وٹامنز اور منرلز کی زیادتی کے نقصانات

5,193

وٹامنز اور منرلز کو صحت کے لئے نہایت فائدے مند مانا جاتا ہے ۔بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو بنا سوچے سمجھے وٹامنز اور منرلز کی گولیاں یا سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ ایسے افراد صحت مند ہوتے ہیں اور انہیں ان گولیوں یہ سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔وٹامنز اور منرلز کے حصول کے لئے مناسب غذا کا استعمال ہی اسکی کمی کو پورا کر سکتا ہے۔

ماہرین کو اس اسے اختلاف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کثیر الحیاتین(ملٹی وٹامنز) کی گولیاں کھانے سے کوئی بیماری دور نہیں ہوتی اس لیے کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور یہ پیسے کی بربادی ہے۔ ان کا کہناہے کہ کچھ مخصوص معدنیات(مزلز) اور وٹامن کی زیادتی سے بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ رہتا ہے . وٹامنز اور منرلز کے سپلیمنٹ اور ادویات کے استعمال کا اکثر معالج مشور? دیتے ہیں لیکن وہ یہ مشورہ زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو دیتے ہیں جنہیں غذاؤں سے سہی مقدار میں وٹامن اور منرلز نہ مل رہے ہوں۔

وٹامن اور منرلز کے نقصانات

وٹامن اے چربی حل کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں فاسد مادہ بھی جمع کر سکتا ہے۔ وٹامن اے کی جسم میں زیادتی سے زیادہ چربی گھلنے لگتی ہے جوکہ جسم سے باہر نہیں نکل پاتی۔

وٹامن اے کی زیادتی سے سر میں درد اور جلد پر نشانات پڑنے لگتے ہیں۔

وٹامن اے کی زیادتی جسم سے وٹامن ڈی کو کم کرنے لگتی ہے جس سے آسٹیوپروسس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وٹامن ڈی کی زیادتی کے باعث ہڈیاں ضرورت سے زیادہ کیلشیم جذب کرلیتی ہیں جس سے پٹھوں میں درد جسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وٹامن ڈی کی زیادتی سے موڈ میں غیر معمولی تبدیلی اور معدے میں تکلیف جیسے مسائل پیش آسکتے ہیں۔

وٹامن ڈی کے زیادہ استعمال سے بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ کیلشیم کا استعمال پٹھوں میں درد، پیٹ میں درد اور گردوں میں پتھری جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

وٹامن سی کی زیادتی فالج کا مرض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

وٹامن سی کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے پیٹ درد، اسہال اور دیگر عمل انہضام سے متعلق پریشانیاں ہو سکتی ہیں۔

نوٹ

یہ تمام مسائل صرف وٹامن، منرلز اور کلشیم کی ادویات اور سپلیمنٹ کے غیر ضروری استعمال سے ہو سکتے ہیں. اگر یہ کلشیم، وٹامن اور منرلز غذاؤں کی مدد سے مناسب مقدار میں حاصل کیے جا رہے ہوں تو انکا صحت پر کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...