میٹا اسٹیٹک بریسٹ کینسر ،علامات

1,913

میٹا اسٹیٹک بریسٹ کینسر ،چھاتی سے شروع ہوکر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ بریسٹ کینسر کا چوتھا اسٹیج کہلاتا ہے۔اس بیماری کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے صحیح علاج کے ذریعے زندگی کے کچھ سال بڑھ ضرور سکتے ہیں ۔اسٹیج ۴ کے شروع ہونے کے بعد مریض کتنا جئے گا اس کا دارومدار اس کے مرض کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ میٹااسٹیٹک بریسٹ کینسر کے ۲۷ فیصد مریض ۵ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں ۔جدید طریقہ علاج کی بدولت میٹا اسٹیٹک بریسٹ کینسرکے مریضوں کی زندگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور ان کا طرز زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔

میٹا اسٹیٹک بریسٹ کینسر کیا ہے؟

کینسر میٹا اسٹیٹک اس وقت بن جاتا ہے جب یہ اپنی اصل جگہ سے نکل کر دوسرے حصوں میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔بریسٹ میں شروع ہونے والا کینسر ان حصوں تک پھیل سکتا ہے ۔
۔ہڈیاں
۔دماغ
۔پھیپھڑے
۔جگر
اگر کینسر بریسٹ تک محدود رہے تو اس سے زندگی کو خطرہ نہیں ہوتا ۔اگر یہ بڑھ لمف نوڈز تک چلا گیا ہے تب بھی اس کا علاج ممکن ہے۔لہٰذا بریسٹ کینسر کی ابتدا میں ہی تشخیص اور علاج نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔بریسٹ کینسر کاکامیاب علاج جسم سے کینسر کو بالکل ختم کرسکتا ہے۔لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ کچھ مہینوں یا سالوں بعد یہ بیماری جسم میں واپس نہیں آئے گی۔

علامات:

۔تھکن محسوس ہونا
۔توانائی کی کمی
۔طبیعت ناساز ہونا
۔بھوک کی کمی

بریسٹ کینسر کہاں تک پھیل سکتا ہے:

بریسٹ سے بڑھ کر کینسر لمف نوڈز،ہڈیوں،جگر اور پھیپھڑوں تک جاسکتا ہے۔ہر حصے میں کینسر کی موجودگی کی علامات مختلف ہوتی ہیں ۔یہ بھی ضروری نہیں کہ مریض میں یہی تمام علامات ظاہر ہوں بہر حال ایسی کوئی بھی علامت جو آپ کے لئے پریشانی کا باعث بنے اس کے لئے ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے۔


کیا چائے کی عادت کینسر کا باعث بن سکتی ہے؟

لمف نوڈز میں جانے والے کینسر کی علامات:

لمف نوڈز جسم میں موجودٹیوبس اور گلینڈز پر مشتعمل ہوتے ہیں جو جسم میں موجود فلوئڈ کو صاف کرتے ہیں اور انفیکشن کا مقابلہ کرتے ہیں ۔کینسر کے لمف نوڈز تک پہنچنے کی سب سے عام علامت سوجن یا سختی محسوس ہونا ہے۔ لمف نوڈز میں کینسر کی موجودگی کی یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں َ
۔بغل میں سوجن یا گلٹی محسوس ہونا
۔بازو یا ہاتھ پر سوجن آجانا
۔ہنسلی کی ہڈی کے آس پاس سوجن یا گلٹی محسو س ہونا ۔
سب سے پہلے بریسٹ کینسر پھیل کر اسی بریسٹ کی طرف کے لمف نوڈ میں جاتا ہے۔

کینسر کے ہڈیوں میں جانے کی علامات:

کینسر کے ہڈیوں میں جانے کی وجہ سے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔
۔متاثرہ ہڈی میں درد یا ٹیسیں اٹھنا
۔ہڈیاں کمزور ہوجانا اور معمولی چوٹ سے ٹوٹ جانا
جب کینسر سے ہڈیوں کو نقصان پہنچنے لگتا ہے تو ان کا کیلشیئم نکل کر خون میں شامل ہونے لگتا ہے اور یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔

۔تھکن
۔طبیعت ناساز ہونا
۔قبض
۔بے چینی
۔پیاس
۔الجھن محسوس ہونا

کینسر کے جگر تک پہنچنے کی علامات:

اگر کینسر جگر تک پہنچ گیا ہے تو یہ علامات یا ان میں سے کچھ ظاہرہو سکتی ہیں ۔
۔تھکن ۔
۔پیٹ کے دائیں حصے میں( جہاں جگر ہوتا ہے)بے چینی یا درد ہونا ۔
۔طبیعت گری ہوئی(متلی) محسوس ہونا
۔بھوک نہ لگنا
۔پیٹ پھولنا
۔جلد پر زردی آجانا یا خارش ہونا

اگر کینسر پھیپھڑوں میں چلا جائے:

اگر کینسر پھیپھڑوں میں چلا جائے تو یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ۔
۔نہ ختم ہونے والی کھانسی ہونا
۔سانس نہ آنا
۔سینے میں مستقل انفیکشن رہنا
۔کھانسی کے ساتھ خون آنا
۔سینے اور پھیپھڑوں کے درمیان پانی بھر جانا

کینسر کے دماغ میں چلے جانے کی علامات:

دماغ میں چلے جانے والے کینسر کی علامات کا انحصار اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں کینسر واقع ہوا ہے۔دماغ کے کینسر کی یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
۔سر میں در اور طبیعت گری ہوئی محسوس ہونا
۔ہاتھوں اور ٹانگوں میں کمزوری یا سن پن محسوس ہونا
۔یادداشت کمزور ہونا
۔روئیے میں تبدیلی آنا
۔نظر کمزور ہونا


مزید جانئے :آنکھوں کا انفیکشن،احتیاط اور علاج


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...