بیوی پر تشدد، دور جاہلیت کا شاخسانہ

3,720

اسلام سے قبل جاہل معاشرے میں عورت کا جو مقام تھا وہ کسی مذہب کا بنایا ہوا مقام نہیں تھا جو صرف اور صرف جہالت سے بھرے معاشرے کا اپنا قائم کردہ مقام تھا اور عورت ظلم کی چکی میں مسلسل پستی رہتی تھی لیکن اسلام نے عورت کو اس کا اصل مقام دیا اور دنیا کو یہ بتایا کہ عورت اس کائنات کی خوبصورتی کا ایک حصہ ہی نہیں بلکہ دنیا کو خوبصورت بنانے میں بھی حصے  ہے ۔ہمارے نبی کریم ﷺ نے نہ صرف عورت کے احترام کی تلقین فرمائی بلکہ اسلامی معاشرے میں اسے جس انداز سے پیش کیا اس سے قبل عورت کو یہ مقام کسی مذہب اور معاشرے میں حاصل نہیں تھا ۔لیکن آج پھر وہ زمانہ پلٹ آیا جس میں عورت کو زمانہ جاہلیت کی جانب دھکیلنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے وہ عورت جو بیٹی بنی تو گھرکو رحمت سے بھر دیا، بیوی بنی تو گھر کے نظام حیات کو سنوار دیا ، ماں بنی تو نسلوں کو سنوار دیا ۔آج اسی عورت کے ساتھ معاشرے کے معزز چہروں نے گھٹیا رویہ اپنا کر دور جاہلیت کی یاد تازہ کردی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ کی باز گشت گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستان بھر میں پھیل گئی جس میں پاکستان کے نامور اداکار، گلوکار اور لکھاری محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے ان پر گھریلو تشدد کرنے اور ابھرتی ہوئی ماڈل کے ساتھ افیئر چلانے کا الزام لگایا تھا۔محسن حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے الزامات کے ساتھ ساتھ تصویری ثبوت بھی فراہم کئے جس میں فاطمہ سہیل پر تشدد کے نشانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ ان الزامات کے بعد محسن عباس حیدر بھی اپنے دفاع میں سامنے آئے اور تمام الزاما ت کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہـ” کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ جھوٹ ہے میں نے ان کو چھوا بھی نہیں، یہ ٹھیک ہے کہ ماضی میں غصے کے حوالے سے مجھے مسائل رہے ہیں مگر اب میں بدل چکا ہوں۔ان کے بقول دونوں کے درمیان کئی ماہ پہلے علیحدگی ہوگئی تھی اور اس کے بعد وہ اپنی بیوی اور بچوں کے لیے لاکھوں روپے ماہانہ خرچ دے رہے ہیں، بچے کی پیدائش پر بھی ہسپتال کے تمام اخراجات انہوں نے ادا کیے، مگر فاطمہ الزام لگارہی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انہوں نے طلاق نہ دینے کے آپشن کو منتخب کیا اور علیحدگی چاہتے تھے کیونکہ میں بیٹے کے لیے بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔محسن عباس حیدر نے کہا کہ فیس بک پر ان کی اہلیہ کی جانب سے جو تصاویر شیئر کی ہیں وہ 2018 کی ہیں جو کہ سیڑھیوں سے پھسلنے سے لگنے والی چوٹوں کی تھیں۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ فاطمہ کے مطابق یہ تشدد گزشتہ دنوں ہی ہوا ہے تو وہ وہاں اپنی میڈیکل رپورٹ پیش کردیں، وہ تھانے میں اپنا بیان کراچکے ہیں جبکہ اس تھانے میں ان کی بیوی کو بلایا جارہا ہے جہاں اس نے درخواست جمع کرائی۔”

ٖFatima Sohail – Violent content

اس واقعے کے تین رخ ہیں ایک وہ جو فاطمہ سہیل کا ہے ، دوسرا وہ جو محسن عباس حیدر کا ہے اور تیسرا حقیقی رخ ہے۔ بات جو بھی ہے اگر یہ تشدد ثابت ہوتا ہے تو یہ معاشرے کے لئے کس قدر تلخ بات ہے کہ ایک اسلامی معاشرے اور بلخصوص اس طبقے میں جہاں عورتوں کو خاص آذادی بھی حاصل ہے وہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ ساتھ ساتھ یہ تعلیم یافتہ طبقہ بھی ہے جہاں اخلاقیات کا مظاہرہ اکثر نظر آتا ہے ۔ لیکن خود سوچئے اگر اس طرح کا واقعہ اونچے طبقے میں پیش آرہا ہے تو نچلے طبقے میں معاملات کس نہج پر پہنچ گئے۔ فاطمہ سہیل یا میشا شفیع جیسی خواتین تو اپنے حق کا اظہار برملا کردیتی ہے کیونکہ وہ معاشرے سے لڑنے کی طاقت رکھتی ہیں لیکن نچلے طبقے کی بے شمار خواتین گھریلو تشدد کا شکار رہتی ہے اور اپنے زبان سی لیتی ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اگر انھوں نے آواز اٹھائی تو انصاف کے بجائے مزید ظلم کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

اب وقت آچکا ہے اس ظلم کے خلاف ہر محاذ پر لڑا جائے اور ظالم کو قرار واقعی سزا ی جائے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم تو تعلیم کی فراہمی ہے جو لوگوں کو زبان دیتی ہے اور ساتھ ساتھ تربیت بھی۔ تعلیم نہ صرف عورتوں کو اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کی ہمت دیگی  بلکے مردوں  کو اخلاقیات کے سبق بھی  حفظ کرائے گی۔ ساتھ ساتھ اس معاملے پر سخت قانون سازی سمیت فوری انصاف کی فراہمی کا بندوبست بھی کیا جائے تاکہ فوری طور پر ان معاملا ت کا سدباب کیا جا سکیں۔

اگر آپ یا آپ کی جان پہچان کی کوئی خاتون گھریلو تشدد کا شکار ہے تو فوری طور پر اپنی شکایات ان متعلقہ اداروں تک پہنچائیں اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائیں۔

-1043 پنجاب کمیشن برائے خواتین

-1098 مددگار نیشنل ہیلپ لائن -سندھ

-0800-22266عورت فاونڈیشن

-1094 وومن ڈویلپمینٹ ڈیپارٹمنٹ- سندھ


یہ بھی پڑھئے :عورتوں پر تشدد پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک اہم مسئلہ!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...