Facebook Pixel

ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹھوس غذا

7,308

۱۔ عمدہ صحت بخش غذا
۲۔ صفا ئی
۳۔ بیماری سے بچاؤ

یہ تین اہم اور ضروری حفاظتی اقدامات ہیں جو بچوں کو تندرست رکھتے ہیں اور بیماریوں سے بچاتے ہیں

اگر بچے کو صحت بخش غذا ملتی رہے اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہے تو ہر مہینے اس کا وزن بڑھتا جاتا ہے ۔ البتہ اگر انہیں درست وقت پر مناسب ٹھوس غذا نہ ملے تو ان کی نشونما پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ کمزور ہونے لگتے ہیں ۔

۱۔ پیدائش سے لے کر چار سے چھ مہینے کی عمر تک ماں کا دودھ بچے کی غذا ہونی چاہئے۔اس کے علاوہ کچھ اور نہیں دینا چاہئے۔بچے کی پیدائش کے بعد سے دو گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ دینا چاہئے۔
ماں کے دودھ میں شامل جزو (کولوسٹرم) بچے کو مختلف قسم کے مضر اثرات اور بیماریوں سے بچاتاہے۔ماں کے د ودھ پر پلنے والے بچوں کو گیسٹرو کی بیماری نہیں ہوتی
۲چھ ماہ سے ایک برس کی عمر تک ماں کا دودھ اور دوسری صحت بخش غذائیں جیسے ابلی ہوئی دالیں ،انڈے،گوشت ،پھل اور سبزیاں پکا کر دینا چاہئے۔
۳۔ جب بچہ بہت دبلا ہو اور اس کی نشوونما ٹھیک نہ ہو تو اسے دن میں کم سے کم پانچ مرتبہ کھانا کھلانا چاہئے۔

توانائی دینے والی غذائیں اور ان کی تراکیب۔

۱۔ دالیں

دالیں، گندم ،مکئی،گنّا اور چاول پروٹین ،واٹامن حاصل کرنے کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔دوسرے ملکوں میں ڈبوں میں پیک بچوں کی پکی ہوئی ٹھوس غذائیں با آ سانی ملتی ہیں مگر چھ مہینے کے بچے کے لئے دال چاول سے بنی کھچڑی سے بہترین غذا کوئی نہیں۔دو تین دن بعد کسی نئی سبزی اور مصالحے کے ساتھ بنا کر اس کا ذائقہ اور لذیذ کیا جا سکتا ہے۔جیسے کبھی ایک چمچ گھی یا مکھن میں ذرا سی پیاز اور لہسن فرائی کر کے چار چمچ دال ، چاول ڈال کر کوئی بھی سبزی جیسے باریک پالک کے پتّے یا آلو نمک کالی مرچ ڈال کر پکایا جا سکتا ہے۔اسی طرح دال کے سوپ میں موسم کی تازی سبزی جیسے گاجر ،مٹر، لوکی یا گوشت کا قیمہ ڈال کر پکایا جا سکتا ہے۔

۲۔دودھ ،انڈے اور گوشت

چھ ماہ سے دو سال کی عمر تک بچے کے ناقص غذائیت کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لئے دودہ،انڈے جیسی غذاؤں کاصحت بخش ہونے کا یقین ہونا ضروری ہے۔ماں کے دودہ کے سا تھ Dairy productsسے تیار کردہ کھانے بھی بچوں کو دینا چاہئے۔
ایک انڈے میں چھ گرام پروٹین ہوتا ہے اس لئے دن میں ایک بار نرم ابال کر باریک پیس کر نمک ڈال کر یاانڈے کی زردی نرا8 ابال کر دودھ کے ساتھ ملا کر دیںَ ۔اس کے علاوہ دودھ کی کھیر کسٹرڈ یا ساگودانہ تیار کر کے اس میں کوئی موسمی پھل باریک پیس کر ملایا جا سکتا ہے۔مچھلی کے گوشت میں اومیگا تھری اور فیٹی ایسڈ جاتا ہے اس لئے یس کے کانٹے ہٹا کر مسل کر مکھن ،نمک اور کالی مرچ ڈال کر دیا جا سکتا ہے۔

۳۔ سبزیاں

گہرے ہرے پتوں والی سبزیاں جیسے ٹماٹر ،گاجر،کدو،لوکی،شکر قند،شلجم اور گوبی سے جسم کو وٹامن اور معدنیات حاصل ہوتے ہیں ۔
چھوٹے بچوں کے لئے سبزیوں سے بہترین سوپ تیار کئے جاسکتے ہیں اور ان سے زیادہ توانائی حاصل کرنے کے لئے ان میں ایک چمچ تیل شامل کرنا چاہئے۔سبزیوں کے سوپ میں پروٹین یعنی گوشت اور مرغی کے باریک ریشے ملا لینا چاہئے۔
ٓ
ٓآلو،مٹر اور گاجر کو ابال کر مکھن ،نمک،سیاہ مرچ ڈال کر باریک مسل کر اور اسے مزید خوش ذائقہ کرنے کے لئے معمولی سا ہرا دھنیا اور ہری مرچ ڈالی جاسکتی ہے۔

۴۔ پھل

پھلوں کا رس پیوری نکال کر بچوں کو دینا چاہئے۔پھل کھلانے کے بہت سے طریقے ہیں۔آم کے گودے کو دلیہ میں ملا کر دیا جا سکتا ہے،کیلا ،چیکو، آ ڑو کو کسٹرڈ میں ملا یا جا سکتا ہے۔پھلوں کو باریک کاٹ کر ہلکا سا پکا کر اس میں شہد بھی ڈالا جا سکتا ھے۔

چھوٹے بچے کا معدہ چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں ایک وقت میں ذیادہ غذا کی گنجا ٗش نہیں ہوتی اس لئے اسے تھوڑا تھوڑا کئی بار کھلانا چاہئے۔

بچے کو نرم،ٹھوس غذا ہمیشہ تھوڑی مقدار سے شروع کرنا چاہئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...