کیاکم کھانا معدے کو سکُڑنے پر مجبور کر دیتا ہے؟

3,469

کیاکم کھانا معدے کو سکُڑنے پر مجبور کر دیتا ہے؟

اگر آپ کم کھانا شروع کردیں تو کیا معدہ سکڑ جائے گا تاکہ کم غذا سے بھی تسلی ہوسکے؟ہوسکتا ہے آپ نے یہ سنا ہو کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو سکیڑ دیتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔ایسا کہا جاتا ہے کہ غذائی مقدار میں کمی کے نتیجے میں خوراک کی اشتہا کم ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ لچکدار معدہ سکڑنے لگتا ہے تاکہ کم غذا سے بھی بھر جائے۔

اگریہ بات  پڑھنے میں مضحکہ خیز لگ رہی ہے تو حقیقت میں یہ واقعی مضحکہ خیز ہی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یقیناً معدہ ربڑ جیسی خصوصیات رکھتا ہے اور اپنا سائزتبدیل کرسکتا ہے جو کہ زیادہ کھانے کی صورت میں ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خوراک کی عدم دستیابی کے دوران زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سکڑنے کے بعد عام مقدار میں کھانے کے بعد وہ دوبارہ اپنی سابقہ شکل میں آجاتا ہے اور ہاں وہ کسی صورت چھوٹا نہیں ہوسکتا چاہے آپ بہت کم ہی کھانا کیوں نہ شروع کردیں البتہ وہ چھوٹا بڑا ہوتا رہتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یعنی کوئی موٹا اور کوئی پتلا مگر سب کے معدے لگ بھگ ایک ہی حجم کے ہوتے ہیں۔ اسی تحقیق کے مطابق جسم اپنے افعال کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز کو ذخیرہ کرتا ہے چاہے غذا بہت کی مقداربہت کم ملے۔


یہ بھی پڑھیں : ان 5 نیند کی مشقوں سے پائیں پرسکون نیند

 

معدے کا سائز ایک ہی ہوتا ہے چاہے وزن جو بھی ہواگر کم کھانے سے معدہ سکڑ سکتا تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ زیادہ کھانے سے وہ پھیل جانا چاہئے، مگر ایسا ہوتا نہیں، طبی جریدے Gastroenterology میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ہمارا وزن جتنا بھی ہو، ہر ایک کا معدہ لگ بھگ یکساں حجم کا ہوتا ہے۔

اگر آپ کو اب بھی شبہ ہے تو تصور کریں کہ آپ کا جسم مناسب مقدار میں کیلوریز کے لیے ڈیزائن ہوا ہے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکے، یہاں تک اس وقت بھی جب کھانا دستیاب نہ ہو۔تو بہتر ہوگا کہ آپ یقین کرلیں کہ کم کھانے سے معدہ سکڑتا نہیں، درحقیقت انسان جب کم کھاتا ہے تو اسے بھوک کا احساس زیادہ ستانے لگتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ غذائی قلت کا شکار ہورہا ہے اور بھوک بڑھانے والے ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے تاکہ غذا کو سامنے دیکھ کر اس سے منہ موڑنا مشکل ہوجائے۔اسی دوران جسم کا درجہ حرارت اور میٹابولک ریٹ سست ہوجاتا ہے تاکہ قیمتی توانائی کو بچایا جاسکے۔

کھانے کی مقدار میں اچانک بہت زیادہ کمی کرنا نقصان دہ کیوں؟

طبی ماہرین کا تو کہنا ہے کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو تو نہیں سکیڑتا بلکہ یہ موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جب آپ معمول کی غذا پر واپس آتے ہیں تو جسم کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور انسان معمول سے زیادہ غذا کھانے لگتا ہے۔اگر ڈائیٹنگ کے ذریعے جسمانی وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے غذائی مقدار میں بتدریج کمی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم اچانک دباؤ کا شکار نہ ہوجائے۔


اس بارے میں جانئے : پر سکون نیند اور انرجی سے بھرپور دن گزارنے کے لئے تھری ڈے پلان


تبصرے
Loading...