر ہے جو کہ انسانی آنکھ کو سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے ۔‘

اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ بات برملا کہنا چاہوں گی کہ آپ کے پیشے کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ آپ لوگوں کی خوبصورت دکھنے کی خواہش کو پورا کرنے میں مدد کرتے ہیں جب کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح سے آپ نے خوبصورت کا ایک مخصوص معیار سیٹ کردیا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ :

’دیکھئے بوڑھا ہونا تو ہمارے ہاتھ میں نہیں لیکن بوڑھا دکھنا نہ دکھنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔اگر کوئی عمل آپ کی اصل عمر میں سے5 سے 10 سال کم کرنے میں مدد دے تو اسمیں کیا مذائقہ ہے؟میں اس کی حمایت نہیں کرتا لیکن یہ تو معاشرے کا معیار ہے جو اس پرپورا نہ اترے لوگ اُس پر تنقید کرنے لگتے ہیں۔اگر ہم کسی شخص کو اس کی احساس ِکمتری سے باہر نکالنے میں مدد کرتے ہیں تو اس میںکوئی حرج نہیں۔ـ‘

بوٹوکس اور فلرزکے بارے میں کونسی باتیں جاننا ضروری ہیں؟

عمر کے بڑھنے کے ساتھ آپ کی جلد پتلی اور کمزورہوتی جاتی ہے۔جس طرح کپڑا بنانے کے لئے دھاگے کا تانہ بانہ بنا جاتا ہے اسی طر ح کولاجن اور ایلاسٹن ہماری جلد کو تشکیل دیتے ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ ان دونوں چیزوں میں کمی جلد کو ڈھیلا اور کمزور بنادیتی ہے ۔ جس سے کھال لٹک جاتی ہےلیکن آپ کے چہرے کے مسلز مضبوط رہتے ہیں۔

مسلز میں کھنچاؤ کے نتیجے میںماتھے پر لکیریں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بوٹوکس ان پٹھوں کو کمزور کرکے جلد کو ہموار اور بیلنس بناتا ہے۔ جن مسلز میں انجیکشن لگتا ہے وہ مزید نہیں سکڑتے جس کی وجہ سے جھریاں یا لکیریں نرم پڑ جاتی ہیں ۔یہ اینٹی ایجنگ بھی کہلاتا ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ یہ لکیریں جلد پر مستقل طور پر بن جاتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے آپ کی ہتھیلی کی لکیریں ہوتی ہیں۔’ 45 سال کی عمر کے بعد بوٹوکس کا استعمال کرلینا اچھا ہے کیونکہ اس میںاینٹی ایجنگ خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسے بے بی بوٹولس بھی کہا جاتا ہےجو جلد کے مسلز کو معمولی نقصان پہنچا کر اس کی لچک کو قائم رکھتا ہے۔یہ انجیکشنز آپ کو ایسی قدرتی خوبصورتی فراہم کرتے ہیں جس کی امید بوٹوکس سے عموماً نہیں کی جاتی ۔’
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ چہرہ جتنا پتلا ہوگا اتنا ہی جوان دکھے گا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چہرہ جتنا بھرا ہوا ہوگا اتنا ہی جوان نظر آئے گا ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جب چہرے کے فیٹس کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو آپ کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔ـ”آپ بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کے آپ کی آنکھ کا نچلا پپوٹہ کہاں ختم ہورہا ہے اور گال کہاں سے شروع ہورہے ہیں۔ یہ والیوم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ فلرز جو ہائیلورونک ایسڈ سے بنتا ہے والیوم کی اس کمی کو دور کرتا ہے اور جلد کو تازگی فراہم کرتا ہے۔اس کے اثرات کتنے عرصے تک قائم رہتے ہیں اس کا دارومدار مختلف عوامل پر ہوتا ہے لیکن یہ عرصہ چھ ماہ سے ایک سال یا 18ماہ تک ہو سکتا ہے۔’
ڈاکٹر فہد اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلرز کے سنگین سائڈ افیکٹس ہوتے ہیں۔اگر یہ انجیکشن نسوں میں لگایا جائے تو اندھا پن یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔یہ ہدایت بھی دی جاتی ہے کہ بوٹوکس انجیکشن لگوانے کے بعد کم ازکم 4گھنٹے سیدھا بیٹھا جائے۔ لیٹنا، بھاگنا یا اچھل کود کرنا منع ہوتا ہے۔ یہ دوا جسم میں داخل کرنے کے بعد ایک خوراک اینٹی  بائیوٹک کی بھی دی جاتی ہے۔

پلاسٹک سرجری کا عمل :

آپ کے خیال میں یہ عمل کس عمر میں کرانا مناسب ہے؟

’یہ بات تو طے ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر مریض، جو جلد کو خوبصورت بنانے کا کوئی عمل کرانا چاہتے ہوں، کا علاج نہیں کرتا ۔ چہرے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرانے کے خواہش مند افراد جن کی عمر 21سال سے کم ہو ، ایسے مریضوں کو بھی میں نہیں دیکھتا کیوںکہ ان کے چہرے کی بناوٹ ابھی بھی تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔‘اُن کے خیال میں30یا اس سے زیادہ عمر کے وہ لوگ اس عمل کے لئے موضوع ہیں جو اس سے پوری طرح واقف ہیں اور اپنے اندر بہتری لانے کے خواہش مند ہیں ۔

مزید جانئے: بڑی عمر میں ایکنی سے نجات حاصل کرنے کے 5 حل

مرد اور عورتوں میں چاہے وہ خاص شخصیات ہوں یا عام لوگ، یہ ٹریٹمنٹ کرانے کا کیا تناسب ہے؟

جوان نظر آنے کے لئے عورتوں کا اس طرف زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے ۔اس عمل کو کروانے والے 10میں سے9مریض خواتین ہوتی ہیں۔ مرد زیادہ تر بالوں کے پتلا ہونے کی وجہ سے رابطہ کرتے ہیں جس کا علاج کامیابی سے کیا جاتا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ہماری میڈیا انڈسٹری کے لو گ یہ ٹریٹمنٹ کرانے سے بالکل نہیں شرماتے۔’مرد حضرات اپنی تھوڑی،ناک اور جبڑوں کی ہڈی کو بڑھانے کے لئے فلرز کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ ان کے کام میں سب سے زیادہ فوقیت شکل صورت کو دی جاتی ہے۔گلیمر کی دنیا میں یہ تناسب مردوں میں40  فیصد اور خواتین میں 60 فیصد ہے۔‘

کرداشیان کو کم اور میگھن مارکل کو زیادہ ذہن میں لائیں :

فنکاری میں چہرے کے تاثرات کا اظہار نہایت ضروری ہوتا ہے ۔جبکہ ہمیں زیادہ تعداد میں ایسے اداکار دیکھنے کو ملتے ہیں جن کے چہرے بالکل سپاٹ ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خوبصورت دکھائی دینے یا جھریوں اور لکیروں کو چھپانے کی خواہش میں یہ ٹریٹمنٹ کراچکے ہیں۔فن کی اس گہرائی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں ؟یہاں تک کہ اداکارہ نکول کڈمین نے بوٹوکس کو چھوڑنے کے بعدایک بار اس کے بارے میں کہا ،’ میں اب اس کا استعمال نہیں کرتی لہٰذا اب میں اپنے ماتھے کو دوبارہ حرکت دے سکتی ہوں۔‘

مزید جانئے :وٹامنزمیں چھپے صحت کے راز

یہ حقیقت ہے کہ بوٹوکس مسلز کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اگر آپ نے ان مسائل کا ایک ہی حل نکال لیا ہے تو آپ کو جذبات سے عاری چہرہ بھی قبول کرنا پڑے گا۔آپ کی جھریاں تو ختم ہو جائیںگی لیکن ساتھ ہی آپ چہرے کے تاثرات کا اظہار بھی نہیں کرسکیں گے۔’اچھے معالج جن میںمیں بھی شامل ہوں مریض کی صلاحیت اور جنس کے لحاظ سے دوا کی صحیح مقدار کا تعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بے بی بوٹوکس کا مشورہ دیتے ہیںجو دونوں طرح مفید ہے ،جھریوں سے پاک چہرہ اور تاثرات کے اظہار میں تھوڑا سا سمجھوتہ۔‘

ان تمام جدتوں اور معلومات کے باوجودہمیں یہ کیوں لگتا ہے کہ یہ کام ناصرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں نا پسندیدہ ہے ؟
اس کا حل یہ ہے کہ خوبصورتی کو نارمل سمجھا جائے۔وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ آپ نیا چہرہ نہیں بنا سکتے ؛آپ صرف ان نقوش کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ایک تجربہ کارتربیت یافتہ ڈاکٹر کو باکمال نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ خوبصورت بنانے کے اس کام کو مہارت کے ساتھ انجام دے سکے۔کیونکہ یہ کام چہرے کی تراش خراش سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔

فوٹو شاپ سے بہتر :

چلیں ہم بات کرتے ہیں جون میئر کی ،ا س کاووکل کورڈجب خراب ہوگیاتو دوبارہ گانے کے لئے اس نے دو چیزوں کا سہارا لیا ایک سرجری اور دوسرا بٹکس انجیکشن۔ماہرین ایک سے زیادہ طریقوں کے ذریعے ٹوکسن کا استعمال کرنا جانتے ہیں ۔کیا ان کے استعمال کے بارے میں پاکستان میں بھی یہ معلومات عام ہے؟

یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ بوٹوکس کا طریقہ کار عارضی طور پر مسلز کو مفلوج کرکے جھریوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ماہرین اب مائیگرین،ڈپریشن اور سیریبرل پالسے کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے بھی اس پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔البتہ یہ ایک خطرناک دوا ہے جو موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اگریہ انجیکشن خون میں شامل ہو جائے تو سانس لینے والے مسلز کو مفلوج کر سکتا ہے لہٰذا صرف ایک مخصوص مقدارماہرین کی زیر نگرانی دینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔اب دنیا میں ان نون کاسمیٹک طریقوں کو اپنایا جارہا ہے۔

خود نمائی کا شوق اوردیوانگی :

کیا کبھی کوئی ایسی صورت حال بھی پیش آئی ہے کہ آپ نے کسی مریض کو کسی وجہ سے انکار کیا ہو؟

میں کسی مریض کو علاج کے لئے انکار تو نہیں کرسکتا لیکن اس علاج کے لئے اس کے حوصلے کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ میں مریض کو اپنے اندر خود بہتری لانے پر آمادہ کرتا ہوں ۔عرصہ دراز سے لوگ یہ سمجھتے آرہے ہیں کہ یہ طریقہ کار ان کی ازدواجی زندگی کو محفوظ رکھنے یا دوسروں کومتاثرکرنے میں کارآمد رہے گا لیکن ایسے مریضوں کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے جو اپنی ظاہری شکل وصورت میں بہتری نہیں لانا چاہتے اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کا علاج کرکے میں ان کے مسائل کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ اس لئے اس طرح کے بہت سے مریضوں کو میں انکار کرچکا ہوں ۔

آپ کا پیغام ایسے نو عمر افراد کے لئے جو اپنے لئے خوبصورتی کے غیر حقیقی اور مضرِصحت معیار سیٹ کر لیتے ہیں

یہ صحیح نہیں ہوگا کہ میں اس بات کا درس دوں جس پر میں خود عمل نہیں کرتا یہ میرا روزانہ کا کام ہے۔میرا تعلق ایسے شعبے سے ہے جہاں خوبصورت دکھنا ضروری ہے۔ڈاکٹرمرزا اچھی جلد کے لئے ان لوگوں کو جم جانے،اور زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں ساتھ ہی سن بلاک اور نائٹ کریموں کے استعمال پر بھی زور دیتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جو کچھ آپ کو قدرت نے عطا کیا ہے آپ اس کی حفاظت کریں۔کاسمیٹکس پروسیجر کا استعمال اس صورت میں کیا جائے جبکہ مقصد چہرے کو بالکل بدل دینے کے بجائے تحفظ فراہم کرنا ہو۔اگر آپ مسئلے کا شکار ہیں تو اس کو حل کریں لیکن اسے مقابلے کے طور پر نہ اپنائیں۔

یہ آرٹیکل انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

ترجمہ : سعدیہ اویس

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...