Facebook Pixel

ہر وقت تھکاوٹ رہنے کی وجوہات

1,830

انسان کودن بھرکے کاموں کے بعدتھکاوٹ کااحساس ہوناایک فطری عمل ہے لیکن بعض اوقات یہ تھکاوٹ بے معنی اوربلاوجہ بھی ہوتی ہے۔ بلاوجہ اورمستقل طاری رہنے والی تھکاوٹ کی کئی ذہنی اورجسمانی وجوہات ہوتی ہے۔اس تھکاوٹ کے پیش نظرانسان کسی بھی سرگرمی میں دلچسپی کامظاہرہ نہیں کرتااوربیزاری کاشکارنظرآتاہے۔کوئی بھی کام یاسرگرمی کسی بوجھ کی طرح محسوس ہوتی ہے۔اگرآپ بھی اس تھکاوٹ کاشکارہیں تواپنی تھکاوٹ کی وجہ تلاش کریں اورذیل میں دی گئی ہدایات پرعمل کریں۔

1۔نیند کی کمی/ زیادتی

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جولوگ نیند کی کمی/ زیادتی کاشکارہوتے ہیں وہ مستقل تھکاوٹ میں مبتلارہتے ہیں۔کسی بھی انسان کی بھرپورصحت اورفعالیت کے لئے صحت بخش نیندبہت ضروری ہے۔اگرآپ رات کے ابتدائی حصے میں جاگنے کے عادی ہیں توکوشش کریں کہ صبح ہونے سے قبل اپنی نیندپوری کرلیں۔سونے سے کچھ وقت قبل کیفین کااستعمال کم کردیں۔گھرمیں موجودتمام الیکٹرونک ڈیوائسس بندکردیں۔بیڈ روم میں پرسکون اورنیندآورماحول ترتیب دیں۔روشنی کے سبب نیندکے ہارمون ڈسٹرب رہتے ہیں اسی لئے مدھم روشنی رکھیں۔اس کے ساتھ ساتھ اگرآپ زیادہ دیرتک سونے کے عادی ہیں تواس عادت کوترک کرنے کوشش کریں۔

2۔ورزش اوروالک کافقدان

ہمارے ہاں اکثرلوگ اب بھی ورزش اوروالک کے عادی نہیں ہیں۔چلنے سے بیزاری تواتنی زیادہ ہے کہ اردگرد جانے کیلئے بھی گاڑی کااستعمال کیاجاتاہے۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ورزش کرنے سے تھکن نہیں ہوتی بلکہ توانائی میں اضافہ ہوتاہے۔نقل وحمل کے لئے پیدل چلنے کوترجیح دیں۔روزانہ صبح والک پرجائیں۔گھرکے چھوٹے موٹے کام اپنے ہاتھ سے کریں ہوسکے توجم جاناشروع کردیں پھردیکھیں تھکاوٹ آ پ سے کیسے دورہوتی ہے۔

3۔پانی کی کمی

پانی کی کمی سے تھکاوٹ کاگہراتعلق ہے جی ہاںپانی کی کمی سے موڈ کی خرابی اوربیزاری کی شکایات پیداہوتی ہیں۔اس کے علاوہ پانی کی کمی سے توجہ میں کمی اورالجھن میں اضافہ ہوتاہے۔دن میں آٹھ گلاس پانی پینے سے آپ میں پانی کی کمی نہیں ہوپاتی اور آپ فعال رہتے ہیں۔اگرآپ زیادہ پانی پینے کے عادی نہیں ہیں توکوشش کریں کہ ایسی غذاؤں کااستعمال کریں جن میں پانی کی وافرمقدارپائی جاتی ہے جیسے خربوزہ،تربوزاورکھیرا وغیرہ


مزید جانئے :5 ٹوٹکے ذہنی صلاحیت بہتر بنانے کے

4۔غیرمتوازن غذا

اگرآپ کیفین ،چینی،کاربوہائیڈریٹ اورچکنائی پرمبنی غذائیں کھانے کے عادی ہیں توجان لیں کہ اس سے خون میں شکرکی سطح میں اضافہ ہوتاہے جوتھکاوٹ کی اہم وجہ ہے۔آپ دیکھیں جولوگ اپنی غذاکاخاص خیال رکھتے ہوئے متوازن غذالیتے ہیں وہ دیگرافرادکے مقابلے میں زیادہ چاک وچوبندرہتے ہیں۔عام چائے کی جگہ سبزچائے اورناقص اسنیک کی جگہ پھل منتخب کریں۔توانائی میں اضافہ کے لئے متوازن اورصحت بخش غذاکاانتخاب ضروری ہے۔

5۔B12کی کمی

وٹامن B12کی کمی سے جسم کے ٹشوز کوناکافی آکسیجن فراہم ہوتی ہے۔اس سے تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔قدرتی غذائی اجزاء کی کمی سے جسم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔اسی لئے بھرپورصحت کے لئے روزمرہ کی بنیاد پرجسمانی ضروریات کاپوراہونابے حد ضرور ی ہے۔قدرتی غذاؤں کے ذریعے اسے آسانی سے پوراکیاجاسکتاہے۔ایسی غذاؤں کاانتخاب کریں جن میں وٹامن B12 وافرمقدارمیں پایاجاتاہے جیسے انڈے،دودھ، پنیر،گوشت،مچھلی اورمرغی وغیرہ۔


اس بارے میں جانئے :10عادتیں جوکامیاب لوگ کبھی نہیں اپناتے

6۔دائمی امراض

صحت کے مختلف دائمی امراض تھکاوٹ کاسبب بنتے ہیںجیسے ذیابیطس،بلڈپریشر،خون کی کمی،تھائی رائڈکے مسائل ،پھیپھڑوں اوردل کے امراض اورخواتین میں دوران حمل ا ورپیدائش کے بعد ہونے والی تھکاوٹ وغیرہ۔ان امراض سے لاپرواہی نہ برتیں بلکہ فوری طورپرڈاکٹرسے رجوع کریں۔بروقت تشخیص سے ان امراض کومناسب طریقے سے منظم کیاجاسکتاہے۔جس سے تھکاوٹ دورہوسکتی ہے۔

7۔ادویات کااستعمال

کچھ ادویات ایسی ہیں جن کے استعمال سے مستقل تھکن کااحساس رہتاہے جیسے اینٹی ڈپریسنٹ،اینٹی ہائپرٹینسو،سٹیرائڈز وغیرہ۔ادویات کے استعمال سے غنودگی اوربے چینی کی شکایت بھی بڑھ جاتی ہے۔تھکاوٹ کی وجہ اگرادویات ہوں توڈاکٹرسے مشورہ کرکے انھیں ترک یاتبدیل کردیں۔ڈاکٹرکی ہدایت کے مطابق ان کی مقدارمیں کمی بھی کی جاسکتی ہے لیکن یادرکھیں کوئی بھی فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے بجائے ڈاکٹرسے ضروررائے لیں۔

تشخیصی ٹیسٹ

تھکاوٹ ایک مرض ہے اسی لئے اس کی تشخیص اوربنیادی وجوہات جاننے کے لئے جوٹیسٹ کروائے جاتے ہیں ان میں پیشاب ٹیسٹ،خون ٹیسٹ،امیجنگ اسکین اورذہنی صحت سے متعلق سوالات وغیرہ شامل ہیں۔ان ٹیسٹ کی مددسے انسان کودرپیش مسائل جیسے انفیکش،ہارمونل عدم توازن،خون کی کمی،جگراورگردوں کے امراض وغیرہ کاعلاج کیاجاتاہے۔یادرکھیںاگرمرض کی تشخیص ہوجائے تواس کاعلاج ممکن ہے۔مثال کے طورپرذیابیطس کوکنٹرول کرنے سے تھکاوٹ کامسئلہ حل کرنے میں کافی مددمل سکتی ہے۔


اس بارے میں پڑھئے :پر سکون نیند اور انرجی سے بھرپور دن گزارنے کے لئے تھری ڈے پلان

تبصرے
Loading...