دس عادتیں اپنائیں اور کمر کا درد بھول جائیں

31,148

کمر درد کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ درد کی اصل وجہ جاننا ذرا مشکل ہوتا ہے لیکن کچھ عادتیں اپنا کر اس سے بچا سکتا ہے ۔ روز مرہ زندگی میں کچھ تبدیلیاں لاکر آپ کمردرد سے نجات پاسکتے ہیں۔

سوتے وقت گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھیں:

سیدھے لیٹنے سے ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑتا ہے اگر ٹانگوں کو تھوڑا اوپر رکھا جائے تو کمر پر پڑنے والا زور قدرے کم ہوجاتا ہے۔ کمر پر پڑنے والے دبائو کو گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ کر کم کیا جاسکتا ہے۔

ورزش کریں:

ورزش کے فوائد تو سب ہی جانتے ہیں ۔ روزانہ ایسی ورزش کی جائے جس میں جسم کے درمیانی حصے کے مسلز پر فوکس ہو ۔ اس طرح کمر سے متعلق تکالیف میں خاص کمی آتی ہے۔ ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ پیٹ اور کمر کے مسلز کو مضبوط کرنے کی ورزش کریں اس طرح کمر زیادہ مضبوط اور لچکدار ہوجائے گی۔

غذا میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کا اضافہ کریں:

کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کو بھر بھرا کردیتی ہے جو کمر درد کی وجہ بنتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اس تکلیف سے بچنے کے لیے وافر مقدار میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کا استعمال کریں۔
دودھ ، دہی اور ہری سبزیوں مین کیلشیم پایا جاتا ہے جبکہ چکنائی والی مچھلی ، انڈے کی زردی ، گائے کی کلیجی اور پنیر میں وٹامن ڈی موجود ہے۔

آرام دہ جوتے پہنیں:

کمر درد سے بچنے کے لیے آرام دہ اور کم ہیل والے جوتے پہنیں۔ ایسے جوتے کمر کے کھنچائو کو کم کرتے ہیں اور کھڑے ہونے سے کمر پر زور نہیں پڑتا ۔ ایک انچ سے کم ہیل والے جوتے آپ کی کمر کے لیے آرام دہ ہیں۔

کمر کو سیدھا رکھیں:

کھڑے یا بیٹھے ہوئے کمر کو سیدھا رکھنا نا صرف آپ کی شخصیت کو بہتر انداز میں پیش کرتا ہے بلکہ اس طرح ریڑھ کی ہڈی صحت مند رہتی ہے اور اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دیتی ہے جبکہ کمر کو جھکا کر بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے کمر میں دبائو یا کھنچائو ہوتا ہے جس سے ریڑھ کی کی بناوٹ پر بھی اثر پڑتا ہے کھڑے ہونے کی صورت مین کاندھوں کو جھکانے یا سائڈ مین جھکانے سے گریز کریں۔

کرسی پر سیدھا بیٹھیں:

گھر ہو یا آفس کام کرتے وقت کرسی پر سیدھا بیٹھیں بالکل اسی طرح کمر کو سیدھا رکھیں جیسے کھڑا ہوکر کمر کو سیدھا رکھنا ہے ۔ اگر آپ گھنٹوں بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو ٹیک لگا کر سیدھا بیٹھنا نہایت ضروری ہے۔ اپنے لیے آرام دہ کرسی کا انتخاب کرین جس سے کمر کے نچلے حصے کو آرام ملے اور بیٹھتے وقت گھٹنوں کو ہپس سے اونچا رکھیں۔

چلتے پھرتے رہیں:

آفس کی پارٹی ہو یا کوئی اور تقریب بے تکے انداز میں بیٹھے یا مستقل ایک جگہ کھڑے رہنے سے گریز کریں۔ ادھر ادھر چلتے پھرتے رہیںتاکہ ریڑھ کی ہڈی پر زور نہ پڑے۔

سگریٹ نوشی نہ کریں:

سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کمر درد مبتلا رہتے ہیں جس کی وجہ سگریٹ میں موجود نکوٹین ہے جو ریڑھ کی ہڈی کی طرف دوران خون میں رکاوٹ بنتی ہے اس طرح یہ خشک ہوجاتی ہے اور چٹخنے لگتی ہے ۔ سگریٹ نوشی خون میں آکسیجن کو بھی کم کرتی ہے اس طرح مسلز کی نشونما میں کمی آجاتی ہے ۔ ایک کمزور کمر میں کھنچائو پیدا ہوکر درد بڑھنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔

بھاری وزن نہ اٹھائیں:

غلط طریقے سے بھاری وزن اٹھانے سے بھی کمر درد ہوجاتا ہے ۔ یہ درد نہ صرف بھاری وزن اٹھانے والوں بلکہ سوٹ کیس ، لیپ ٹاپ بیگ ، کیمرہ یا سامان کا تھیلا اٹھانے سے بھی ہوجاتا ہے ۔ جب بھی ممکن ہو کاندھوں سے وزن کو اتار دیں کوئی بھی تھیلا اٹھانے کے لیے ہاتھ تبدیل کرتے رہیں ۔ بھاری سامان کے لیے ٹرالی یا وہیل والا بیگ استعمال کریں۔

کھنچائو ضروری ہے:

زیادہ وقت کے لیے ایک ہی جگہ کھڑے بیٹھے یا لیٹے رہنا کمر کے لیے مضر ہے ۔ اکڑی ہوئی کمر کو کھڑے ہوکر یا چل کر اور کھنچائو والی ورزش کر کے آرام پہنچایا جاسکتا ہے ۔ اس طرح کمر کی طرف دوران خون بڑھتا ہے اور کمر درد اور دبائو میں آرام آتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...