nutrition – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Thu, 25 Mar 2021 06:30:58 +0000 ur hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png nutrition – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 بھنڈی کھائیں صحت مند بن جائیں https://htv.com.pk/ur/nutrition/ladyfinger-nutrition Thu, 11 Jul 2019 07:34:03 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33580 lady finger

بھنڈی ایسی سبزی ہے جو لگ بھگ ہر موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے اور گوشت کے ساتھ سالن والی پکائی جائے یا اس کے بغیر، مزیدار ہی ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح اس میں مصالحہ بھر کر بھی پکایا جاسکتا ہے او ر تو اورر یہ صحت کے لیے بھی بہت مفید ہوتی ہے، جس […]

The post بھنڈی کھائیں صحت مند بن جائیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
lady finger

بھنڈی ایسی سبزی ہے جو لگ بھگ ہر موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہے اور گوشت کے ساتھ سالن والی پکائی جائے یا اس کے بغیر، مزیدار ہی ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح اس میں مصالحہ بھر کر بھی پکایا جاسکتا ہے او ر تو اورر یہ صحت کے لیے بھی بہت مفید ہوتی ہے، جس کی وجہ اس میں موجود منرلز، وٹامنز اور فائبر کی موجودگی ہے۔

بھنڈی کے فوائد درج ذیل ہیں۔

 

بینائی کے لئے فائدے مند

بھنڈی وٹامن ے اور دیگر اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے بیٹا کیروٹین، لیوٹین وغیرہ سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ عمر بڑھنے سے آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی تنزلی کو روکنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ موتیا کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

جسمانی دفاعی نظام مضبوط بنائے

اینٹی آکسائیڈنٹس بھنڈی کو ایسی فائدہ مند سبزی بناتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے خلاف لڑتے ہیں جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے جس سے جسم میں خون کے سفید خلیات بننے میں مدد ملتی ہے جو کہ انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں۔


یہ پڑھئے :بادام کھائیں فائدے اٹھائیں


وٹامنز سے بھر پور

اس سبزی میں متعدد وٹامنز موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، جیسے وٹامن کے ہڈیوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ زخم جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے

بھنڈی کیلشیئم سے بھرپور سبزی ہے جو ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، بھنڈی کے ساتھ مچھلی یا کیلے وغیرہ کا استعمال ہڈیوں کی صحت کو زیادہ بہتر بنادیتا ہے۔

تھکاوٹ بھگائیں

اینٹی آکسائیڈنٹ خصوصیاتی کی وجہ سے بھنڈی جسمانی توانائی کی سطح بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جبکہ طویل المعیاد بنیادوں پر مسلز کو بھی مضبوط کرتی ہے۔

تناؤ سے نجات دلائے

بی وٹامن یا فولیٹ ڈوپامائن بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے قدرتی طور پر مزاج خوشگوار ہوتا ہے، جس سے ذہنی تناؤ سے نجات ملتی ہے، جبکہ دماغی طاقت بھی بڑھتی ہے۔

نظام ہاضمہ کی بہتری کے لئے

اپنی غذا میں بھنڈی کا اضافہ کرکے آپ نظام ہاضمہ کو مضبوط بناسکتے ہیں، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو کہ غذائی نالی سے غذا کے گزرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ قبض وغیرہ کا خطرہ کم کرتا ہے۔، اسی طرح یہ نظام ہاضمہ کے دیگر مسائل جیسے گیس، پیٹ پھولنے یا درد وغیرہ کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں

بھنڈی پوٹاشیم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہے جو کہ دوران خون کو ٹھیک رکھنے والا جز ہے۔ بنیادی طور پر پوٹاشیم جسم میں سیال کے تناسب کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ سوڈیم کو متوازن کرتا ہے۔ اسی طرح یہ خون کی شریانوں اور جوڑوں کو ریلیکس کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔

بے وقت بھوک سے دور رکھیں

بھنڈی میں موجود حل نہ ہونے والی فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے، جس کے باعث دن بھر میں بے وقت منہ چلانے کا امکان کم ہوتا ہے اور جسمانی وزن کو اعتدال میں رکھنا یا کمی لانا ممکن ہوجاتا ہے۔

کینسر کی روک تھام

بھنڈی میں فولیٹ موجود ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات بنانے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی مرمت اور استحکام میں مدد دیتا ہے، یہ طاقتور وٹامن خلیات کی معمول کی نشوونما کو بھی یقینی بناتا ہے، جس سے مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔


اس بارے میں جانئے :مصروف زندگی میں فٹ رہنے کے 8 طریقے


The post بھنڈی کھائیں صحت مند بن جائیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والی حیرت انگیز وجوہات https://htv.com.pk/ur/health/heart-diseases-reason Wed, 26 Jun 2019 07:34:18 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33382 h d reason

امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل جنم لیتے ہیں۔6خون کی شریانوں میں مسائل جیسے ان کا اکڑنا، ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور تمباکو نوشی کو امراض قلب کی عام وجوہات سمجھا جاتا ہے جبکہ […]

The post امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والی حیرت انگیز وجوہات appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
h d reason

امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل جنم لیتے ہیں۔6خون کی شریانوں میں مسائل جیسے ان کا اکڑنا، ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور تمباکو نوشی کو امراض قلب کی عام وجوہات سمجھا جاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، انفیکشن وغیرہ بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں، تاہم کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر سادہ اور بے ضرر لگتی ہیں، مگر وہ دل کو بیمار کردیتی ہیں۔

مسوڑوں کے امراض

منہ میں موجود بیکٹریا وہاں سے خون میں پہنچ جاتا ہے اور شریانوں میں ورم کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں چربی وہاں جمع ہونے لگتی ہے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق مسوڑوں کے امراض پر قابو پاکر دل کے امراض کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

ٹرینیں، طیارے اورگاڑیایوں کا شور

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ٹریفک کی آواز فشار خون یا بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور آواز کی سطح میں ہر 10 ڈیسی بل کا اضافہ امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ آواز کی فریکوئنسی میں اضافہ جسم پر دباؤ کا باعث بنتا ہے جس کا اثر دل پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

آدھے سر کا درد بھی ایک وجہ

اس کی وجہ تو واضح نہیں مگر آدھے سر کا درد ہونے پر فالج، سینے میں درد اور ہارٹ اٹیک کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے خصوصاً سر کے اس درد کے ساتھ جسم پر کپکپی طاری ہونے پر۔ اگر خاندان میں امراض قلب کی تاریخ موجود ہے، دل کے مسئلے کا پہلے سے شکار ہیں تو یہ امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ایسا ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کے علاج کے لیے مدد طلب کرنی چاہیے۔

دفتر میں لمبی لمبی شفٹیں

ایک تحقیق کے مطابق جو افراد فی ہفتہ کم از کم 55 گھنٹے کام کرتے ہیں، ان میں امراض قلب کا امکان 35 سے 40 گھنٹے کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے دفتری تناؤ، زیادہ وقت بیٹھنا اور ناقص غذائی انتخاب وغیرہ۔

غصہ کرنا

غصہ آنے پر ہارٹ اٹیک کا خطرہ لگ بھگ 5 گنا بڑھ جاتا ہے خصوصاً غصے کے اظہار کے 2 گھنٹے بعد فالج یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر تو آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے تو اسے قابو میں رکھنے کے لیے کسی ماہر سے مدد لیں تاکہ طویل المعیاد بنیادوں پر دل کے امراض کا خطرہ ٹال سکیں۔

چھوٹا قد ہونا

کسی ملک کے شہریوں کے اوسط قد سے ڈھائی انچ کم قد ہونا امراض قلب کا امکان 8 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ چھوٹے قد کے افراد میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسررائیڈ (triglyceride) کی سطح بڑھنے کا بھی زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں اس کی وجہ جس طرح ہمارا جسم قد و قامت کو کنٹرول کرتا ہے، وہ نقصان دہ کولیسٹرول اور گلیسررائیڈ کو چھوٹے قد کے افراد میں بڑھانے کا باعث بن جاتا ہے۔

تنہائی کا شکار

بہت کم دوست ہونا، اپنے پیاروں سے ناخوش ہونا بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ تنہا ہونے کا احساس ہائی بلڈ پریشر اور ذہنی تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔


مزید جانیں: مشروم کی غذائیت بڑھانے کا ٹوٹکا

The post امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والی حیرت انگیز وجوہات appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
گنے کا رس؛ گرمی کا توڑ بھی اور صحت بھی https://htv.com.pk/ur/nutrition/sugarcane-juice Wed, 26 Jun 2019 06:39:30 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33387 sugarcane-juice

پاکستان میں گرمی کا گرما گرم موسم پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور اس کی روک تھا م کے لئے ہر شخص کسی نہ کسی جتن میں مصروف ہے، اس گرمی کے توڑ کے لئے گنے کی رس کی بھی مدد لی جارہی ہے اور یہ گنے کا رس فرحت اور تازگی […]

The post گنے کا رس؛ گرمی کا توڑ بھی اور صحت بھی appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
sugarcane-juice

پاکستان میں گرمی کا گرما گرم موسم پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور اس کی روک تھا م کے لئے ہر شخص کسی نہ کسی جتن میں مصروف ہے، اس گرمی کے توڑ کے لئے گنے کی رس کی بھی مدد لی جارہی ہے اور یہ گنے کا رس فرحت اور تازگی بخشنے کے حوالے سے دیگر مشروبات پر سبقت لیے نظر آتا ہے۔گرمیوں میں یہ جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے تو سردیوں میں بھی بغیر برف کے اسے پینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ لذیذ اور میٹھا ہونے سے ہٹ کر یہ رس انتہائی فائدہ مند اور صحت کے لیے کسی دوسرے سپرفوڈ سے کم نہیں؟اگر نہیں تو انہیں ضرور جان لیں کیونکہ یہ متعدد مسائل کا قدرتی حل ثابت ہوسکتا ہے۔

گردوں کے لیے فائدہ مند

یہ مشروب پیشاب آور ہے، جس سے پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردوں کی پتھری کے امراض کے علاج میں مدد ملتی ہے جبکہ گردوں کے افعال میں بہتری آتی ہے۔

جگر کے امراض دور کرے

یہ تو بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ گنے کا رس جگر کو مضبوط کرتا ہے اور یرقان کا علاج ثابت ہوتا ہے۔یرقان جگر کے افعال پر مضر اثرات بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ گنے کا رس جسم میں ان پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے جو اس مرض کے نتیجے میں ہوتی ہے جس سے جلد بحالی صحت میں مدد ملتی ہے۔


آم ذائقہ بھی اورصحت بھی


جسمانی توانائی بڑھائے

گنے کا رس کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز، آئرن، پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے جو کہ اسے اچھا انرجی ڈرنک بنانے کے لیے کافی ہے، خصوصاً گرمیوں میں، ایک گلاس ٹھنڈا رس جسمانی توانائی کو فوری بحال کرتا ہے۔ یہ ایسا پلازما اور جسمانی سیال بناتا ہے جو گرمی سے جسم میں آنے والی خشکی اور تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

دانتوں کے لیے بھی فائدہ مند

گنے کا رش ایسے منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو دانتوں کی فرسودگی اور سانس کی بو کی روک تھام کرتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے

گنے کا رس جلاب جیسے اثرات بھی رکھتا ہے اور اعتدال میں اس کا استعمال آنتوں کی حرکت کو بہتر کرتا ہے جبکہ قبض سے نجات دلاتا ہے۔ اسی طرح یہ رس معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کے علاج کے لیے بھی مؤثر ہے۔

احتیاط

آپ کو ہیپاٹائیٹس سے بھی چوکنا رہنا ہوتا ہے کیونکہ اکثر ٹھیلے والے صفائی کا خیال نہیں رکھتے لہٰذا گندی مشینوں سے نکالا جانے والا رس خطرناک ہوسکتا ہے۔


یہ بھی پڑھئے : وہ مصالحے جو صحت کے لئے بھی مفید ہیں


The post گنے کا رس؛ گرمی کا توڑ بھی اور صحت بھی appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
وہ غذائیں جو یادداشت کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہیں https://htv.com.pk/ur/nutrition/memory-weakness-foods Sat, 09 Mar 2019 19:23:47 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=32351

جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لیے غذائیت کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن کچھ ایسی غذائیں بھی ہوتی ہیں جن کا بہت زیادہ استعمال آپ کی یادداشت کو کمزوربنادیتا ہے، اور ایسی غذاؤں کا بہت زیادہ استعمال کرنا آپ کی صحت کے لیےمضر ہوتا ہے۔ان غذاؤں کے فوائد بھی ہیں، لیکن […]

The post وہ غذائیں جو یادداشت کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لیے غذائیت کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن کچھ ایسی غذائیں بھی ہوتی ہیں جن کا بہت زیادہ استعمال آپ کی یادداشت کو کمزوربنادیتا ہے، اور ایسی غذاؤں کا بہت زیادہ استعمال کرنا آپ کی صحت کے لیےمضر ہوتا ہے۔ان غذاؤں کے فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا زیادہ استعمال انسانی یادداشت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان غذاؤں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں ۔

سفید چاول

سفید چاولوں میں کاربس زیادہ مقدار میں موجود ہونے کے باعث یہ ذہنی فنکشن کے لیے ٹھیک نہیں، ان چاولوں کو زیادہ کھانے سے ڈپریشن کا خطرہ بھی کافی حد تک بڑھ سکتا ہے۔اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ گندم کا استعمال اپنی زندگی میں بڑھا دیں۔


اس بارے میں جانئے :یو گاکے ساتھ پر سکون زندگی

سویا ساس

سویا ساس جیسی چیز آپ کو فائدہ پہنچانے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے، اس میں نمک اور سوڈیم کی مقدار بےانتہا زیادہ ہوتی ہے اور ان دونوں کا زیادہ استعمال دماغ کے لیےانتہائی نقصان دہ ہے، یہ دماغ تک خون کے بہاؤ کوکم کرتا ہے جس سے یادداشت کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ کئی اور مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹونا مچھلی

ٹونا مچھلی میں بےانتہا پروٹینز موجود ہوتے ہیں، اور یہ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہے، لیکن اسے بہت زیادہ کھانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہےاس مچھلی کو 2 ہفتوں میں صرف ایک بار کھایا جائے تو بہتر ہے، یہ اتنی گرم ہوتی ہے کہ اگر اسے زیادہ کھایا جائے تو دماغ متاثر ہوسکتا ہے، جس سے یادداشت بھی کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

کینو کا جوس

کینو کے جوس میں چینی کی مقدار بےانتہا زیادہ ہوتی ہے، اور یہ بہت سی وجوہات کے باعث خطرناک ہے۔اس کا زیادہ استعمال آپ کی روز مرہ کی زندگی کومتاثر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے ذہن کو کمزور کرتا ہے، جبکہ اس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے انسان آہستہ آہستہ خود کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔


یہ بھی پڑھئے :ذہنی دباؤ کے انسانی جسم پر اثرات


The post وہ غذائیں جو یادداشت کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
کیا بچوں کو بھی سپلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟ https://htv.com.pk/ur/moms/kids-health-tips Tue, 19 Feb 2019 06:00:09 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=30712 supplements for kids

بہت سے والدین اپنے بچوں کو ملٹی وٹامنزایم وی ایم سپلیمنٹ استعمال کراتے ہیں تاکہ انھیں وہ تمام ضروری اجزاء حاصل ہو ں جو ان کی صحت کو بڑھانے کے ساتھ ،توانائی حاصل کرنے اور بیماریوں سے بچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کریں ۔ تقریبا چار میں سے ایک بچہ ایم وی ایم یا […]

The post کیا بچوں کو بھی سپلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
supplements for kids

بہت سے والدین اپنے بچوں کو ملٹی وٹامنزایم وی ایم سپلیمنٹ استعمال کراتے ہیں تاکہ انھیں وہ تمام ضروری اجزاء حاصل ہو ں جو ان کی صحت کو بڑھانے کے ساتھ ،توانائی حاصل کرنے اور بیماریوں سے بچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کریں ۔
تقریبا چار میں سے ایک بچہ ایم وی ایم یا توانائی کا سپلیمنٹ لیتا ہے۔ وہ بچے جو توانائی کی کمی کے خطرات سے دو چار ہوتے ہیں ان میں توانائی کو استعمال کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ جبکہ وہ بچے جو متوازن غذا کھاتے ہیں ا ور جن کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے وہ زیادہ ایکٹو اور صحت مند ہوتے ہیں ۔
وٹامنز کا استعمال4سے6 سال کی عمر کے بچوں میںسب سے زیادہ اور12سے17سال کی عمر کے بچوں میں سب سے کم ہوتا ہے۔
زیادہ تر بچوں کو غذا کے ذریعے تمام ضروری اجزاء نہیں مل پاتے۔امریکن اکیڈمی آف پیڈایاٹرکس(AAP)اور امریکن ڈائٹنگ ایسوسی ایشن کے مطابق ضروری توانائی حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ متوازن اور توانائی سے بھرپور غذا ہے۔
اے اے پی ایک سال سے زیادہ عمر کے صحت مند بچوں کو سپلیمنٹ دینے کا مشورہ نہیں دیتی۔پھر بھی ماہرِ اطفال اور غذا کے ماہرین کمزور بچوں یا مخصوص اور پرہیزی غذا کھانے والے بچوں کو سپلیمنٹ دینے کا مشورہ دے سکتے ہیں ۔
مثال کے طور پرجو بچے دودھ سے بنی چیزیں نہیں کھاتے انھیں کیلشیئم سپلیمنٹ کی،جبکہ سبزیاں کھانے والے بچوں کو آئرن سپلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچوں اوربڑوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے 70 فیصد بچوں کووٹامن ڈی کی مناسب مقدار نہیں مل پاتی جبکہ تقریبانوفیصد بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہے۔
زیادہ وزن رکھنے والے یا موٹے بچوں میںوٹامن ڈی کی کمی پہلے سے ہی موجود ہوتی ہے۔غذاکے ماہرین کے مطابق پیدائش کے پہلے سال میں روزانہ400آئی یو ( انٹرنیشنل یونٹس) جبکہ ایک سال کی عمر کے بعد روزانہ 600آئی یو وٹامن ڈی لیناچاہئیے۔
بچوں کو وٹامن ڈی کی صحیح مقدار فراہم کرنے کے لئے والدین یا ان کی پرورش کرنے والے لوگوں کو ماہر اطفال اور غذا کے ماہرین سے رابطہ کرنا چاہئے۔
بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کی بناء پر گزشتہ چند سالوں سے غذائی سپلیمنٹ میں وٹامن ڈی کی مقدار کو بڑھا دیا گیا ہے۔
بہت سے لڑکے(9سے 13 سال کی عمر کے دوران)اور لڑکیاں (9سے18سال کی عمرکے دوران) اپنی غذا سے مناسب کیلشیئم حاصل نہیں کر پاتے۔

غذائیت سے بھرپور سپلیمنٹ:

بچوں کے لئے تیار کردہ ایم وی ایم سپلیمنٹ آسانی سے چب جانے والے ،لیسدار یا لکوئڈ کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ صرف ایک چیز کے بھی الگ سپلیمنٹ دستیاب ہیں جو ان بچوں کے لئے مفیدہیں جن میں کسی ایک چیز کی جیسے وٹامن ڈی یا کیلشیئم کی کمی ہو ۔
بچوں کی بہترین نشونماء اور وزن میں اضافے کے لئے ایسے بھی لکوئڈ سپلیمنٹ ہیںجن میںپروٹین،فیٹ،فائبر،وٹامنز اور منرلز شامل ہیں۔ لکوئڈ سپلیمنٹ کے استعمال کے بارے میں والدین کو ماہر اطفال اور غذا کے ماہرین سے مشورہ کرنا چاہئے۔
بچوں کے لئے بنائے گئے ایم وی ایم سپلیمنٹ میںدل اور دماغ کی صحت اور نشونماء کے لئے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ،قوت مدافعت کو بڑھانے کے وٹامن سی اس کے علاوہ آئرن،کیلشیئم،زنک،وٹامن بی،وٹامن ڈی اور وٹامن ای شامل کئے جاتے ہیں۔ جن کی عام طور پر بچوں میں کمی ہو جاتی ہے۔
مزید یہ کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے تیار کئے گئے فارمولے میںان کی تمام غذائی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔لڑکیوں کے لئے بنائے گئے فارمولے میںآئرن کی اضافی مقدار شامل کی جاتی ہےجو ماہواری کے دوران آئرن کی کمی اور انیمیاء سے بچانے میں مدد دیتے ہیں ۔
دوسری طرف لڑکوں کے لئے تیار کردہ فارمولے میں مسلز کی کارکردگی اور نشونماء کو بڑھانے والے غذائی اجزاء شامل کئے جاتے ہیں ۔

خلاصہ:

ایم وی ایم سپلیمنٹ کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا چاہئے تاکہ انھیں اضافی خوراک سے بچایا جاسکے۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ انھیں اس سے مٹھائی کا دھوکہ بھی ہوسکتا ہے ۔والدین کو بچوں کو اتنی ہی خوراک دینی چاہئے جو ان کے لئے مناسب ہے۔
انھیں تجویز کردہ خوراک سے زیادہ نہیں دینا چاہئے۔اضافی خوراک خاص طورپر فیٹس کے ساتھ ملے ہوئے وٹامنزجسم میں زہریلے مادے بنانے کا باعث بنتے ہیں۔کیونکہ بچوںکو بہت سی بیماریوں جیسے،ایستھیما،شوگر،الرجیزاور چلبلا پن وغیرہ کے علاج کے لئے مزیددوائیں بھی دی جاتی ہیں۔
اس لئے ماہرین کو سپلیمنٹ تجویز کرنے سے پہلے ان دوائوں کے ایک دوسرے پر اثرات کا جائزہ ضرورلینا چاہئے۔
والدین سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر کو انھیں یہ سمجھانا چاہئے کہ یہ سپلیمنٹ عارضی طور پرغذائیت میں اضافے کے لئے ہوتا ہے اور یہ متوازن غذا کا نعم البدل نہیں ہے۔
انھیں یہ بات بھی ذہن نشین کرانی چاہئے کہ یہ سپلیمنٹ جسم میں غذائیت کی کمی نہ ہونے اورجمع رہنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں ۔اور یہ بھی کہ یہ سپلیمنٹ وٹامنز کی کمی کا علاج نہیں کرتے۔
غذائیت کی کمی کے آثار نمایاں ہونے پر صحیح علاج کے لئے مریض کو پہلے بنیادی ذرائع استعمال کرنے کا مشورہ دینا چاہئے۔جہاں تک ممکن ہو اس کے لئے مفید طریقہ علاج کا انتخاب کیا جائے تاکہ جسم میں زہریلے مادے پیدا کرنے والے آئرن اور وٹامنز (جس میں فیٹس ملے ہوتے ہیں)سے بچایا جاسکے۔
فارماسسٹ سپلیمنٹ کے انتخاب اور دوائوں کے اثرات پہچاننے کے لئے والدین کی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں۔
اگر آپ کومعمولی سا بھی شبہ ہے کہ آپ کے بچے کو سپلیمنٹ کی ضرورت ہے تو والدین کوچاہئے کہ وہ ایم وی ایم سپلیمنٹ کے لئے بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
یہاں مریض کو یہ بات خاص طور پر یاد دلانا ضروری ہے کہ بچے کی مکمل صحت کے لئے صحت بخش ،متوازن غذا کا کوئی نعم البدل نہیں۔


 اس بارے میں جانئے : کافی بنانے کے منفردانداز


The post کیا بچوں کو بھی سپلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>