بچوں کی پیدائش میں وقفہ کیوں ضروری ہے

8,118

بچے ہرگھرکی رونق اورضرورت ہوتے ہیں۔ دنیامیں شاید ہی کوئی ایسی فیملی ہوجوافزائش نسل کی خواہش نہ رکھتی ہولیکن صرف بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں بلکہ ماں اوربچہ کاصحت مند ہونابھی اتناہی ضروری ہے جتنابچے کادنیامیںآنا۔ بچوں کا صحت وتندرستی (health and wellness) کے ساتھ دنیامیںآنا ہرماں باپ کی اولین ترجیح ہوتی ہے ۔جب بات کی جاتی ہے پچھلے دورکی جہاں ہرسال تقریباً ہرگھرمیں بچوں کی پیدائش عام سی بات تھی اورہرگھرمیں تقریباً آٹھ ،دس یاپھراس بھی زیادہ بچے ہونامعمولی سی بات سمجھی جاتی تھی لیکن آج ایسانہیں ہے وقت ،ماحول ،معاشرہ اورعادات واطوارمیں کافی تبدیلی آگئی ہے جس کے باعث اب دوسے زائد بچہ ہونا بھی غیرمعمولی بات سمجھی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں بڑاالمیہ یہ ہے کہ جب بچوں کی پیدائش میں وقفہ کی بات کی جاتی ہے توخاندانی منصوبہ بندی کی بات ذہن میں آجاتی ہے جس کے پیچھے کوئی سازش کار فرمانظرآنے لگتی ہے۔ لیکن ان سب باتوںکودرکناررکھ کراگریہ سوچاجائے کہ عورت جوبچہ کونوماہ اپنی کوکھ میں رکھ کرجنم دیتی ہے ۔پھراس کی پرورش،رضاعت اورنگہداشت بھی اسی کی ذمہ داری ہے تو کیاوہ اس بات کی حقدارنہیں کہ اس نے اس سارے عرصے میں جوتکلیفیں سہی ہیں اورجن کمزوریوں کاوہ شکارہوئی ہے پہلے اس کاازالہ کرلیاجائے۔آئیے جانتے ہیں کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ کیوں ضروری ہے؟ کیوں ماں کی صحت آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے؟کیوں ا س بات کی اتنی اہمیت ہے کہ اب ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہئے؟

وقفہ کی ضرورت کیوں ؟

ہربچہ کی پیدائش میں کم از کم دوسے تین سال کاوقفہ ہونابے حد ضروری ہے تاکہ اس عرصے میں عورت پیدائش کے بعد ہونے والی کمزوریوں سے نبردآزماہوسکے۔نارمل ڈلیوری کی صورت میں کم از کم دواورڈلیوری اگرآپریشن سے ہوتوڈاکٹرز کے مطابق کم از کم تین سال کاوقفہ ضروردیناچاہیے تاکہ ٹانکوں پراضافی بوجھ نہ پڑسکے۔بچے کی پیدائش کے بعد عورت بالکل کمزورہوچکی ہوتی ہے اسی لئے اسے صحت کی بحالی کی اشدضرورت ہوتی ہے اگردوبارہ سے حمل ٹھہرجائے تو عورت کی صحت سنبھلنے کے بجائے کمزورسے کمزورترہوتی چلی جاتی ہے۔

مزید جانئے : حمل کے دوران 10مثبت سرگر میاں اپنائیں

غذائیت سے محروم

یہ کہناغلط نہیں کہ ہمارامعاشرہ غذائی قلت کاشکارہے متوسط طبقہ جہاں پر آمدنی اتنی کم ہے کہ گھریلواخراجات ہی پورے نہیں ہوتے تو حاملہ عورت جسے اضافی غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے وہ کہاں سے پوری کرے۔یہ غذائی قلت ماں کی صحت کوتباہ کردیتی ہے کیونکہ قدرتی طورپربچے کی افزائش کاعمل کچھ ایساہے کہ بچہ تو ماں سے اپنی غذائی ضرورت پوری کرلیتاہے لیکن ماں کمزورسے کمزورترہوتی چلی جاتی ہے۔بچے کی افزائش ،پرورش اوربہتر نشوونماکے لئے ماں کاصحت مندہوناضروری ہے۔

غیر معیاری غذائیں

ہم میں سے سب یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صحت مند ہوں تاکہ آنے والامستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہولیکن اگرماں ہی صحت مند نہ ہوتو بچہ خود بخود کمزوراورخدانخواستہ کسی عیب کے ساتھ بھی دنیامیں آسکتاہے۔آج جوغذائیں ہماری خواتین کھاتی ہیں پہلی چیز تویہ ہے کہ وہ خالص نہیں اوردوسری یہ کہ اگرکہیں سے خالص اشیاء درکاربھی ہوں توانھیں خریدنے کی سکت نہیں۔بچے کی پیدائش کاعرصہ یعنی پورے نوماہ ایک ماں ہی اپنے بچے کوغذا فراہم کرتی ہے اوراگرماں خود ہی غذائی قلت کاشکارہوتو بچہ خودبخود متاثرہوتاہے۔

رضاعت کی عمر

ماں کواپنے بچے کوپیدائش سے دوسال کی عمر تک اپنادودھ پلاناہوتاہے۔اگرایسی صورت میں عورت دوبارہ حاملہ ہوجائے تو طبیعت کی خرابی اورغذاکی کمی کی وجہ سے معصوم بچہ کادودھ چھڑوادیاجاتاہے۔ جوماں کی صحت کے ساتھ ساتھ بچہ کی صحت کوبھی شدید نقصان پہنچاتاہے۔ ایک بچہ کی پیدائش کے بعد اگردوسال کے اندراندردوبارہ حمل ٹھہرجائے اورماں اپنے پہلے بچے کوبھی دودھ پلاتی ہوتوایسی صورت میں ڈاکٹراسے اضافی غذالینے کامشورہ دیتے ہیں اوراگروہ ایسانہ کرے تووہ بچہ جودنیامیں آنے والاہے ،خودماں اورجوبچہ دنیامیں آچکاہے تینوں کی صحت بری طرح متاثرہوتی ہے۔

اب سمجھنا پڑے گا

ہم سب کویہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے آج کی عورت پچھلے دورکی عورت کی طرح ہرسال اوردس بارہ بچے پیدانہیں کرسکتی ہے۔اس بات کی اجازت نہ تواس کی صحت دیتی ہے اورنہ ہی موجودہ طرززندگی۔آج کی بچیاں جوخود ناقص اورآلودہ غذائیں کھاکربڑی ہورہی ہیں ان میں اتنی طاقت اورتوانائی نہیں کہ وہ ہرسال بچوں کی پیدائش کاحصہ بنیں۔اس صورت میں ان کی صحت تو ختم ہوتی ہی ہے ساتھ ساتھ آنے والی نسل، جس کی وہ نگہبان ہیں وہ بھی متاثرہوتی ہے۔اگرعورتیں صحت مند ہوں گی توآنے والامعاشرہ خودبخود صحت مندہوجائے گا۔نظام تو ہم بدل نہیں سکتے لیکن اپنے آپ کواوراپنی سوچ کوتوبدل سکتے ہیں۔

تحریر : ماہا آفریدی

ترجمہ  : سعدیہ اویس 

یہ آرٹیکل انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...