میٹھے کی طلب دور کرنے کے طریقے

3,756

اچھی صحت کا راز شوگر فری ، گلوٹن فری اور سیل پیک کھانوں سے ہٹ کر صحت مند غذا کھانے میں ہے۔ اس کے لیے ایسی غذا کا انتخاب کیا جاتا ہے جو بہت خوش ذائقہ ہوتے ہیں ۔ انھیں کھانے سے میٹھے کی طلب بھی نہیں ہوتی ۔ ان غذاؤں کا استعمال کر کے سستی سے بچا جا سکتا ہے۔
شکر کی طلب مٹا کر آپ بھی صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

سیل پیک کھانے نہ کھائیں:

میٹھے یاڈبوں میں بند کھانوں کا شوق اکثر لوگوں کو ہوتا ہے اور یہ شوق نشے کی حدتک بڑھتا چلا جاتا ہے کہ ان کے بغیر جینا نا ممکن لگتا ہے۔ ۲۰۱۳ میں ایک تحقیق کی گئی جس میں ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ کوکیز کھانے والے اسکے عادی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ مصنوعی طور پر کھائی جانے والی شکرہے۔

سیروٹونین کو بڑھائیں:

یہ طبیعت میں خوشی پیدا کرنے والا ہارمون ہے جو صحیح غذا ورزش اور نیند کے صحیح روٹین سے بڑھتے ہیں۔جب آپ کے جسم میں وافر مقدار میں سیروٹونین ہوگا تو میٹھا کھانے کی خواہش بھی کم ہوگی۔

میٹھا کھانے کی خواہش کیسے پوری کریں:

قدرتی سوئٹنر اسٹیویا میں زیرو کیلوریز ہوتی ہیں ،اس لئے اسٹیویا شکر سے ۳۰۰ گناذیادہ میٹھاہونے کے باوجودخون میں شوگر لیول نہیں بڑھنے دیتا۔اگر آپ کو میٹھے کی طلب ہے تو یہ قدرتی سوئٹنر بیکنگ کے لئے بہترین ہے۔

بہت سارا پانی پئیں:

بعض اوقات آپ کو میٹھے کی طلب ہوتی ہے جبکہ درحقیقت آپ میں پانی کی کمی ہو رہی ہوتی ہے۔اور آپ کو پانی کی طلب ہو رہی ہوتی ہے۔اس طلب کو دور کرنے کے لئے ۸ اونس پانی میں ۲/۱ لیموں کا رس اور ۵ قطرے اسٹیویا کے ڈالکر پئیں۔
ایک کپ نیم گرم گرین ٹی کو اسٹیویا کے قطرے ڈالکر میٹھا کرلیں۔ اور کھانے کے ساتھ لیں اس طرح میٹھے کی طلب پوری ہوگی اور کسی ڈیزرٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

بلڈ شوگر لیول متوازن رکھیے:

دن میں ۳ مرتبہ زیادہ کھانا کھانے کے بجائے وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کر کے کھائیں اس طرح بلڈ شوگر لیول مناسب رہے گا ۔ دن کے حصے میں یعنی ۱۱ سے ۲ بجے تک گوشت اور پروٹین لیں اور شام کے وقت اناج ،گیہوں ، باجرہ اور جو سے بنی چیزیں کھائیں۔

ہری غذا کھائیں:

ہری اور پودوں والی سبزیاں اور پھل توانائی کا خزانہ ہیں ان کا استعمال توانائی کو بڑھانے کے ساتھ شکر کی طلب کم کرتا ہے۔

خمیر شدہ غذا کھائیں:

خمیر شدہ غذا اور مشروب بھی شکر کی طلب کم کرنے میں مددگا ثابت ہوتے ہیں۔ان غذاؤں کا استعمال ۵۔۴ دن میں ہی میٹھے کی طلب کو کم کرتا ہے ۔دہی ، پنیر، اچار، چھاج ، سرکہ اور خمیری روٹی کا استعمال غذا میں شامل کرنے سے میٹھے کی طلب کافی حدتک کم ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر آپ کوئی میٹھا یعنی پھل یا شکر قندی وغیرہ کھالیتے ہیں تو یہ خمیر شدہ غذائیں جسم میں شکر کے اثرات کو ختم کردیتے ہیں۔

مراقبہ:

ڈہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مراقبہ بہترین ہے ۔ ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مراقبہ ناصرف اسٹریس کو کم کرتا ہے بلکہ ذہنی سوچ کو بھی تبدیل کرتا ہے۔ اسٹریس سے ایک ہارمون کورٹیسل پیدا ہوتا ہے جس سے شوگر لیول بڑھ جاتا ہے ۔ جس سے ہونے والے نقصانات کے نتیجے میں میٹھے کی طلب بڑھتی ہے ۔کھانے سے پہلے مختصر مراقبہ کرنے سے آپ کھانے کے دوران پرسکون رہیں گے جس سے ہاضمہ اچھا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ شکر آپ کے لیے کسی طرح بھی فائدہ مند نہیں اس لیے میٹھے کی خواہش کو اپنی مجبوری نہ بنائیں۔خود کو میٹھے سے دور رکھنے کے طریقے اپناکر آپ جلد میٹھا کھانے کی عادت چھوڑ دیں گے۔

loading...
تبصرے
Loading...