Facebook Pixel

سرخ مرچ:ہاضمے کی صلاحیت بڑھائے

2,177
شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں سرخ مرچ استعمال نہ ہوتی ہو۔برصغیر پاک و ہند کے کھانوں میں تو اسے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم کہیں یہ کم ہے ا ور کہیں زیادہ ۔پاکستان میں تھرپارکر کے وسیع علاقے میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔ یہ مختلف شکل و صورت میں ملتی ہے۔ کہیں لمبی، کہیں موٹی اور کہیں گول۔ ان میں تیز ی بھی اقسام کے لحاظ سے کم اور زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں سب سے پھیکی مرچ پہاڑی یا شملہ مرچ ہوتی ہیں جو سبز کے علاوہ سرخ و زرد رنگ میں بھی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ تریہ سبز رنگ ہی میں دستیاب اور استعمال ہوتی ہے۔

مرچ کی تمام اقسام کا اصل وطن امریکا کا وسیع نیم استوائی علاقہ ہے۔ امریکا کے اصل باشندے یعنی ریڈ انڈین پانچ ہزار سال قبل مسیح سے اپنے کھانوں میں سرخ مرچ استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان،ہندوستان، چین، انڈونیشیا اور جنوبی افریقا میں بھی یہ مسالے کے طورپر صدیوں سے استعمال ہورہی ہے۔ اس سے پہلے سیاہ مرچ کا استعمال پاک و ہند اور جنوبی افریقا کے علاوہ یورپ وغیرہ میں بھی ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ پرتگیزی مہم جُو جب ہندوستان پہنچے تو وہاں اور بہت سی اشیا کے علاوہ سرخ مرچ کا بھی انھیں علم ہوا اور اس طرح وہ مشرقی ملکوں میں اسے متعارف کراتے چلے گئے۔

یہ برصغیر پا ک و ہند میں سولہ سو گیارہ میں پہنچی اور اس طرح اس کی مختلف اقسام بھی جنم لیتی رہیں۔ چنانچہ اس کی نوے سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ استوائی اور نیم استوائی آب و ہوا کے حامل ملکوں میں اسے کھانوں کی تیاری میں مختلف انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آج ہم اس کے بغیر ذائقے دار ڈشوں یا کھانوں کی تیاری کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

کھانوں کے علاوہ سرخ مرچ دوا اور شفائی مقصد کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ شمالی ہند میں دہلی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں مرچیں بہت استعمال ہوتی ہیں۔ روایت ہے کہ شاہ جہاں کے عہد میں جب شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے جمنا سے نہر نکال کر لائی گئی تو شاہی طبیب نے اسے دہلی والوں کی صحت کے لیے مضر قرارد یا۔ بادشاہ کو بتایا گیا کہ اس سے سردی کے امراض اور نزلہ و زکام کی شکایت بڑھ جائے گی۔ بادشاہ نے اس سلسلے میں شاہی طبیب سے مشورہ کیا تو اس نے شہریوں کو کھانوں میں سرخ مرچ زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

تحقیق و مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرچ نہ کھانے والے انگریزوں کے مقابلے میں چین اور جنوبی امریکا کے لوگوں کے پھیپھڑے بلغم وغیرہ سے صاف رہتے ہیں۔ مرچ دورانِ خون اور حرارت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ چونکہ خون کا دوران جلد کی طرف ہوتا ہے لہٰذا اس سے پسینہ آکرگرمی کا احساس کم ہوجاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مرچ گرم آب و ہوا کے حامل ملکوں میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔مٹاپا کم کرنے کے خواہشمند افراد کو یہ بتانا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ سرخ مرچ کے استعمال سے جسم کے ہضم اور انجذاب کی صلاحیت عارضی طور پر تیز ہوجاتی ہے اور اضافے کی یہ شرح پچیس فیصد تک ہوتی ہے۔

سرخ مرچ کے مزید فوائد درج ذیل ہیں:۔
*مرچ جسم میں وٹامنB3اور وٹامن سCپہنچانے کابہترین ذریعہ ہے۔
*مرچ کا روزانہ استعمال خون کے بہاؤ میں بہتری لاتا ہے۔خصوصاً ہاتھوں اور پیروں میں خون کا بہاؤ ٹھیک ہوجاتا ہے۔
*مرچ مختلف بیماریوں میں ہونے والے درد میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔Arthritis ،سردرد وغیرہ۔
*کھانوں میں مرچوں کے استعمال سے خون کے منجمد ہونے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
* مرچ بخار اور فلو کے علاج کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
*مرچ کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
*مرچ خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
مشہور محاورہ ہے کہ اچھی چیز کی زیادتی بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اگر آپ مرچوں کا زیادہ استعمال کریں گے تو یہ فائدہ مند نہیں ہوگا۔اس لیے صحت مند رہنے کے لیے مرچوں کا استعمال ضرور کریں لیکن احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...