آپ کو اپنی شادی پر کتنا خرچہ کرنا چاہئے؟

دسمبر کا مہینہ آپہنچا ہے اور سال کا اختتام ہے اور یہ موسم تقریبات خاص کر شادیوں کا موسم ہے۔ہر کوئی اسے پسند کرتا ہے ایک جشن کا سماں ہوتا ہے جس میں رسمیں،موسیقی،رقص ،مٹھائی کے ساتھ دلہا دلہن کی خوشیوں میں شرکت ہوتی ہے جو ایک نئی زندگی شروع کرنے جارہے ہیں ۔خوبصورت لباس پہنتے ہیں ،پرانے دوستوں اور دور دراز کے رشتے داروں سے بھی ملنے کا موقع ملتا ہے،مزے مزے کے کھانے کھانے کو ملتے ہیں ۔روایتی انداز کی یہ تقریبات چند دن تک چلتی رہتی ہیں ۔

سب کچھ بہت اچھا لگ رہا ہوتا ہے لیکن اگر یہ چیزیں حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو نقصان دہ بھی ثابت ہونے لگتی ہیں ۔

بے جا اسراف:

پاکستان کی شادیوں میں پیسوں کا خرچ بڑھتا جارہا ہے۔روز مرہ کے استعمال کے لئے ڈیزائنر کے ملبوسات اور فیشن ویک کی وجہ سے شادیاں بھی زندگی کے دوسرے معاملات سے بڑھ کر ہوگئی ہیں ۔صرف یہی نہیں کہ شادی میں کون کیا پہنے گا ،بلکہ کون کیسے شادی کرے گا ،کس کی شادی زیادہ انوکھی ہوگی،یہاں تک کہ کون کس گانے پر پرفارمنس دے گا ۔گویا کہ شادی ایک تقریب کے بجائے دکھاوے کا مقابلہ بن گئی ہے۔

شادی سے ایک مہینہ پہلے سے ڈانس کی پریکٹس شروع ہوجاتی ہے جس کے لئے سب دوست ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔مہندی میں ڈانس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوریوگرافی یعنی ڈانس کی تربیت بھی پروفیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔صرف ڈانس ہی نہیں بلکہ دلہن ہال میں کیسے داخل ہوگی ،اس کے ساتھ کتنے لوگ ہونگے،کس سواری پر آئے گی ،جب چلے گی تو کونسا میوزک بجے گا ۔غرض کے شادی میں ہر کام کی تربیت دی جاتی ہے ۔

پھر ڈانس پرفارمنس سے سے زیادہ ہال کی سجاوٹ پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔تقریبات کا انتظام سنبھالنے والی کمپنیاں شادیوں کے لئے سجاوٹ کا خاص انتظام کرتی ہیں جس میں پھول،فرنیچر اور شیشوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور لوگ دو گھنٹے کی اس تقریب کے لئے اس سجاوٹ پر لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے لئے راضی ہوتے ہیں ۔

لمحات کو خوبصورت اور بہترین بنانے کے چکر میں شادیاں ڈراموں میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں جو کسی طرح کی غلطی یا جذبات سے خالی ہوتی ہیں ۔دلہا دلہن کی تیاری کی چیزوں سے لے کر ،دلہن کے میک اپ اور فوٹوگرافی تک،اور تقریب کے پورے انتظام تک کے لئے ہر طرح کہ پیکجز آگئے ہیں جو لوگوں کو اچھے سے اچھا دکھانے کے چکر میں مزیدکنفیوز کر دیتے ہیں ۔اور وہ کچھ خاص کرنے کے چکر میں ڈرون ویڈیو گرافی کا بھی انتخاب کرلیتے ہیں۔ان دو گھنٹوں میں وہ سب کچھ کرنے کی کوشش ہوتی ہے جس کی بناء پر تمام شادیوں کو پییچھے چھوڑ دیا جائے۔


اس بارے میں جانئے : نئے شادی شدہ جوڑوں کے لئے سیکس سے متعلق ضروری معلومات

پھر مہنگے ترین برائیڈل شاور کو کون بھول سکتا ہے۔یہ جانے بغیر کہ اس کا کیا مقصد ہوتا ہے لوگ دکھاوے کے چکر میں ہر طرح کی کفایت کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔اور رسومات کے پیچھے انھیں اپنے بجٹ کا بھی خیال نہیں ہوتا ۔


ہمیشہ زیادہ ہی خوشی نہیں دیتا :

پاکستان کی شادیوں میں امیر گھرانوں کے بے حساب اخراجات سے نچلے طبقے کی چھوٹی چھوٹی رسومات بالکل کچلی جاچکی ہیں ۔لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس دور میں بھی سادگی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک طرف جہاں شادیوں میں دکھاوے کا مقابلہ ہورہا ہے تو دوسری طرف سادگی سے شادی کرنے کا بھی رجحان بڑھ رہا ہے۔

اپنی شادی کا بجٹ تیار کریں اور سمجھداری کے ساتھ خرچہ کریں ۔دو گھنٹے کی تقریب میں پیسہ ضائع کرنے کے بجائے اسے مستقبل کے لئے بچا کر رکھئے۔اس تقریب کا مقصد نئے شادی شدہ جوڑے کی نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ جو خرچہ آپ اسٹیج کی سجاوٹ پر خرچ کررہے ہیں وہ پیسہ دلہا دلہن کے گھر کو مزید پر آسائش بنانے یا ان کو ہنی مون پر جانے ، یا کسی اور مقصد کے لئے دے دیں ،جسے وہ وقت ضرورت استعمال کرسکیں ۔

جہاں تک شادی پر خاص دکھنے کا سوال ہے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ کا جوڑا یا جیولری ڈیزائنرز کا ہی ہو عام مارکیٹ میں بھی اسی طرح کے خوبصورت اوران سے کہیں زیادہ سستے جوڑے مل جاتے ہیں ۔ پھر جو بھاری جوڑا آپ اپنی شادی میں پہنتے ہیں وہ بعد میں کسی اور تقریب میں اوور لگنے لگتا ہے۔آج کل تو پرانے فیشن واپس آرہے ہیں آپ بھی اپنی امی کا شادی کا جوڑا صحیح کراکر پہن سکتی ہیں، اسی طرح  فوٹو گرافی پر خرچہ کرنے کے بجائے دوست کے ڈی ایس ایل آر کیمرے سے تصویریں کھنچوا کر پرنٹ نکلوا لیں۔

ایک اور ضروری بات یہ کہ شاہانہ انداز کے صوفے ،بھاری پردے ،شیشے اور موتی سب بہت خوبصورت لگتے ہیں لیکن سجاوٹ میںان سب چیزوں کا ایک ساتھ استعمال نہ کیا جائے ۔ان میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرکے آرائش کی جائے۔مہنگے دعوت نامے چھپوانے کے بجائے ،کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے بھی دعوت دی جاسکتی ہےڈیزائننگ کی دنیا اب سادگی کی طرف جارہی ہے لہٰذا آپ کو بھی سادگی اپنانا چاہئے۔سادگی سے شادیوں کی ریت چلایئے کیونکہ مہنگی رسمیں اب پرانی ہو گئی ہیں ۔اسی پر ڈٹے رہیں گے تو تمام پریشانیوں سے بچے رہیں گے اور ہر کام بہ خیروخوبی ہوگا ۔

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں 

تحریر :نمرہ منصور


مزید جانئے : نائٹ کریم سے بنائیں چہرے کو شاداب و حسین


loading...
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...