آپ کی غذا موت کا سبب بھی بن سکتی ہے

1,727

پاکستانیوں کو کھانے کا بہت شوق ہوتا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ ہم جینے کے لئے نہیں کھاتے بلکہ کھانے کے لئے جیتے ہیں ۔ہمیں کھانے سے کتنی محبت ہے اس کے لئے ہمارا بیف کا شوقین ہونا ہی کافی ہے۔
چٹپٹی نہاری ہو یا حلیم کی پلیٹ یا مہارت سے بنائے گئے شامی کباب ہر چیز گائے کے گوشت میں ہی زیادہ مزیدار لگتی ہے۔مرغی کھانے والے ہم سے نفرت نہ کریں ،آپ لوگوں کی تعداد تو بہت کم ہے۔
اور اب جبکہ عید الاضحی میں ایک مہینہ بھی نہیں رہا بہت سے لوگوں نے تو وہ پکوان بھی سوچ لئے جو انھیں قربانی کی گائے سے تیار کرنے ہیں۔لیکن اس سے پہلے کہ ہم گائے کے گوشت کی مزید بات کریں اور ساتھ ہی ایک چپلی بن کباب کابھی آرڈر دے دیں اور اس کے ساتھ ایک بری خبر بھی سناتے چلیں۔
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ریڈ میٹ کھانے والے لوگوں کی موت کے خطرات زیادہ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ بہت سی بیماریوں جیسے کینسر ،دل کی بیماریوں،سانس اور ذہنی صلاحیتوں کو کم کرنے والی بیماریوں کا آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں۔یاد رہے ریڈ میٹ میں بھیڑ کا گوشت بھی شامل ہے۔
برٹش میڈیکل جنرل میںریڈ میٹ کھانے کی عادت میں تبدیلی سے شرع اموات پر پڑنے والے اثر سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی گئی۔یہ رپورٹ ۱۹۸۶ سے ۲۰۱۰تک کی تھی۔


سر چکرانے کی چند وجوہات یہ بھی ہوسکتی ہیں


آئی ای این ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق جو لوگ ریڈ میٹ کے بجائے دوسرے ذرائع جیسے انڈا اور مچھلی،ثابت اناج اور سبزیوں سے پروٹین حاصل کرتے ہیں وہ زیادہ لمبے عرصے تک جی سکتے ہیں ۔لیکن گائے کے گوشت کا استعمال بالکل ترک نہیں کرنا ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ ۸ سال تک ایک ہفتے میں3سے 5مرتبہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں ان میں اگلے آٹھ سالوں میں اموات کا تناسب ۱۰ فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اگرچہ یہ تحقیق یو ایس اے کے رہنے والوں پر کی گئی ہے لیکن ہم اس سے بہ آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ ایک ہفتے میں اس سے زیادہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں ۔
لہٰذا صحت مند زندگی گزارنے کے گوشت کے استعمال کو کم کرکے اسکے بدلے مچھلی،وائٹ میٹ اور سبزیوں کا استعمال نہایت ضروری ہے۔لمبی زندگی کے لئے بیف بریانی کی جگہ چکن بریانی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس کے ساتھ آلوئوں کو بھی نہ بھولیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں


ترجمہ : سعدیہ اویس 


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...