کھلونے بچوں کی تربیت میں کتنے اہم ہیں؟

1,191

جس گھر میں بچوں کی معصوم شرارتیں ہوتی ہیں وہ خوشیوں کا گہوارہ نظر آتا ہے۔ والدین چاہے جس حیثیت کے مالک ہوں جب ان کی اولاد ان سے کوئی فرمائش کرتی ہے تو وہ حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس خواہش کو پورا کریں اور یہ ان کی جبلت کی تسکین کا باعث بھی ہوتی ہے۔کھلونوں کے معاملے میں بچے بے حد حساس ہوتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر کھلوناان کے پاس فوراً آجائے۔

کھیل اور کھلونے بچوں کی ابتدائی زندگی کا یادگار جزو ہیں۔ بچپن کے سنہرے دور میں بچوں کے لیے ان دونوں چیزوں کی جتنی اہمیت ہوتی ہے وہ کسی بھی دوسری چیز کو حاصل نہیں ہوتی۔ بعض والدین بچے کی پیدائش سے قبل ہی ان کے لیے مختلف اقسام کے کھلونے خرید لیتے ہیں اور پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد خود بچے اس قابل ہوجاتے ہیں کہ والدین سے کھلونوں کی فرمائش کرسکیں۔ پیدائش کے بعد ابتدائی چند مہینے بچے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کھلونے کے انتخاب میں بچے کی عمر کو مدّنظر رکھنا لازمی ہے۔

*ابتدائی چند ماہ چونکہ بچہ زیادہ حرکت نہیں کرپاتا، اس لیے چھوٹے بچے مختلف آوازوں پر مشتمل اور حرکت کرنے والے کھلونے پسند کرتے ہیں۔ آواز، روشنی اور تسلسل کے ساتھ حرکت کرنے والے کھلونے بچے کی خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔
*بچوں کے لیے وزنی، سخت دھات کے بنے ہوئے اور بیٹری سے چلنے والے کھلونے مناسب نہیں ہوتے، صرف روئی بھرے جانور، بطخیں، بھالو، جہاز اور ربڑ کے کھلونے مناسب رہتے ہیں۔
*تین سے چھ سال کی عمر کے بچے اپنی ذہنی استطاعت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں تصویری اور الفاظ کے بلاکس خرید کر دیے جاسکتے ہیں۔*اس عمر کے بچے نت نئے بھاگ دوڑ کے کھیلوں میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بچے رسّی کودنے، جھولا جھولنے اور سائیکل چلانے میں بھی لطف لینے لگتے ہیں۔
*تین سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے رنگین پینسلیں، آبی رنگ و برش، ڈرائنگ پیپر اور تصویری کہانیاں بھی نت نئی چیزیں سیکھنے کا شوق پیدا کرتی ہیں۔

کھلونوں کی خریداری سے پہلے چند احتیاط لازمی ہیں جس سے بچے کو متوقع نقصان سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

*اس سلسلے میں سب سے پہلے تو چھوٹے سائز کے کھلونے خریدنے سے اجتناب کریں۔
* کانچ کے کھلونے ہرگز نہ خریدیں۔ یہ دیکھنے میں بہت نازک اور دیدہ زیب لگتے ہیں لیکن ٹوٹنے کی صورت میں بچوں کو زخمی کرکے نقصان پہنچا سکتے ہیں
*چھوٹے بچوں کے لیے نرم اور معیاری کھلونوں کا انتخاب کریں جنھیں اگر بچہ اپنے مُنہ میں بھی لے تو کھلونوں کا رنگ اور سختی سے بچے کے مُنہ کے عضلات محفوظ رہیں۔

انسان کے لیے دنیا میں ایک بہت بڑی خوشی جہاں والدین کا سایہ ہوتی ہے وہیں اپنی اولاد کی پرورش بھی ایک بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اولاد جیسی نعمت قدرت کی جانب سے آپ کا ایک امتحان ہے اگر آپ اس امتحان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دنیا کی مصروفیات میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کے لیے ضرور نکالیں۔ بہت زیادہ نہ سہی مگر اپنی مصروفیت کچھ وقت کے لیے ترک کرکے اپنے بچے کو مکمل وقت دیں اور اس کی زندگی میں اپنا کردار مکمل اور مثبت ادا کریں۔ آپ کا یہ عمل آپ کو مستقبل کے ہر اندیشے اور پریشانی سے محفوظ رکھے گا۔

بحیثیت والدین اب آپ جب بھی کھلونے خریدیں گے تو آپ کے ذہن میں بچے کی عمر اور اس کا ذہنی رجحان ضرور مدِنظر ہوگا اور آپ اپنے بچے کے لیے درست کھلونا خریدیں گے، کیوں کہ یہ بات آپ اچھی طرح جان گئے ہوں گے کہ کھلونوں کے صحیح انتخاب سے بچے کو ابتدائی تعلیم کی سوجھ بوجھ ملتی ہے۔ جس گھر میں بچے ہوں وہاں کھلونوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ بچپن کا تصور کھلونے کے بغیر نامکمل ہے۔ والدین کی ذمّے داری ہے کہ وہ بچوں کو ان کے رجحان، شوق اور عمر کے مطابق کھلونے فراہم کریں تاکہ بچے اپنے بچپن سے بھرپور لطف اندوز ہوں۔ یاد رکھیں بچے اور کھلونے لازم و ملزوم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...