اپنی شادی کو کیسے بچایا جائے؟

5,404

زندگی ایک سفر ہے اور اس سفر میں میاں بیوی ایسے ساتھی ہیں جن کی منزل بھی ایک ہوتی ہے اور راستہ بھی ۔دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی دکھ سکھ میں برابر کی شراکت داری کا جذبہ ہو تو پتا بھی نہیں چلتا اور سفر کٹ جاتا ہے ۔لیکن جب بات بات پر تکرار اور دوسرے کو زچ کرنے کے مقابلے جیسی صورت حال ہو تو یہ زندگی ایسا سفر بن جاتی ہے کہ جیسے کانٹوں پر ننگے پاؤں چلنا ہو ۔

شادی کے کچھ عرصے تک تو میاں بیویکے درمیان جو اُلفت اور محبت رہتی ہے وہ محبت کے جذبات دن گزرنے کے ساتھ ساتھ سرد مہری میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ایک چھت کے نیچے اور ایک ہی چار دیواری میں زندگی بسر کرنے کے باوجود اجنبیت کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جیسے ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر ٹرین کی آمد کا انتظار کرنے والے دو مسافروں کے درمیان حائل ہوتی ہے ۔

شادی میں ناکامی کی وجوہات

شادی شدہ زندگی میں سرد مہری پیدا ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔
۱۔ ناپسندیدہ یا تکلیف دہ باتوں یا حرکات کا بار بار دہرانا
۲۔ دوسرا خود کو وقت کے ساتھ ساتھ ڈھالنے کی خواہش کا فقدان
بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان شدید عارضی اور مستقل نوعیت کی سرد مہری کا سبب معاشی حالات اور مزاجوں کی عدم ہم آہنگی بھی ہو سکتا ہے ۔اکثر شادی ناکام ہونے کی ایک وجہ کسی ایک فریق کا دوسرے پر اپنی برتری جمانے کا رویہ اپنانا ہو سکتی ہے ۔ہر فیصلے کا اختیار ایک ہی فرد کے پاس رہنا اچھی بات نہیں ہوتی۔ کسی بھی فیصلے میں دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے ۔خاص طور پر زندگی کے بڑے فیصلوں میں دونوں کو ایک دوسرے کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے ۔
شادی کے ناکام ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر کبھی کبھی صرف معمولی سی نوک جھوک بھی رشتہ ٹوٹنے کا باعث بن جاتی ہے ۔

مفید مشورے

۱۔ میٹھے بول

میاں بیوی کے درمیان تلخی اور کڑواہٹ ختم کرنے کے لئے یوں تو اب تک کوئی دوا ایجاد نہیں ہوئی ہے ۔ہاں صرف پیار بھرے دو بول وہ کام کرتے ہیں جو زہر کے لئے تریاق سر انجام دیتا ہے ۔ اچھے ماحول میں خلوص دل سے کہے محبت بھرے جملے حالات کو ہی بدل دیتے ہیں ۔

۲۔ رائے کا احترام

تسلط جمانا مردوں کا اسٹائل تصور کیا جاتا ہے اور زبان کی قینچی چلانا عورت کا کام ۔لیکن صورت حال جب زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب عورت سے اس کی رائے دینے کا اختیار چھین لیا جائے یا دوسری جانب مرد سے اس کی مرکزی حیثیت چھین لی جائے ۔

۳۔فرار اختیار نہ کی جائے

بعض افراد گھر میں امن قائم رکھنے کے لئے اختلافی امور سامنے آنے کے باوجود احتجاج بند کرنے کے بجائے طویل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یہ اچھی علامت نہیں ہے ۔اس سے رشتوں اور تعلقات میں مزید خلیج واقع ہو جاتی ہے ۔اچھی شادیوں میں دونوں فریق مسائل پر بات چیت کرتے ہیں۔مستقل سردمہری اور طویل خاموشی بعض اوقات دھماکہ خیز واقع ہو سکتی ہے ۔اسی طرح حالات بگڑنے کی صورت میں میاں کا گھر سے چلے جانا یا عرت کا میکہ کی طرف رخ کرنا حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے ایک راہ کے مسافر دو راہوں کے مسفر بن جاتے ہیں اور بعض لوگ اس دوری کا فائدہ اُٹھاتے ہیں اور غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں ۔

۴۔ خاموشی غصہ کا حل ہے

اگر دوسرے کے غص ی کو دیکھ کر فریق چپ ہو جائے تو صورت حال کو بگڑنے سے بچایا جا سکتا ہے ۔تاہم یہ مت سوچیں کہ ہر مرتبہ چپ ہونا دوسرے کا ہی کام ہے ۔
اکثر میاں بیوی غصہ میں ایک دوسرے کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اُنھیں آئڈیل بیوی یا شوہر نہیں ملا مرد حضرات خوبصورت بیوی نہ ملنے کا اورعورتیں سمجھدار منظم شوہر نہ ملنے کا طعنہ دیتی نظر آتی ہیں ۔جس سے رشتہ میں تلخی آتی ہے ۔

۵۔سہی وقت کا انتخاب

اظہار چاہے غصہ کا ہو یا محبت کا دونوں صورتوں میں الفاظوں سے زیادہ سہی وقت کا انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غلط وقت پہ کہی سہی بات بھی غلط اور کبھی سہی وقت پر کہی غلط بات بھی سہی لگنے لگتی ہے ۔الفاظ کے مناسب چناؤ میں دیر ہو سکتی ہے جب کہ رویہ سے کسی بات کا اظہار آسانی سے کیا جاسکتا ہے ۔موقع محل کے حساب سے اپنے جذبات کا مناسب اظہار بہت سی پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے ۔

۶۔ مزاج میں توازن

بہت سے گھر صرف اس لئے تباہ ہو جاتے ہیں کہ ایک فریق کی جانب سے پیار کی بات ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری جانب اس کا اُلٹا ردعمل ہو رہا ہوتا ہے ۔چوبیس گھنٹے ماتھے پر تیوری چڑھائے رکھنے کے بجائے ایک دوسرے کی باتوں ،شکووں اور مشوروں کو تحمل اور ٹھنڈے مزاج سے سننا چاہئے ۔اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس بات کا بتنگڑ بنانے کے بجائے اسے برداشت کر کے ایک دوسرے کو یہ بتانا چاہئے کہ اس غلطی سے کیسیس بچا جاسکتا ہے اور مستقبل میں ایسا کیا کریں کی غلطی کا اعادہ نہ ہو سکے۔

۸۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال

* بد سے بد ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کی سالگرہ منانا یا دیگر اہم موقعوں پر مبارکباد یا تحائف دینا مت بھولیں ۔
* کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اپنی غلطیوں پر نظر ثانی ضرور کریں ۔
* میاں بیوی کا ایک دوسرے کی تعریف کرنا یا زبانی محبت کا اظہار کرنا دونوں فریقین کے لئے ضروری ہے ۔
* اپنے رشتہ کو اس قدر کنارے پر نہ لائیں کہ واپس پلٹنا مشکل ہو جائے ۔
* ناراضگی میں بھی کسی ایک فریق کی بیماری میں بھی دلجوئی اور مزاج پرسی کرنا مت چھوڑیں ۔
* ناراضگی میں منانے کے لئے پہل آپ کریں کیوں کہ یہ وہ بندھن ہے جس میں زرا سی کوشش بھی کام کر جاتی ہے ۔
* تنازعات پر مستقل بحث کرنے کے بجائے اُسے نظر انداز کرنے کی کوشش کریں ۔
* ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کریں ۔
* اپنے رشتہ پر کسی کے مشورے یا رائے کا فوری اطلاق مت کریں ۔


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...