ڈلیوری اگر آپریشن سے ہوتو۔۔۔

آپریشن کے ذریعے ڈلیوری ایک عام سی بات بنتی جارہی ہے۔پہلے چند مخصوص وجوہات کی بناء پر آپریشن کے ذریعے ڈلیوری کروائی جاتی تھی لیکن آج کل اگر آپ کے پاس کسی تجربہ کار کاساتھ نہ ہوتودیگر وجوہات خود بخود بھی بنالی جاتی ہیں۔بحرحال اگر ڈلیوری کاعمل آپریشن کے ذریعے ہوتو آپ ان باتوں کاضرور خیال رکھیں۔

۱۔قہوہ

ڈلیوری سے آپریشن کے بعد وزن بڑھنے اورپیٹ کے لٹک جانے کے خدشات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لئے آپریشن کے بعد جب دوسرے دن سے ڈاکٹر آپ کوقہوہ پینے کی اجازت دے تو آپ یہ قہوہ ضرور پیئیں۔اس سے بڑھاہوا وزن بھی کم ہوگا اورباڈی سے ٹاکسن بھی ریموو ہونگے۔
چھوٹی لیمن گراس آدھاچائے کاچمچ،دوسے تین پودینہ کی پتیاں،سوئیٹ بیزل دوپتے،دارچینی ایک چھوٹاٹکڑا،آدھالیموں چھلکے سمیت لے کرتمام اجزاء ڈیڑھ کپ پانی میں اتناپکالیں کہ ایک کپ رہ جائے۔نیم ،بیری یاجوشہد آپ کے پاس آسانی سے دستیاب ہو اس سے میٹھاکرکے ایک کپ صبح اورایک کپ شام پی لیں۔

۲۔بیلٹ کااستعمال

آپریشن کی صورت میں بیلٹ کااستعمال نہیں کیاجاسکتا لیکن ململ کے کپڑے کابیلٹ باندھاجاسکتاہے۔جس کی مدد سے لٹکاہوا پیٹ لفٹ اپ کیاجاسکتاہے۔اگر ڈاکٹر ڈلیوری سے پہلے ہی آپ کوآپریشن ہونے سے آگاہ کردے تو آپ پہلے ہی سے گھر میں ململ کابیلٹ تیار کرواکر رکھ سکتی ہیں۔

۳۔بادی اشیاء سے پرہیز

بے شک آپریشن کے بعد ڈاکٹر آپ کوکسی چیز کاپرہیز نہیں بتاتے لیکن پھر بھی بہتر ہے کہ آپ بادی اشیاء کاپرہیز کریں۔چاول ،دہی اورتیزمرچ مصالحوں کااستعمال کم ازکم ایک ہفتہ تک نہ کریں۔اگر آپ اپنی صحت اورباڈی شیپ کودوبارہ حاصل کرناچاہتی ہیں تواپنی غذامیں زنک اورمیگنیشیم پرمبنی غذائیں جن میں مچھلی،جھینگا،پالک،کدو،چکن،اناج ،پھل ، اورمیوہ جات کااستعمال ضرورکریں۔زنک زخموں کوجلد مندمل کرتاہے اوراینٹی وائرل اثرات مرتب کرتاہے۔

۴۔قبض سے بچیں

آپریشن سے ڈلیوری کے بعد حتی الامکان کوشش کریں کہ زچہ کوقبض کی شکایت نہ ہو ۔ عموماً آپریشن سے ڈلیوری ہونے کی صورت میں ڈاکٹرقبض کشاادویات ضرور دیتی ہیں اوراگر پھر بھی چھٹی سے پہلے نارمل انداز سے اسٹول پاس نہ ہوتو اینیما کے ذریعے اسٹول پاس ضرور کرواتی ہیں۔لیکن اگر ڈاکٹر آپ کواسٹول پاس کروائے بغیر چھٹی دے دے تو آپ خود اس بات کومدنظر رکھیں۔اگر ڈلیوری کے بعد زیادہ وقت تک آپ کوقبض رہتاہے تو یہ بچہ دانی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔

۵۔دیر تک بیٹھنے سے گریزکریں

آپریشن کے بعد بلاکسی سبب دیر تک بیٹھنے سے گریز کریں اس عمل سے ٹانکوں میں درداوردیگر تکالیف ہوسکتی ہیں ۔بچہ کوبیٹھ کر ضرور فیڈ کروائیں ۔لیکن دیگر صورتوں میں جوکام آپ کھڑے ہوکر کرسکتی ہیں وہ کرلیں جیسے بچے کے چھوٹے موٹے کام اوراپناکھاناپکانا وغیرہ۔کھڑے ہوکر اورچل پھر کر کام کرنا�آپریشن کے بعد زیادہ بہتر رہتاہے۔اس طرح آپ کی باڈی آہستہ آہستہ اپنی روٹین پر واپس آنے لگتی ہے۔

۶۔ورزش کریں

آپریشن سے ڈلیوری ہونے کایہ مقصد بالکل نہیں ہوتاکہ اب کچھ نہیں کیاجاسکتا ۔آپریشن سے ڈلیوری کے بعد ریکوری میں تھوڑا وقت ضرور لگتاہے اور ہر کسی کی جسمانی کیفیات الگ ہوتی ہیں اسی لئے صحت یابی کاوقت بھی سب کامختلف ہوتاہے۔ اپنی طبیعت دیکھتے ہوئے ایک ہفتے بعد آپ تھوڑی والک شروع کریں اورآپریشن کے چھ ہفتے بعد آپ ہلکی پھلکی ورزش کرسکتی ہیں۔اپنی ڈاکٹر اورفیزیکل تھیراپسٹ کی مدد لیں وہ اس سلسلے میں آپکو مفید مشورے فراہم کرسکتے ہیں۔

۷۔روزانہ شاورلیں

آپریشن کے بعد اسٹیچز میں انفیکشن ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ چالیس دن تک روزانہ گرم پانی سے شاور لیں۔شاور لینے سے پہلے اجوائن اورٹیسو کے پھول کی پوٹلی بناکر گرم پانی میں پہلے ہی ڈال دیں۔اس سے صفائی کے ساتھ ساتھ جسم میں ہونے والادرد بھی دورہوگا۔صفائی کاخاص خیال رکھیں بہت سے لوگوں کایہ خیال غلط ہے کہ آپریشن ہونے کے بعد نہانانہیں چاہئے۔اگر ٹانکوں میں میل کچیل جمع ہوجائے تو انفیکشن کاخطرہ رہتاہے۔

۸۔ڈاکٹر کی ہدایت پرعمل

آپریشن سے ڈلیوری کے بعد ڈاکٹر آپکو میڈیسن اورسپلیمنٹ کاچارٹ بناکردیتی ہیں۔ڈاکٹر جو بھی میڈیسن اورسپلیمنٹ دے اسے وقت پر اورپابندی سے ضرورلیں۔ وہ ادویات زخموں کوجلد ٹھیک کرنے ،درد سے نجات اورصحت کے حصول کی جلد واپسی کے لئے دی جاتی ہیں۔بعض اوقات اسٹیچز ایسے لگائے جاتے ہیں جو خود بخود گھل جاتے ہیں اورکبھی ایسے کہ بارہ د ن بعد کھولے جاتے ہیں۔لہٰذا بارہ یاپندرہ دن بعد جب بھی ڈاکٹر آپ کودوبارہ چیک اپ کیلئے بلائے تو ضرور جائیں ۔

انگریزی میں پڑھیں

تبصرے
Loading...