بچوں کا انجیکشن کا ڈر دور کرنے کے لئے یہ تراکیب آزمائیں

640

ماں باپ کے لئے سب سے آزمائش کی گھڑی وہ ہوتی ہے جب ان کا بچہ تکلیف میں ہو۔ البتہ اکثر اوقات ہم اور ڈاکٹرز دوران علاج بچوں کے ڈر اور تکلیف کے بارے میں کچھ نہیں کرتے۔
بڑوں کو تو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ علاج کے وقت ہونے والی تکلیف وقتی ہوتی ہے اور اس سے فائدہ ہی حاصل ہوتا ہے ْ۔ البتہ بچوں کو صرف اس وقت ہونے والے درد کی ہی فکر ہوتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر بچے ڈاکٹر کے پاس جانے یا پھر سوئی لگوانے کے نام سے ہی ڈر جاتے ہیں ۔
کبھی تو یہ ڈر بڑے ہونے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ہے اور لوگ ضروری ویکسینز اور ریگولر چیک اپ کرانے سے بھی کتراتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں صحت کے سنگین مسائل پیش آسکتے ہیں ۔
انجیکشن کے ڈر سے ویکسینیشن کی شرح میں ہونے والی کمی کو دیکھتے ہوئے باہر ممالک میں تو سوئی کے ڈر سے بچاؤ کے لئے باقاعدہ پروگرامز ترتیب دیئے جانے لگے ہیں۔

انجیکش کے درد کو کم کرنے کی حکمت عملی

نفسیات اور امراض ِ اطفال کی پروفیسر کرسٹین چیمبرز کا ماننا ہے کہ انجیکشن کے ڈر سے بچوں پر نفسیاتی اور جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر بچوں کو درد سے نجات کا بروقت انتظام نہ کیا جائے تو ان میں آگے چل کر درد برداشت کرنے کی قوت مزید کم بھی ہوسکتی ہے ۔

جلد سُن کردینا

ان دنوں کئی ڈاکٹرز اس طرح کا انیستھیزیا استعمال کرتے ہیں جس سے جلد کچھ دیر کے لئے سُن ہو جاتی ہے ۔ یہ ایک خاص طرح کی کریم ہوتی ہے جسے لیڈو کائن کریم کہتے ہیں ۔ اس کریم کو انجیکشن لگانے سے تیس منٹ پہلے جلد پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اس طرح بچوں کو سوئی چبھنے کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ بچوں کو جہاں سے انجیکشن لگوانا ہو وہاں اس کریم کے بارے میں پہلے سے ہی معلوم کر لیں ۔

مزید جانیں: جانئے سردیوں میں بچے دوسرے دنوں سے زیادہ بیمار کیوں پڑتے ہیں

پیسیفائر یا فیڈ کرانا

ڈاکٹرز کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر انجیکشن کے وقت بچے کو بریسٹ فید کرائی جائے یا پیسیفائر یعنی چسنی کو چینی کے پانی میں بھگو کر بچوں کے منہ میں ڈال دیا جائے تو اس سے بھی بچے کا دھیان درد سے ہٹ سکتا ہے ۔

زور زبردستی سے اجتناب

امریکہ کی کئی اسٹیٹس میں بچوں کو انجیکشن لگانے کے وقت پکڑ لینا یا زور زبردستی کرنا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ مانا جاتا ہے کہ اگر بچوں کا دھیان بٹانے یا درد کو کم کرنے کی مناسب حکمت ِ عملی تیار کی جائے تو زور زبردستی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

دھیان بٹانا

آپ اپنے بچے کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ موبائل پہ کوئی گیم لگانا ہو یا کوئی خاص کھلونا، جس چیز سے بھی آپ کو لگے آپ کے بچے کا دھیان درد سے ہٹ سکتا ہے وہ اسے تھما دیں ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بچوں کو کسی کھیل میں لگا دینا، ان سے باتیں کرنا یا انھیں کھانسے کو کہنا ان کی توجہ انجیکشن اور اس کی تکلیف سے ہٹا سکتا ہے ۔

الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں

بچوں سے یہ بولنا کہ انجیکشن نہیں لگے گا انہیں بھوسہ کرنے سے روک سکتا ہے ۔ اس کے بجائےبچوں کو یہ بتائیں کہ اگر وہ انجیکشن لگاوائیں گے تو انہیں کوئی انعام ملے گا یا امی ابو انہیں گھمانے لے جائیں گے ۔ بچوں کے سامنے پریشان ہونے سے گریز کریں بلکہ اس صورتحال کو نارمل لیں ۔

ماں باپ بچوں کو انجیکشن کے ڈر سے بچانے کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف بچوں کو انجیکشن لگوانا آسان ہوجائے گا بلکہ آگے چل کر بچوں کی کسی بھی ویکسینیشن میں مشکل پیش نہیں آئے گی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...