جگر کے مریضوں کے لئے احتیاطی تدابیر

28,015

جگر ہمارے جسم کاسب سے بڑاغدود ہے۔یہ جسم میں ایک فیکٹری کی حیثیت رکھتاہے جوجسم کے ضروری بنیادی اجزاء بناتاہے۔ اسی لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔کہاجاتاہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اسی لئے جگرکے مریض خواہ وہ جگر کے کسی بھی مرض میں مبتلاہوں اگر چند احتیاطی تدابیراپنالیں تو وہ اپنے مرض سے جلد صحت یاب ہوسکتے ہیں۔

۱۔صبح کی سیر

جگر کے مریضوں کوصبح کی سیر روزانہ لازمی کرنی چاہئے۔صبح کے وقت تازہ ہوامیں سانس لینے کاعمل ان کی صحت کے لئے نہایت ضروری ہے۔تازہ ہوا مریض کے لئے مفید ہے۔

۲۔مکمل آرام

جگر کے امراض میں مکمل آرام صحت کی ضمانت ہوتاہے۔آپ جتناآرام کریں گے اورپرسکون رہیں گے توآپ کی بیماری آپ سے اتنی ہی دوررہے گی۔

۳۔ڈپریشن سے دور

کوشش کریں کے ٹینشن اورڈپریشن سے دوررہیں۔ہروقت خوش رہنے کی کوشش کریں۔ذہنی کشیدگی کسی بھی مرض کی شدت کاسبب بن سکتی ہے اسی لئے اس سے بچنے کی کوشش کریں۔

۴۔صحت بخش غذ

آؓکھٹی اورترش اشیاء ،انڈے ،گرم مصالحے اورمرغن غذاؤں کااستعمال نہیں کرناچاہئے۔چکنائیوں سے پرہیز لازمی ہے۔بھوسہ ملے آٹے کی روٹی اوردہی استعمال کریں۔

۵۔پروٹین کی کم مقدار

بعض اوقات جگر کے افعال پرزیادہ اثر پڑکرخون میں ایمونیا کی مقدار بڑھنی شروع ہوجاتی ہے جویادداشت پربرااثرڈالتی ہے۔اسی لئے غذامیں پروٹین کی کم مقدار لینی چاہئے۔

۶۔پھل اورسبزیاں

پھل اورسبزیاں کسی بھی انسان کیلئے مفید ثابت ہوتی ہیں۔جگرکے امراض میں رس دار پھل زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔سبزیاں ابال کرکھائیں۔دوپہرکے کھانے میں سلاد ضرورلیں۔

۷۔مشروبات

چائے ،کافی اورالکحل والے مشروبات سے سخت پرہیز کریں۔لسی اوردودھ کااستعمال مفیدہے۔ مریض ایسی چیزیں استعمال کرنی چاہئیں جس سے اس کے دل ودماغ کوتقویت ملے۔

۸۔نشہ آوراشیاء سے پرہیز

سگریٹ نوشی،تمباکونوشی ،ہرقسم کی منشیات اورکسی بھی قسم کی نشہ آوراشیاء سے پرہیز لازم ہے۔ایسی اشیاء جگر کے مریضوں کے لئے نقصان کاباعث ہوتی ہیں۔

۹۔صحت وصفائی کاخیال

مریض کوصاف ستھرارہناچاہئے اور ہمیشہ کھلے ،صاف اورہوادار کمرے میں رکھناچاہئے۔رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کواچھی طرح صابن سے دھوئیں۔کھانے کی اشیاء ڈھانپ کررکھیں۔

۱۰۔خون کی تبدیلی

اگر خون کے انتقال کی ضرورت پڑے توہمیشہ محفوظ،اسکرین شدہ،صحت مند اورمعیاری خون لگوائیں۔انجیکشن کے لئے ہمیشہ ڈسپوزیبل سرنج کااستعمال کریں۔

۱۱۔ادویات میں احتیاط

بہت سی ادویات جگرمیں میٹابولائز کرتی ہیں۔مریض کوایسی ادویات بالکل نہیں دینی چاہئیں کیونکہ ان کی بڑھی ہوئی مقدار جسم پربرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

۱۲۔ضروری ہدایت

اپنے آپ کوموسم کے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ساتھ ہی مریض کوقبض نہیں ہوناچاہئے۔جگرکی بیماری میں اگر کوئی شیرخوار بچہ مبتلاہوتواس کی ماں کوچاہئے کہ وہ گرم اشیاء سے مکمل پرہیز کرے۔

مزید جانئے : ٹھنڈا پانی پینے کے نقصانات


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...