حمل ٹھہرنے کی علامات یہ ہیں

10,150

حمل کی بہت سے علامات ہیں جن کا جاننا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ یہ زندگی کا اہم وقت ہوتا ہے اس لئے اس کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے ۔کیونکہ یہ آپ کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ حمل ٹھہرنے کی کچھ علامات درج ذیل ہے ۔

حمل کی سب سے عام علامت تو ماہواری کانہ آنا ہے۔ اگر اس سے پہلے آپ کے ایام ماہواری باقاعدہ تھے اور آپ نے بغیر کسی حفاظتی اقدام کے ہم بستری کی ہے تو اگلی ماہواری کے ایام کے دس دنوں بعد بھی ماہواری نہ آنے کی صورت میں میں یہ خیال آ جانا چاہئے کہ حمل ٹھہر چکا ہے کیونکہ اگر ماہواری اس سے پہلے ہمیشہ باقاعدگی سے آئی ہو تو ایک بار ماہواری نہ آنے کا سب سے بڑا سبب حمل ٹھہرنا ہی ہے۔ البتہ اگر اس سے پہلے بھی ماہواری باقاعدہ نہیں تھی تو پھر دوسری علامات جاننا بھی ضروری ہے۔


مانع حمل گولیاں اپنے اندر مضر اثرات بھی رکھتی ہیں


حمل ٹھہرنے کی دوسری علامات کونسی ہیں؟

 

*چھاتیاں بڑی اور زیادہ حساس ہو جاتی ہی۔ چھاتیوں کی سطح پر نسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ نپل کےارد گرد چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں اور ارد گرد کی جلد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے۔

ًٌ*کچھ خواتین کو صبح بستر سے اٹھنے کے بعد متلی ہوتی ہے اور صبح کے وقت طبیعت خراب رہتی ہے،بعض خواتین کے ساتھ ایسی صورت حال دن کے باقی اوقات میں بھی ہو سکتی ہے۔ متلی کی یہ کیفیت حاملہ خواتین کے جسم میں ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ہوتی اور عام طور پر یہ وہ پہلی علامت ہوتی ہے جو اکثر خواتین محسوس کرتی ہیں۔ عام طورپر یہ حمل کے چودہ ہفتوں تک خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

*بعض عورتوں میں پیشاب زیادہ آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ عام طور پر خواتین دن میں تین سے پانچ مرتبہ پیشاب کرتی ہیں اور انہیں رات کو سوتے میں پیشاب کرنے کیلئے اٹھنا نہیں پڑتا جبکہ حمل کے دوران اکثر خواتین کو دن میں ہر ایک یا دو گھنٹے کے بعد پیشاب کی حاجت ہوتی ہے اور رات کو سوتے میں بھی ایک دو مرتبہ اٹھنا پڑتا ہے۔

 

*کئی مرتبہ حاملہ خواتین کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں جو انہیں عام طور پر بہت پسند ہوتی ہیں بے ذائقہ لگنے لگتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سب حاملہ خواتین میں یہ علامات نہیں پائی جاتیں۔ سو اگر آپ کے ایام ماہواری باقاعدہ رہے ہیں اور اس بار آپ کو ماہواری کچھ دن گزرنے کے باوجود بھی نہیں آئی تو بہت زیادہ امکان ہے کہ حمل ٹھہر گیا ہو۔ تو فوری طور اپنے معالج سے رجوع کریں۔


کس طرح حمل ٹہرایا جائے ؟ اویولیشن اور فرٹائلیٹی حمل ٹہرانے میں کس طرح مددگار ہیں ،جانئے


ڈاکٹر حمل ٹھہرنے کی تصدیق کیسے کرے گا؟

*ڈاکٹر آپ کا جسمانی معائنہ کرے گا اور چند بنیادی سوالات کرے گا۔
* علاوہ ازیں وہ اندرونی طور پر معائنہ بھی کرے گا۔ آپ کی کوکھ نارمل سے بڑی محسوس ہوگی ۔
*حمل کے چھٹے سے آٹھویں ہفتے تک یہ تبدیلیاں عام طور پر آسانی سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

اس کے باوجود حمل کی تصدیق کیلئے سب سے اہم اور آرام دہ طریقہ پیشاب کا ٹیسٹ ہے۔

حمل کے لئے پیشاب کا ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟

ابتدائے حمل میں ایک ایسا ہارمون پیدا ہونا شرو ع ہو جاتا ہے جو آخری ماہواری سے تقریباً20 دن بعد پیشاب میں آنا شروع ہوتا ہے اور 80-60دن میں پیشاب میں اس کی مقدار اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے۔ ٹیسٹ کا اصول یہ ہے کہ پیشاب میں یہ ہارمون دریافت کیا جائے۔ اس کے لیے دن کے کسی وقت کا پیشاب بھی لیا جاسکتا ہے لیکن بہتر ہے صبح کا پیشاب ایک صاف بوتل میں لے کر بارہ گھنٹے کے اندراندر ٹیسٹ کیا جائے۔ اب تو ایسی پریگننسی ا سٹیکس بھی موجود ہیں جس سے ابتدائی جانچ کی جاسکتی ہے۔


پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...