Facebook Pixel

صحت کے6مسائل اور یوگا

2,207

آج کے تیز ترین دور میں ڈپریشن اورا سٹریس کو ہینڈل کرنے کے لیے یوگا ورزشیں اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ہمارے جسم کے ہر حصے میں خون تو دوڑتا ہے لیکن اس کو آکسیجن ایک جیسی نہیں مل پاتی، اس کے لیے بہتر طریقہ ورزش ہے جو یوگا کی صورت میں زیادہ بہتر ہوتا ہے اور میڈیٹیشن کی وجہ سے دماغ کو بھی مکمل آکسیجن مل جاتی ہے۔ یوگا اور ایروبکس دونوں کے الگ الگ فزیکل اوردماغی فائدے ہیں اور اگر انہیں اکٹھا بھی کیا جائے تو فائدے دگنا ہو جاتے ہیں۔صحت کو تادمِ حیات برقرار رکھنے کے لیے ہمیں معمولاتِ زندگی میں ورزش کو شامل کرنا چاہیے اور اگر یہ ورزش یوگا یا ایروبکس کی شکل میں ہو تو زیادہ فائدہ مند اور بچت کا عمل ہو گا۔

یوگا کیا ہے؟

یوگا ہندوستان کی کلاسیکل سائنس ہے۔ یوگا سنسکرت زبان کا لفط ہے جس کے معنی روح کو پانا اوراس میں سماجانا۔ یوگا کی جسمانی اور سانس کی ورزشوں اور مراقبے کے عمل کو اپنے نفس پر قابو پانے اور صحت مند رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی کئی خصوصیات کی بنا پر دنیا بھر میں یوگا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔
1۔ یوگا جسمانی ورزش اور کسرت کا واحد قدیم کامیاب طریقہ ہے۔
2۔ یوگا امراض کے علاج کے لئے مفید ہے۔
3۔ یوگا سے روحانی ارتقاء میں اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا میں یوگا کو مقبول عام کرنے کے لئے مغربی ممالک کے ساتھ عرب اور مسلم ممالک کی نئی نسل میں بھی ’’یوگا‘‘ کا شوق پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی جا رہی ہے۔انسان تین چیزوں سے مل کر بناہے۔۔۔ بدن، دماغ اور روح ۔۔۔انسانی زندگی کے ان حصوں کی کفایت کرنے کے لیے تین ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔
جسمانی ضرورت۔۔۔صحت
دماغی ضرورت۔۔۔علم
روحانی ضرورت۔۔۔ اندرونی سکون
جب یہ تینوں موجود ہوں تو انسانی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے۔

یوگا سے علاج

یوگا کی ہر مشق ہی ایسی ہے جو آپ کی زندگی کو نئے افق کی جانب لے جائے گی۔ اس کی مشقوں کے لیے آپ کو زیادہ بڑی جگہ یا مخصوص وقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔جس انسان کے معمول میں یوگا اور ایروبکس شامل ہو،وہ خود کوجسمانی اور دماغی اسٹورنگ سمجھتا اور ایکٹو رہتا ہے۔ اس سے صحت کے حوالے کے مسائل کے حل کے لیے اپنایا جاسکتا ہے:

1۔طویل ڈرائیونگ

1(12)
کبھی کام اور کبھی سیر و تفریح کے غرض سے طویل وقت تک ڈرائیونگ کرنی پڑجاتی ہے جس کے بعد انسان کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتا۔بلکہ کچھ لوگوں کا تو کام ہی دن بار گاڑی چلانے کا ہوتا ہے ۔عام طور پر لمبی ڈرائیونگ کے بعد کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں بے حد درد ہوتا ہے۔
اس درد کو دور کرنے کے لیے کھڑے ہو کر پیروں کو سیدھا اور ایک دوسرے کے برابر کرلیں ۔ بائیں گھٹنے پر دائیاں پاؤں رکھ کر بیٹھنے کی پوزیشن بنائیں ۔ ہاتھ اوپر کریں اور انگلیاں کھول لیں۔ اسی طرح لمبی لمبی سانسیں لیں ۔ تھوڑی دیر بعد پاؤں کی پوزیشن تبدیل کرلیں ۔

2۔ میٹھے کی طلب

2(11)
یوگا پروگرام ذہن کو کنٹرول کرنے اور ری پروگرام کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ یہ انسان کو پر سکون کرتا ہے اور شخصیت میں ٹہراؤ لے کر آتا ہے ۔ اکثر لوگوں کو اچانک میٹھے کی طلب ہونے لگتی ہے۔ وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے اس طلب کو کنٹرول کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ۔ اگر ہر وقت میٹھا کھانے کا دل چاہے تو یوگا سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے ۔
ایک آرام دہ بیٹھنے کی پوزیشن بنائیں ۔ اپنے بازو اوپر کریں اور وی شیپ بنالیں۔ اپنے کندھوں کو رلیکس کر لیں ۔ اسی پوزیشن میں تین منٹ رہیں اور گہری سانسیں لیں ۔ اس آسن سے آپ کے جسم سے ٹینشن ریلیز ہوگی اور ذہن تمام سوچوں سے آزاد ہو جائے گا ۔

3۔ اداسی دور کریں

Young woman doing yoga exercise tree-pose isolated on white

کبھی صحت کے مسائل اور کبھی زندگی کے دیگر معاملات ہمیں افسردہ کر دیتے ہیں ۔ یوگا انسان کو اسٹریس ریلیز کرنے اور موڈ کو نارمل کرنے میں مدد کرتا ہے ۔مستقل مزاجی کے ساتھ یوگا کے آسن کیئے جائیں تو ذہن پر سکون رہتا ہے ۔
پیروں میں کچھ انچزکا فرق دے کر کھڑے ہو جائیں ۔ پھر اپنا سارا وزن بائیں پیرپر دے کر کھڑے ہو جائیں ۔ دائیں گھٹنے کو موڑیں اور تلووں کی مدد سے گھٹنے کے اوپر والے حصے کو چھوئیں ۔ ہاتھوں کو اپر کی طرف لے جاکر جوڑ لیں ۔یہ ہی عمل دائیں طرف دہرائیں ۔

4۔ سردی اور زکام

4(11)

یوگا سے سردی اور زکام سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ سردی زکام میں آرام بھی پہنچاتا ہے ۔ اکڑ کر بیٹھ جائیں مٹھی کو بند کرلیں اور اپنی تیسری انگلی بائیں نتھنے پر رکھ دیں اور سانس اندر کھینچ کر چار تک گنیں ۔ اب دائیں حصے کو بھی انگوٹھے سے بند کرلیں اور سانس اندر کی طرف کھینچیں اور چار تک گنتی گنیں ۔ اب بائیں جانب سے اپنی تیسری انگلی ہٹائیں اور سانس باہر کی طرف نکالتے ہوئے چار تک گنیں ۔ اس عمل کو تین سے چار بار دہرائیں ۔

5۔ مائگرین

5(9)
سر کا درد بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے خاص طور پر مائگرین کا درد ایک ایسا درد ہے جو اچانک اٹھتا ہے اور ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگاتا ہے ۔ مائگرین کے مریض یوگا کو اپنی زندگی میں شامل کرکہ اس درد سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ۔
مائگرین کے درد کے لیے ڈالفن آسن بے حد مفید ہے ۔ اپنی ایڑھیوں پر کھڑے ہو جائیں ۔ اب جھک کر ہاتھوں کو فرش پر رکھیں ۔ اپنا سر زمین پر رکھیں اور انگلیوں سے سر کا پیچھے والا حصہ پکڑ لیں ۔ اسی پوزیشن میں رہ کر گہری سانسیں لیں ۔ٹانگوں کو کھینچنے کی کوشش کریں ۔ دس لمبی لمبی سانسیں لیں ۔ جب بھی مائگرین کادرد اٹھے اس آسن کو کرکہ دیکھیں ۔ آپ کو یقینی طور پر فائدہ ہوگا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...