Facebook Pixel

پیدائش کے بعد بچوں کے بال منڈوانا

6,369

اس دنیا میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور ہر فرد اپنے مذہب اور رسمورواج کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے ۔پیدائش سے لے کر موت تک ہم بہت سی رسمورواج سے گھرے ہوئے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر ہم بہت سی بدعت اور تقلیدی رسم و رواج اور عقائد کو گلے لگائے بیٹھے ہیں ۔

بچے کی پیدائش کی رسومات

ہر معاشرے میں بچہ کی پیدائش پر خوشی کے اظہار کے کئی طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ،بچہ کو نہلانا ،صاف ستھرا کر کے تیار کرنا ،نیا لباس پہنانا ،زچہ اور بچہ کو تحائف دینا ،بلائیں اتارنا ، دعائیں دینا ،ہر معااشرہ کی روایت ہے لیکن بہت سے معاشروں میں بچہ کے سر کے بال منڈوانا ضروری سمجھا جاتا ہے اور بہت سے معاشروں میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی اور مسلم ،ہندو معاشرے میں خاندان کے کسی بزرگ کے ہاتھوں سر کے بال منڈوانا اچھا شگن مانا جاتا ہے

ماہرین کیا کہتے ہیں ؟

عام طور پر اس تصور کے تحت بچوں کے سر کے بال منڈوائے جاتے ہیں کہ جب دوبارہ بچے کے بال آئیں گے تو وہ زیادہ اچھے اور گھنے ہوں گے ۔جب کہ یہ ایک غلط تصور ہے ۔چار مہینہ پر پہنچ کر بچے کے سر کے بال خود بخود جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس عرصے کے بعد بال حود اُگنا شروع ہو جاتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سر کے بال منڈوانے سے بالوں کی کوالٹی اچھی ہو گئی ہے جب کہ ایسا نہیں ہوتا ۔ چوتھے مہینے سے پہلے یا بعد میں سر کے بال منڈوانے سے بالوں کی رنگت اور کوالٹی پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔بالوں کی نشونما اور رنگت کا انحصار ہماری جینس پر ہوتا ہے ۔

سر کے با ل کاٹنے کے لئے چند احتیاطی تدابیر

۱۔ کوشش کریں کہ دن کے اوقات میں بچوں کے بال کاٹیں ۔کیوں کہ بچے رات سے زیادہ دن میں پر سکون ہوتے ہیں ۔
۲۔ آج کل اُسترے سے زیادہ ٹرمر کا استعمال عام ہو گیا ہے لیکن اگر اُسترے کا استعمال کرنا ہوتو کسی ماہر حجام سے سر منڈوایا جائے
ٍ۳۔ بچہ کا سر بار بار ہلانے کے بجائے پہلے ایک حصہ کے سر کے سارے بال کاٹیں اور پھر دوسرے حصہ کے ۔
۴۔ اگر بچہ کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور وہ گہری نیند میں ہو تو بال کاٹنے میں آسانی رہتی ہے ۔اس لئے کوشش کریں کہ بچہ کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔اور اگر بال کاٹنے کے دوران بچہ روئے تو اُسے دودھ پلا دیا جائے تاکہ وہ سو جائے
۵۔ بال کاٹنے کے بعد بچہ کو گرم پانی سے نہلایا جائے تاکہ تمام بال جسم پر سے ہٹ جائیں
۶۔ جسم کو خشک کپڑے سے پونچھنے کے بعد سر پر کوئی موائسچرائزنگ کریم لگائی جائے تاکہ سر کی جلد خشک نہ ہو
۷۔روز سر پر ناریک ،یا زیتون کا تیل لگایا جائے تاکہ کسی قسم کی خارش داد یا خشکی نہ ہو
۸۔ بچہ کو ایک ہی پوزیشن پر بہت دیر تک نہ سلائیں ۔کروٹ تبدیل کراتے رہیں ،تاکہ پورے سر پر بال اُگ سکیں
۹۔ کوشش کریں کہ ہفتے میں ایک بار بچہ کو نہلائیں
۱۰ ۔ اچھی کمپنی کا صابن اور بیبی شیمپو استعمال کریں ۔
۱۱۔ بار بار سر مونڈنے سے احتیاط کریں ،سر مونڈنے کے بجائے بالوں کو تراش لینا زیادہ بہتر ہے ۔
۱۲۔ اگر بال مونڈنے کے بعد بچے کے سر کی جلد پر کوئی زخم ہو جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ،خود کوئی دوا قطعی استعمال نہ کریں

بال منڈوانے سے متعلق چینی قوم کے عقائد اور طریقہ کار

چین کے لوگ بچہ کے بال منڈوانے کے بعد اُسے سنبھال کر رکھتے ہیں جب کہ مسلمان ان بالوں کو بہتے ہوئے پانی ( سمندر ) میں بہا دیتے ہیں ۔چینی قوم کا یہ تصور ہے کہ ان بالوں کو اپنے پاس رکھنے سے خوش قسمتی آتی ہے کچھ چینی لوگ ان بالوں کو بچہ کے تکیہ کے نیچے رکھتے ہیں تاکہ بچہ سکون سے سوسکے

اسلام میں نومولود بچے کا سر مونڈنا

نومولود کے سلسلے میں احکام اسلام میں ایک حکم یہ ہے کہ اسلام نے ساتویں دن اس کے سر کے بال مونڈنے اور انا بالوں کے برابر چاندی فقرا پر صدقہ کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اس میں دو حکمتیں ہیں
۱۔ صحت و طب کے لحاظ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچہ کا سر مونڈنے سے اسے قوت حاصل ہوتی ہے ،سر کے مسامات کھلتے ہیں اور ساتھ ہی نگاہ ،سننے اور سونگھنے کی قوت کو فائدہ پہنچتا ہے
۲۔ دوسرا یہ کہ اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرنے سے معاشرہ میں باہمی امداد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور آپس میں تعاون اور رحم کی خوشگوار فضا وجود میں آئے گی ۔
اسلام میں بچہ کا سر مونڈنا مستحب ہے جس میں اسلام کا نہیں ہمارا ہی فائدہ ہے اور اگر ہم مستحب کی ادائیگی میں سستی سے کام لیں گے تو آگے چل کر واجب اور فرض بلکہ اسلام کے ہر معاملے میں بھی تساہل برتنے لگیں گے جس کے نتیجے میں صرف نام کے مسلمان رہے جائیں گے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...