Facebook Pixel

کیا ہرے آلو صحت کیلئے نقصان دہ ہیں؟

3,157

آلو ایک مشہور اور عام سی سبزی ہے جو زمین کے اندر پیدا ہوتی ہے۔آلو ہر ملک اور ہر خطے میں پسند کی جانے والی اور جسم کو طاقت دینے والی غذاہے۔ تازہ آلو ہمیشہ ، اچھے اور فائدہ بخش ہوتے ہیں۔آلو کا مزاج سرد اور خشک ہے، یوں تو آلو کے بارے میں سب ہی لوگ جانتے ہیں لیکن اس سبزی کے بارے میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہونگی۔

اگر آلوکا چھلکا اتار کر کہیں کہیں ہرا رنگ نظر آئے یا پورآلو ہی ہرا ہو تو اس کا مطلب ہے اس کے اندر ٹاکسنز بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ یہ ٹاکسنز زیادہ دیر دھوپ میں رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ کھانے اور پکانے سے پہلے اس ہرے حصے کو کاٹ کر نکال دینا ضروری ہے ۔ اس کے بعد بچے ہوئے آلو کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ آلو کا ہرا حصہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے ۔ آلو ہمیشہ ٹھنڈی ، اندھیری اور خشک جگہ پر رکھنے چاہیں۔

ہرا آلو کھانے کے نقصانات

اگر چہ ہرا آلوکم مقدار میں نقصان دہ نہیں ہوتالیکن انکا زیادہ استعمال عملِ انہضام کیلئے مسائل پیدا کرسکتاہے ۔ دیہی معاشیات اور باغبانی کے پروفیسر کی رپوٹ کے مطابق ایک سو پونڈ وزنی شخص ، صرف سولہ اونس بیکڈ ہرے آلو کھانے کی وجہ سے بیمار ہوگیا۔ہرے آلو ذائقے میں تلخ ہوتے ہیں، جو کہ متلی،قے ، اسہال ، سردرد، آنتوں میں خرابی، معدہ کی نالی میں جلن اوراسکا زیادہ استعمال فالج اور اعصابی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔یہ جسم کے جراثیم کے خلاف لڑنے کی صلاحیت میں مداخلت پیدا کرتے ہیں۔
ٓ

آلو کے ہرے ہونے کی وجوہات

جب آپکے گھر میں آلو آتے ہیں تو آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ انمیں سے کچھ آلو ہرے رنگ کے ہوتے ہیں ۔ہر ا رنگ دراصل کلوروفل کی اعلیٰ سطح کی وجہ سے ہوتا ہے جو خود کوئی نقصان نہیں پہنچاتالیکن اسکے ساتھ ہی ہرے رنگ سے آلو موجود سولانائن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ کلوروفل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ سولانائن کی سطح میں اضافہ اسے مضر صحت بنا سکتا ہے۔ آلو میں قدرتی طور پر کیڑوں کے خلاف دفاع کیلئے چھوٹے پیمانے پر سولانائن پیداہوتاہے لیکن گرم درجہء حرارت اور روشنی میں ذیادہ دیر تک رکھنے کی وجہ سے اسکی سطح میں ضرورت سے زیادہ اضافہ ہوتاہے جوکہ صحت کے لیے ٹاکسن بن جاتا ہے۔لہذا اگر آلو کی رنگت ہری ہو تو آپ ہوشیار ہوجائیں ، کیونکہ یہ اس میں گلائیکول کیلائیڈٹاکسن کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ ذائقہ میں تلخ ہوتاہے اور صحت کیلئے بہت نقصان دہ ہے۔

ہرے آلو مارکیٹ میں آنے ہی نہیں چاہئیں پھر بھی سولانائن کی پیداوار کو بڑھنے سے روکنے کیلئے سب سے اچھاہے کہ آلو کو ٹھنڈی اور ہلکی روشنی والی جگہوں میں اسٹور کریں اور آلو کے ہرے حصے کو کاٹ کر علیحدہ کردیں۔ انھیں بالکل مت کھائیں اس کی پہچان آپ اسطرح بھی کرسکتے ہیں کے اگر اسکا ذائقہ کڑواہے تو اسے مت کھائیں۔ اسے کھانے سے آپ بیمار ہوسکتے ہیں۔ان تمام مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم احتیاط سے کام لیں۔اپنے اور اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان باتو ں کو نظرا نداز کرنے کے بجائے ان پر توجہ دیں تاکہ ہرے آلو کو ضائع کرنے کے معمولی نقصان سے ڈرنے کے بجائے اپنوں کو ہرے آلو سے ہونے والے بڑے نقصانات سے بچاسکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...