
خوشبو دارمیتھی غذا بھی دوا بھی
یوں تو صحت کے حوالے سے ہر قدرتی غذا کی اپنی اہمیت ہے لیکن میتھی کے پتے اور بیج غذائی اور طبی افادیت کے اعتبار سے اپنی مثال نہیں رکھتے۔ ہمارے یہاں قصور کی میتھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی خوشبو کی وجہ سے دور دور تک اس کی مانگ رہتی ہے۔میتھی کا تازہ ساگ لوگ بڑ ے چاؤ سے کھاتے ہیں۔نرم تازہ میتھی کو قیمے کے ساتھ پکاتے ہیں۔ آلو اور کھڑی دال میں شامل کرنے سے ان کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ تنہا میتھی کو پیاز، لہسن اور ہری مرچوں کے ساتھ تیل میں پکاکر باجرے کی روٹی کے ساتھ بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ بھوک بڑھانے کے علاوہ جسم میں حرارت پیدا کرنے اور نزلہ زکام بہانے کے لیے بہت مفید ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ میتھی کے بیج جنھیں عرف عام میں میتھرے کہتے ہیں، غذائی اور دوائی مقاصد کے لیے مختلف طریقوں سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسالے کے طورپر انھیں ا چاروں کے علاوہ مختلف سالنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً مشہور حیدرآبادی ڈش بگھارے بینگن میں یہ ڈلتے ہیں۔ سردیوں میں میتھی کے بیجوں کی کھچری گھی ڈال کر کھائی جاتی ہے۔ یہ جوڑوں کے درد کے لیے مفید بتائی جاتی ہے۔ کمر کے درد اور سردی کی شکایات میں اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ پاک و ہند کے علاوہ مصر کے قدیم لوگ بھی میتھی کی خوبیوں سے آگاہ تھے اور اسے دواؤں کے علاوہ غذاؤں میں بھی استعمال کرتے تھے۔ عرب و مصر میں یہ حلبہ کہلاتی ہے۔
میتھی میں تیس فیصد لعاب،پانچ فیصد خوشبودار تیل اور دیگر مفید اجز ہوتے ہیں جن میں فاسفیٹ، لیسی تھین، ایسو من اور فولاد قابل ذکر ہیں۔ میتھی میں فولاد خاصی مقدار میں ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے کھاتے رہنے سے خون کی کمی کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔ یہ قدرتی فولاد بڑی آسانی سے جزوِ بدن ہوجاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق میتھی کے اجزا مچھلی کے جگر کے تیل(کاڈلیور آئل) سے بہت ملتے جلتے ہوتے ہیں، اسی لیے میتھی بھی اس تیل کی طرح جوڑوں کے ددر اور ورم کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ اجزا بھوک بھی بڑھاتے ہیں اور اعصاب کی صحت کے لیے بھی مفید ہوتے ہیں۔
مصر میں میتھی کے بیجوں کا لعاب ملیریا بخار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پانی میں بھگوئے ہوئے بیجوں کو پیسنے سے گاڑھا لعاب حاصل ہوتا ہے۔ بخار روکنے کے علاوہ یہ لعاب پیٹ کی تکالیف اور ذیابیطس قسم دوم کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ان بیجوں کا سفوف کیپسولوں میں بندکرکے ذیابیطس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان کے لعاب سے آنتوں کا ورم بھی دور ہوتا ہے۔ لیپ کرنے سے ورم اور درد میں آرام آتا ہے۔اندرونی اور بیرونی ورم دورکرنے کے لیے تازہ پتوں کو بھی پیس کر پولٹس کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کاڈلیور آئل کی طرح یہ اس میں موجود حیاتین الف کی وجہ سے کساح کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ سبز ساگوں کی طرح اس میں بھی آنکھوں کو تقویت پہنچانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ذیابیطس کے مریض اگر میتھی کے بیجوں کا سفوف دو تین گرام کی مقدارمیں کھائیں تو خون میں شکر کی سطح بتدریج کم ہوسکتی ہے۔
مغربی ملکوں میں بھی میتھی کے بیج ٹانک سمجھے جاتے ہیں جنھیں خاص طورپر کمزورجانوروں کو کھلایا جاتا ہے۔ بیجوں کے لیپ سے جلد کے داغ دھبے دور ہوجاتے ہیں۔ انھیں تنہا یا دیگر دواؤں مثلاًآملہ،سکاکائی کے ساتھ باریک پیس کر بھگوکر بالوں میں لگانے سے بال لمبے اور سیاہ ہوتے ہیں۔ گرتے بالوں کے لیے یہ ایک عمدہ شیمپو ہوتے ہیں۔
طب کے مطابق اس کے اندرونی استعمال سے پیشاب اور حیض کھل کر آتے ہیں۔میتھی کے بیج کمر کے درد کے لیے مفید ہوتے ہیں اور ان سے بڑھی ہوئی تلی،اپھارا اور جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے۔مثلاً میتھی کے ساگ میں پکے ہوئے جھینگے اور بام مچھلی کو مقوی سمجھاجاتا ہے۔