خواتین میں موٹاپے اوردبلے پن کی وجوہات

12,130

موٹاپے اوردبلے پن کاتعلق صرف اورصرف کھانے پینے سے نہیں بلکہ اسکی دیگر پوشیدہ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں اگر کسی اضافی وزن کی خاتون کودیکھاجائے تو یہی سوچاجاتاہے کہ اسکی خوراک زیادہ اورکام کم ہوگا اوربے چاری دبلی پتلی خاتون کوکام کے بوجھ تلے دبہ ہواسمجھاجاتاہے جبکہ حقیقت بعض اوقات اسکے برعکس ہوتی ہے۔بہت سی ایسی خواتین جن کاکہناہوتاہے کہ وہ زیادہ کھانانہیں کھاتی پھر بھی انکاوزن بڑھتاجاتاہے اورکچھ ایسی خواتین ہیں جوانڈرویٹ رہتی ہیں چاہے وہ کتنابھی کھائیں۔
اگر آپ صحت بخش اوراپنی ضرورت کے مطابق خوراک لیتے ہوئے بھی اضافی وزن یاانڈر ویٹ کے مسئلہ کاشکار ہیں تو ضروراپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ وہ اسکی وجوہات تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرسکیں۔

۱۔لیکوریا

یہ مرض خواتین کودیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ جاتاہے۔کیونکہ اس مرض میں مبتلاخاتون یاتو بہت دبلی پتلی ہوجاتی ہیں یاپھر بہت
موٹی لیکن طاقت دونوں ہی میں نہیں رہتی۔ پتلی خواتین کی یہی شکایت ہوتی ہے کہ انھیں کھایاپیالگتاہی نہیں اور جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے وہ کچھ نہ کھا کر بھی پریشان ہی رہتی ہیں۔ اگر آپ اس مرض کاشکار ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں تاکہ وہ اس مسئلے کے حل میں آپ کی مدد کرسکیں اور صحت کی بحالی ممکن ہو۔

۲۔حیض کے مسائل

خواتین کی صحت کے حوالے سے وہ امراض جن پرانھیں خصوصی توجہ دینی چاہئے بعض اوقات وہ نہیں دے پاتی کسی سے اس مسئلے پربات نہ کرناآپ کے مسئلہ کاحل نہیں ہے ۔حیض کے مسائل جیسے حیض کی قلت،کثرت حیض اورماہواری میں ہونے والے دیگر مسائل شامل ہیں ۔ اگر ماہواری کی سائیکل ٹھیک طرح سے نہ چلے تو یہ خواتین میں موٹاپے یادبلے پن کی وجہ بنتے ہیں۔

۳۔ہارمونل عدم توازن

عورت اپنی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔جس کی وجہ سے ہارمون میں عدم توازن آجاتاہے ۔ماہواری شروع ہونے سے لے کربند ہونے یعنی سن یاس تک عورت کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ہارمونل عدم توازن موٹاپے کاسبب بن سکتاہے۔بینگن عورتوں کے ہارمون کے لئے اچھاہے مخصوص ایام میں ضرورکھائیں۔

۴۔خواتین کے امراض

خواتین کے بہت سے ایسے مسائل ہیں جن سے وہ ناواقف رہتی ہیں اورآگے جاکر انھیں انکا علم ہوتاہے جیسے رسولیاں،جسم کاسن ہونااورجسم میں بھاری پن محسوس ہونا۔خواتین کے جسم میں عموماً رسولیاں بن جاتی ہیں جو انکے لئے تکلیف کاباعث بنتی ہیں ساتھ ہی یہ ایسے مسائل ہیں جو موٹاپے کاسبب بنتے ہیں۔لہٰذا انکاعلاج کرواناضروری ہے۔

۵۔تھائی رائڈ

تھائی رائڈ اب ایک عام مسئلہ بنتاجارہاہے ۔خواتین میں تھائی رائڈ کابڑھناوزن میں اضافے کاسبب بنتاہے۔اگر آپ کاوزن بڑھ رہاہواوراس مرض کی علامات ظاہر ہوں تو آپ اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے تھائی رائڈ کاٹیسٹ کروائیں اوراسکاباقاعدہ ٹریٹمنٹ کروائیں تاکہ صحت سے بھرپورزندگی جی سکیں۔

۶۔کینسر

خواتین میں کینسرکاریشوبڑھتاجارہاہے۔اوریہ ایک ایسامرض ہے جس میں وزن کم ہوتاجاتاہے۔اپنی صحت کے لئے اپنی جسمانی تبدیلیوں پرنظر رکھیں اوراگر کوئی بھی تبدیلی یاپریشانی کی بات ہوتوڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج شروع کیاجاسکے۔کسی بھی مسئلے پرپریشان ہونے یاگھبرانے کے بجائے اسکافوری علاج ہی بہترین طریقہ ہے۔

۷۔پیدائش اوراسمیں وقفہ

بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی اکثریت موٹاپے کاشکار اورکچھ خواتین دبلی ہوجاتی ہیں۔اسی طرح بچوں کی مسلسل پیدائش یاان میں وقفہ کیلئے لی جانے والی ادویات بھی بعض اوقات دبلے پن ،کمزوری،وزن میں اضافے اوردیگر مسائل کاسبب بنتی ہیں۔ہارمون ڈسٹرب ہوجائیں تو ایسے مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔لہٰذا کوئی بھی دوا یاٹریٹمنٹ لینے سے پہلے اپنی اعتمادکی ڈاکٹر سے ضروررابطہ میں رہیں۔

۸۔مدر فیڈ

بچے کی پیدائش کے بعد جوبچے مدر فیڈ پرہوتے ہیں انکی مائیں عموماً دبلی اورکمزورہوجاتی ہیں۔اسکی کوئی خطرناک وجہ نہیں بلکہ بچہ کوماں کادودھ پلاناہوتاہے۔ جوماں اوربچہ کی صحت کے لئے بہت اچھاہوتاہے۔ دوران رضاعت خواتین کادبلاہوناکسی مسئلہ اور خطرہ کی بات نہیں ہے۔ ایسی خواتین بس اپنی صحت کاخیال رکھیں اور خوراک اچھی لیں تاکہ انکی اوربچہ کی صحت برقرار رہے۔

loading...
تبصرے
Loading...