نوجوانوں کا عالمی دن

262

بین الاقوامی ادارے ا قوام متحدہ کے زیر نگرانی ہر سال مختلف دن منائے جاتے ہیں جن میں ایک نوجوانوں کا عالمی دن بھی ہے۔جس کا مقصد نوجوانوں کی فلاح و بہبود اورمعاشرے میں ان کے مقام پر روشنی ڈالنا ہے ۔ اس دن کو منانے کامقصدنوجوانوں کو ناصرف تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ دنیا بھر کے نوجوانوں کو( چاہے وہ امیر ہوں یا غریب)ملکی ترقی میں بھی شامل کرنا ہے۔

نوجوانوں کی ترقی اور تحفظ کے ساتھ ان کی تعلیم،روزگار ،صحت ،ماحول ،اپنی ذمہ داریوں سے غفلت ،اوران میں عام ہونے والی بیماریوں کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے ۔یہ تمام باتیں نوجوانوں کے عالمی دن کے دسویں سال 1995میں سرکاری سطح پر طے پائیں۔
نوجوانوں کا عالمی دن ہر سال 12اگست کو منایا جاتاہے۔جس میں نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔2019 کا موضوع نوجوانوں کی تعلیم کو بہتر بنانا ہے ۔اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ترقی کے لئے تمام نوجوانوں کی مساوی تعلیم ہونی چاہئے۔کیونکہ مساوی تعلیم کے ذریعے ہی غربت ،نسلی امتیازکا خاتمہ اور معاشرے کی بہتر نشونماء اور ترقی ممکن ہے۔


نوجوانوں میں ڈپریشن کی10وجوہات


نوجوانوں کی مساوی تعلیم کے لئے فلاح و بہبود کے ادارے حکومت کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کو قائم کرنے اور نوجوانوں کی ترقی کے لئے نئی تعلیمی پالیسیوں اور ٹریننگ پروگراموں کو شروع کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔
2019 میں منائے جانے والے نوجوانوں کے عالمی دن کے ذریعے اس سلسلے میں کئے گئے کاموں اور کوششوں اور ان سے حاصل ہونے والے تجربات پر روشنی ڈالی جائے گی ۔اس طرح اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا راستہ بھی نمایاں ہو جائے گا ۔

اس ضمن میں سب سے خاص بات یہ کہ کسی ملک کی ترقی کا دارومدا ر اس کے نوجوانوں پر ہوتا ہے اس کی وجہ ان کی جدید تعلیم اور نئی دنیا کے نئے تقاضوں سے آراستہ ہوکر چلنا ہے۔ وطن عزیز میں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر محیط ہے جو کہ ملکی ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ حکومت پاکستان کو یہ بات سمجھنی چاییئے کہ ان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس ملک کے نوجوان ہیں جن کوتھوڑی سے رہنمائی کی ضرورت ہے جس کے بعد یہ مکمل ہیرا بن کر کر ملک عزیز کی بھرپور خدمت کریں گے۔


نوجوانوں کے لیے متوازن غذاکیا ہونی چاہیے؟


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...