بچوں میں ڈرنے کی عادت کیسے ختم کریں

4,176

اکثر بچے کسی نہ کسی چیز سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ بارش،تیز ہوا،بجلی کی گھن گرج، مختلف جانوروں سے انھیں خوف آتا ہے اور رات کو سوتے میں بھی اگر اس قسم کا کوئی خواب دیکھ لیں تو ڈرنے لگتے ہیں۔ بچوں میں یہ ڈر ماحول میں موجود اشیاء سے متعلق ہوتا ہے۔ بچوں میں اس خوف کی شدت کو کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں اعتماد میں لیں۔

سونے سے پہلے بچے کو ایسی کہانیاں سنائیں جس سے بچے میں خوف کی شدت کم ہوجائے اور ان کی سوچ میں حقیقت پسندی شامل ہو۔ بعض اوقات والدین اندھیرے سے بچے کو خود ڈراتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ بعض اوقات اساتذہ بچے کو سزا سے ڈراتے ہیں۔ والدین، اساتذہ بچوں کو ڈراتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ اس طرح بچہ عدم تحفظ کا شکار ہوسکتا ہے اور اس طرح وہ ان میں خوف کی کیفیت پیدا کرکے ان کی صلاحیتوں کو دبارہے ہیں۔

عموماً ڈرنے سے بچوں کی صحت اور پڑھائی پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بچوں میں ڈر کی وجوہات معلوم کرکے انھیں ختم کرنا والدین کا فرض ہے۔ والدین کی تربیت اور بچوں کیساتھ ان کا طرزِ عمل ان کے ذہن میں گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچے کؤ ڈر خوف سے بچائیں۔ بچے کا ڈرنا اگر تھوڑ اعرصہ کے لیے ہوتوکوئی بات نہیں۔ اسے اعتماد میں لیں، اس سے دوستی کریں۔ ڈر دُورکرنے کے لیے اسے مناسب انداز سے سمجھائیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گی تو اس کی شخصیت متاثر ہوگی اور اس خوف سے وہ ساری زندگی سہما رہے گا۔ اسے خوداعتمادی سے نوازیں۔ اس کی سرگرمیوں کو مثبت بنانے کے لیے اس کا ساتھ دیں۔

بچے کو کسی حرکت سے منع کرنے کے لیے ڈرانا نہایت ہی غلط بات ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے اسے مناسب الفاظ میں سمجھائیں۔اس سے محبت کریں۔ اسے اعتماد میں لیں۔ آپ دیکھیں گی کہ وہ بھی آپ سے محبت کرے گا اور آپ کی کہی ہوئی بات اس پر اثر کرے گی۔ ایک چھوٹے بچے کو دیکھیں کہ وہ اپنی انگلیوں کی مدد سے کیسے چیزوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہر چیز کی طرف لپکتا ہے۔ دراصل وہ اپنی مختلف حرکات میں ہم آہنگی اور باقاعدگی پیدا کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں حادثات سے بچاؤ کے لیے اس کی نگرانی کرنا آپ کا فرض ہے۔ مگر یہ کہنا کہ ایسا کرو گے تو ویساہوجائے گا ٹھیک نہیں کیونکہ اسکول جانے سے پہلے کے تمام برس وہ جسم میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ اس دوران اگر اس کے دل میں مختلف خوف پال دیے جائیں گے تو وہ دوسرے بچوں سے پیچھے رہ جائے گا۔ اس کی ذہنی نشوونما متاثر ہوگی۔

والدین کا فرض ہے کہ وہ بچے کی ذہنی تربیت مثبت انداز سے کریں۔ اس کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کریں۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں اور خدانخواستہ ناکامی پر اسے اس حدتک دلبرداشتہ نہ کریں کہ وہ ناکامی کا خوف برداشت نہ کرسکے۔ بچوں کا اپنی عمر کے مختلف ادوار میں رونے کا مطلب بھی مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً وہ بھول محسوس کررہا ہے۔اسے گرمی یا سردی لگ رہی ہے۔اس کے پیٹ میں درد ہے۔ وہ سوتے میں ڈر رہا ہے۔ ذرا بڑا بچہ اس لیے روتا ہے کہ اسے گھر سے باہر کھیلنے کی اجازت نہیں۔کھانے کو نہیں ملا۔ اس کے دوست پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہے۔

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ بہت کم بچے بغیر وجہ کے روتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ روتا ہے تو معلوم کیجیے ایسا کیوں ہے؟ بچے کو باپ کی مار سے ڈرانے سے بہتر ہے کہ آپ اس کا مسئلہ حل کریں۔

بعض مائیں دو ڈیڑھ سال کے بچے کو اس طرح ڈانٹ رہی ہوتی ہیں کہ جیسے وہ چھ سات سال کا ہے۔ اس طرز عمل سے بچہ منفی اثرات قبول کرتا ہے اور زندگی کی خوبصورتیوں کو بھی غلط انداز میں ہی سوچتا ہے جس سے اس کا مستقبل زیادہ کامیاب نہیں رہتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...