اونٹنی کے دودھ سے حاصل ہونے والے 5 فوائد

13,944

ایک اندازے کے مطابق مجموعی آبادی کا تیس فیصد حصہ دودھ سے الرجی کا شکار ہوتا ہے ،جو دودھ اور دودھ سے تیار اشیاء کا استعمال قطعی طور پر نہیں کر پاتے ۔ ایسے افراد جو دودھ سے الرجی کا شکار ہوتے ہیں انھیں لیکٹوس انٹو لرنٹ کہا جاتا ہے ،اسیے افراد کو دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیکٹوس انٹولرنس سے مراد کیا ہے ؟دراصل گائے ،بھینس کے دودھ میں ،ڈبے کے یا سوکھے دودھ میں ایک خاص پروٹین ( لیکٹو گلوبولن )الرجی کا باعث بنتا ہے جس کے باعث دودھ ہضم نہیں ہو پاتا اور انھیں دست ،قے ،پیچش کی شکایت ہو جاتی ہے ۔
دودھ سے الرجی ہے تو کیا صرف حل دوا کھانا ہی بچتا ہے ؟
اس کا جواب ہے نہیں ،ہر گز نہیں ۔ قدرت نے اس مسئلہ کا حل اونٹنی کے دودھ کی صورت میں ہمیں دے رکھا ہے ۔ سائنس دان یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ لیکٹوس انٹولیرنٹ افراد کے لئے ہر لحاظ سے صحت بخش ہے ۔ بلکہ مصنوعی سپلیمنٹ سے کٗی درجہ بہتر ہے ۔

اونٹنی کا دودھ دوسرے دودھ کا متبادل اور ان سے بہتر

۱۔ اونٹنی کا دوھ گائے اور بھینس کے دودھ سے مختلف اور بہتر اسلئے ہے کہ اس کا پروٹین اسٹرکچر ( اے ۔ون ۔کیسین )اور لیکٹوگلوبولن ) سے پاک ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اونٹنی کے دودھ میں پروٹین اور کاربو ہائڈریٹس کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے ۔بلکہ اونٹنی کے دودھ میں جو پروٹین پایا جاتا ہے وہ انسانی جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔
۲۔عام طور پردودھ سے الرجی رکھنے والے افراد دودھ کی چکنائی ہضم نہیں کر پاتے اور اگر وہ اسکمڈ ملک پئیں تو ان کاجسم وہ بھی قبول نہیں کرتا ۔جس کے باعث ان کی قوت مدافعت بے حد کم ہو جاتی ہے جب کہ اونٹنی کے دودھ میں صرف دوسے تین فیصد فیٹ ( چکنائی ) ہوتی ہے اور قدرتی طور پر اومیگا ۳ فیٹی ایسڈ سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرفکیلشیم بلکہ وٹامن ڈی بھی بھر پور مقدار میں ملتا ہے ،چونکہ اونٹنی کے دودھ میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اس لئے اسے لمبے عرصے کے لئے فریز کیا جا سکتا ہے اور اس دودھ کے پھٹنے اور خراب ہونے کا بھی خدشہ نہیں ہوتا ۔
۳۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اونٹنی کے دودھ میں دوسرے دود ھ کے مقابلے میں کم کیلشیم اور پروٹین پائے جاتے ہیں جب کہ ایسا قطعی نہیں ہے بلکہ ماہرین کاکہنا ہے کہ جو لوگ دودھ نہیں پی پاتے انکا جسم قوت مدافعت کھوتارہتا ہے جب کہ اونٹنی کا دودھ نہ صرف کیلشیم ،پروٹین سے بھر پور ہوتا ہے بلکہ یہ دودھ دوسرے دودھ کے مقابلے میں اینٹی فنگس ،اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی رکھتا ہے ۔اور اس دودھ میں آئرن ،کیلشیم اور وٹامن سی کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے کئی گنہ زیادہ ہوتی ہے
۴۔ اونٹنی کے دودھ کی خصوصیات ماں کے دودھ سے مماثلت رکھتی ہیں ،ایسے بچے جن کے لئے ماں کا دودھ نا کافی ہوتا ہے یا ماں کسی بیماری یا انفیکشن کے باعث بچہ کو اپنا دودھ نہیں پلا پاتی تو ماں کے دودھ کا بہترین متبادل اونٹنی کا دودھ ہو سکتا ہے اونٹنی کے دودھ میں قوت مدافعت بڑھانے والے مادے( امینو گلو بولن ) اور ایسے اینزائمز پائے جاتے ہیں جو ماں کے دودھ میں موجود ہوتے ہیں جو وائرل انفیکشن کے خلاف لڑنے میں مدد کرتے ہیں ۔لہذ اایسا بچہ جسے ماں کا دودھ نہ مل پائے اور وہ گائے کا دودھ یا پاؤڈر کا دودھ ہضم نہ کر پائے اسے اونٹنی کا دودھ بلا کسی خوف دیا جا سکتا ہے ۔
۵۔ ایسے افراد جو ذیابطیس اور دل کے امراض میں مبتلا ہوں ان کے لئے گائے کے دودھ کی چکنائی نقصان دیتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے جو لوگ لیکٹوس انٹولیرنٹ ہوتے ہیں ان پر ایسے امراض جلد حملہ آور ہوتے ہیں لہذا ایسے افراد کو صرف اونٹنی کا دودھ ہی استعمال کرنا چا ہئے ۔اونٹنی کا دودھ انسولین کی مقدا ر اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھتا ہے اس میں موجود (اے ۔۲۔بیٹا کیسن ) دل کو صحت بخشتا ہے۔لہذا ایسے افراد جو دل کی بیماری اور ذیابطیس میں مبتلا ہیں ان کے لئے یہ دودھ نعمت سے کم نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...