تربوز۔۔۔سرخ رنگ اورشیریں ذائقے سے بھرا

562

اللہ کا خاص احسان ہے کہ اْس نے انسان کی خوراک کو بھی موسموں کی مناسبت سے پیدا فرمایا تاکہ انسان موسموں کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔تربوز کا شمار بھی ایسے ہی پھلوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف انسان کو گرمی کی شدّت و وحدت کے اثرات سے بہت حد تک محفوظ رکھتا ہے بلکہ اور بھی کئی بیش بہا فوائدکا حامل ہے ،اگر اسے اللہ کی جانب سے انسانوں کے لیے گرمی کا تحفہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ تربوز کو پنجابی میں ہندوانہ ، انگریزی میں واٹر میلین ، عربی میں بطیخ ، حجازی میں جھب، اور ترکی میں تاجور کہتے ہیں۔یہ شکل کے اعتبار سے گول اور لمبوترا ہوتا ہے جبکہ رنگ کے اعتبار سے سبز جبکہ چھلکا سخت ہوتا ہے۔

تربوز تقریباً ہر علاقے میں پایا جاتا ہے لیکن خاص طور پر پاکستان ، ہندوستان ، شمالی بنگال ، صوبہ سرحد اور افغانستان میں بھی اس کی کاشت کی جاتی ہے ۔اس کے گودے کی رنگت سرخ، ذائقہ شیریں اور مزاج سرد تر ہوتا ہے۔اگر اسے خالی پیٹ استعمال کیا جائے تو بے حد فائدہ دیتا ہے ،اسی طرح اگر اسے شکر کے ساتھ ملا کر کھایا جائے تو موثر ہوتا ہے۔

تربوز کے فوائد

یہ صفرا کو کم کرتا ہے ، تربوز پیاس کو بجھاتا ہے۔ خصوصاً جون ،جولائی کی گرمی میں اس کا استعمال جسمانی حرارت و گرمی کم کرنے کے لیے اکیسر کا درجہ رکھتا ہے ، بوڑھے اور سرد مزاج کے حامل افراد تربوز زیادہ نہ کھائیں۔ تربوز میں پانی زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ گردے اور مثانے کی پتھری کے اخراج میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔تربوز معدے میں پہنچ کر انتہائی فائدہ مند صورت اختیار کر جاتا ہے اس کے بیج جلد کی صفائی کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں اگر اس کے چھلکے کا لیپ پیشانی پر رکھ دیا جائے تو آنکھوں کے امراض کے لیے موثر ہوتا ہے۔جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خون کے دباؤ کی زیادتی میں مغز تربوز اپنے اندر موجود خاص مادّے کے بہت فائدے ہوتے ہیں اس سے 82 فیصد مریضوں میں دل پر سے بوجھ کم ہوتا ہے۔

یہ بدن کو فربہ کرتے ہیں جبکہ خود تربوز میں ایک خاص قسم کا جزو۔ بعض ڈاکٹروں نے اس خاص جزو کو پہلوان سے تشبیہ دی ہے جو جسم کو نقصان پہنچانے والے خطرناک اجزا کو پچھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ سرطان کے خلیات کو قابو میں رکھتا ہے ۔ یہ جز تربوز کے علاوہ دوسرے پھلوں اور سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے جس کے استعمال سے جسم کو بہت فائدہ ملتا ہے جو لوگ ان کو باقاعدہ استعمال کرتے ہیں ان میں سرطان سے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تربوز کے استعمال سے آنتوں کی سختی میں کمی آتی ہے اور شریانوں کی لچک بھی قائم رہتی ہے۔اس کے کثرتِ استعمال سے جوڑوں کے درد اور بلغم کے امکانات ہوتے ہیں اس لیے ہمیشہ اعتدال سے کھانا چاہیے۔ تربوز کھانے کے فوری بعد سکنجین دہی اور کوئی شربت یا چائے وغیرہ کسی قسم کی چیز استعمال نہیں کرنی چاہیے۔گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی تربوز بازار میں آنے لگتے ہیں۔ یہ پھل مزاج کے اعتبار سے سرد تر تیسرے درجے میں ہے۔ معمولی سا دکھائی دینے والا یہ پھل اپنے اندر بہت سی خوبیاں رکھتا ہے۔ ٹھنڈک پہنچانے کے سبب یہ گرمی کی پیاس کو بجھاتا ہے اور صفرے کے زور کو کم کرتا ہے۔ پیشاب آور ہے اور طبع کو نرم کرتا ہے۔ اسی طرح پیشاب کی جلن ، یرقان اور اسہال میں مفید ہے۔

گرمی سے سر درد

تربوز کا گودا ململ کے باریک کپڑے میں ڈال کو اس کا پانی نچوڑ لیں اور ایک شیشہ کے گلاس میں ڈال کر تھوڑی مصری ملا کر صبح کے وقت پلائیں۔ سر درد سے آرام آجائے گا۔اسی طرح تربوز کے مغز کو کسی برتن میں ڈال کر خوب گھوٹیں یہاں تک کہ وہ مکھن کی طرح ملائم لیپ بن جائے۔ یہ لیپ مریض کے سر اور پیشانی پر مل دیں۔ اس سے سر درد کو فوری آرام ہوگا۔

قلب کی گرمی

یہ ایک مجرب نسخہ ہے۔ اس کو لگاتار ایک ہفتہ تک استعمال کریں تو دل کے امراض میں افاقہ ہوگا۔ تربوز کے بیج کا مغز 2 تولہ رات میں پانی میں بھگو دیں۔ صبح چینی ملا کر چھان کر پی لیں۔

دل کی دھڑکن میں تیزی

تربوز کا مغز 1 تولہ لے کر تھوڑے پانی میں ڈال کر گھوٹ لیں اور پھر چھان لیں۔ اس میں تھوڑی مصری ملا کر دن میں ایسا 2 3 بار پئیں۔ دن بہ دن فائدہ محسوس ہوگا۔ اس سے دل کی دھڑکن ، دل کی کمزوری کو مکمل آرام آجائے گا۔

قبض

اس تکلیف دہ بیماری کے لئے تربوز کا کئی روز تک استعمال کرنا مفید ہے۔ کیونکہ جہاں تربوز کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے وہیں تربوز لگاتار 10 دن تک کھانے سے قبض بھی دور ہوتا ہے۔

قے

اگر کھانا کھانے کے بعد جگر میں جلن ہوتی ہو اور پھر قے ہوجاتی ہو اور قے میں کھایا ہوا کھانا زردی مائل ہوکر نکلتا ہوتو اس کے علاج کے لئے تربوز ایک بہترین پھل ہے۔ اس کے لئے روزانہ صبح کے وقت 2 تولہ تربوز کا پانی تھوڑی مصری ملا کر پی لیں۔ معدے کی اصلاح ہوکر قے کی شکایت رفع ہوجائے گی۔

تربوز کھانے میں احتیاط

چاول کے ساتھ اس کا استعمال مضر ہوتا ہے۔یعنی چاول کھانے کے بعدیا پہلے تربوز نہیں کھانا چاہیے۔پرانے زمانے اور موجودہ جدید دور کے طبیب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اسے کھانے کے فوری بعد استعمال نہ کیا جائے اس صورت میں یہ نقصان پہنچا سکتا ہے، خصوصاً ہیضہ کی شکایت ہوسکتی ہے۔اسے کھانا کھانے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے یا دو گھنٹے بعد کھانا چاہیے۔کھانے کے فوری بعد اس کے استعمال سے تخمہ یا قولنج کا احتمال ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...