ذہنی دباؤ کے انسانی جسم پر اثرات

25,268

خوشی اور غم زندگی کا حصہ ہیں ۔ کسی وقت ہم خوش ہوتے ہیں تو کبھی افسردہ ہوتے ہیں ۔ اور جب انسان افسردہ یا پریشان ہوتا ہے تو یہ پریشانی اس کے معمولات پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ ڈپریشن انسان کے احساسات پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ ڈپریشن انسان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے ۔

آجکل کے دور میں اکثر لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے صحت کے دوسرے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

موٹاپا

ذہنی دباؤ وزن کے بڑھنے کا باعث بنتا ہے۔ایسی صورت میں کھانا تو کم کھایا جاتا ہے لیکن اسٹریس کے ہارمون بھی فیٹ کے ٹشوز بناتے ہیں جو پیٹ کے بڑھنے کا باعث بنتے ہیں۔

دل کا دورہ

ذہنی دباؤ کا دل کے دورے سے تعلق ابھی تک غیر واضح ہے۔ لیکن پھر بھی ایسا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ایسی نوکری کرتے ہیں جو ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے، اور ان میں قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔ ان میں دل کے دورے کا ۲۳ فیصد زیادہ امکان بڑھ جاتا ہے۔

بے خوابی

حد سے زیادہ ذہنی دباؤبے خوابی کا باعث بنتا ہے ۔ اس طرح زیادہ عرصے تک شدید ذہنی دباؤ بھی نیند میں خلل پیدا کرتا ہے۔

سردرد

ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والے کیمیکل سردرد اور میگرین کا باعث بنتے ہیں۔ اسٹریس سے پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے جو میگرین کے درد کو اور بڑھا دیتا ہے ۔ سردرد کے علاج کے ساتھ اپنی غذا میں ایسی چیزیں شامل کریں جس سے آپ سر دردسے بچ سکیں۔

یادداشت

ذہنی دباؤ سے بننے والے ہارمونز دماغی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں بہت زیادہ ذہنی دباؤ دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں جس سے سوچنے کی صلاحیت اور یادداشت میں کمی ہو جاتی ہے۔

بال جھڑنا

بہت زیادہ ذہنی دباؤ بالوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے ۔ ذہنی دباؤ اور پریشانی ایسی بیماری پیدا کردیتی ہے، جس میں گنج پن ہوجانے کے بعد بال دوبارہ نہیں نکلتے اس کے علاوہ بالوں کا رنگ بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

حمل

روز مرہ کی پریشانیاں حمل پر اثر انداز نہیں ہوتیں لیکن شدید ذہنی دباؤ جیسے نوکری کا چھوٹ جانا یا طلاق ہوجانا یا کوئی اورصدمہ وقت سے پہلے ولادت کا باعث بنتا ہے ۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ذہنی دباؤدوران حمل بچے کے دماغ پر اثر ڈالتا ہے ۔ اس کے لیے یوگا اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے والی تکنیک بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔ اگر آپ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور حاملہ ہیں تو اس کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ ذہنی دباؤ سے حاملہ ہونے کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

بلڈ شوگر

ذہنی دباؤ بلڈ شوگر کو بڑھاتا ہے۔ اگر آپ ذیابیطس کی دوسری قسم کے مریض ہیں تو آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں تو آپ کا شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔
اپنی غذا میں تبدیلی لا کر اور ورزش کر کے اور مناسب علاج سے آپ شوگر کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

ہاضمہ

سینے کی جلن معدے کی سوزش ،مروڑ اور دست آنا یہ سب بھی اکثر ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ خاص طور پر پیٹ کی بیماریاں جس میں پیٹ درد اور قبض کی شکا یت اور ڈائریا شامل ہیں،شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں۔

بلڈپریشر

ذہنی دباؤ کی صورت حال بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے ذہنی دباؤ کی وجہ سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔ لیکن یہ اثرات ذہنی دباؤ کے ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں۔مائینڈ فٹنس اور میڈیٹیشن کی تکنیک اس میں کمی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ غذائی احتیاط اور ورزش بھی بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

جلد

جن لوگوں کو چہرے کے مہاسوں سے واسطہ رہتا ہے وہ اس بات کو تصدیق کریں گے کہ پریشانی اور ذہنی دباؤ کیل مہاسوں کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایسے طالبعلم امتحان کے دنوں میں ان مہاسوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں بہ نسبت ان دنوں کے کہ جب وہ فکروں سے آزاد ہوتے ہیں۔ ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے میڈیٹیشن اور دوسری تکنیک اور ورزش کا مشورہ دیا جاتا ہے جو اس سلسلے میں کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...