پیٹ کی پتھری کی علامات اور وجوہات

4,832

پیٹ کی پتھری چاہے وہ گردے میں ہو یا پتے میں تکلیف کا باعث ہوسکتی ہے۔ ان سے ہونے والا شدید انفیکشن زندگی کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔

پیٹ کی پتھری کی علامات :

جن لوگوں کے پتے میں پتھری ہوتی ہے ان میںیہ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔
۔ پیشاب میں خون آنا
۔ پیشاب میں سرخی ہونا
۔ پیشاب میں تکلیف ہونا
۔پیشاب کم آنا
۔ متلی آنا
۔ سوزش
۔ چبھن کے ساتھ تکلیف ہونا
۔پسینہ آنا
۔ اس سے ہونے والا درد پیٹ کے نچلے حصے تک جاتا ہے۔
پتے میں ہونے والی پتھری میں معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں جبکہ اگر یہ پتھری بائل ڈکٹ پر ہو اور اسے بند کردے تو اس سے اٹھنے والا درد پیٹ کے درمیان اور اوپر والے حصے میں پھیلتا ہے ۔بعض اوقات اس کی وجہ سے کمر میں کھووں کے درمیان بھی درد ہوتا ہے۔

پتھری ہونے کی وجوہات:

پتھری ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
۔ جین
۔ وزن
۔ پتے کے مسائل
۔ غذا
بائل بھی ان مسائل کا حصہ بن سکتا ہے۔ ہمارے جسم کو بائل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر اس میں بہت زیادہ کولیسٹرول شامل ہوجائے تو یہ پتھری کا باعث بن سکتا ہے۔
پتھری اس وقت بھی بن سکتی ہے جب گال بلیڈر پوری طرح خالی نہ ہو۔
جگر اور خون کی بیماریوں کی وجہ سے بھی پتھری بن جاتی ہے۔
پتھری کا خطرہ کن لوگوں میں ہوتا ہے:

موٹاپا:

موٹاپا پتھری ہونے کی بڑی وجہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ موٹاپا جسم میں کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے جس کی وجہ سے گال بلیڈر پوری طرح خالی نہیں ہوپاتا۔
مانع حمل دوائیں، ہارمون تھراپی یا حمل:
اضافی ایسٹروجن جسم میں مسائل پیدا کرتا ہے۔ اس سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے اور گال بلیڈر خالی نہیں ہو پاتا ۔

ذیابیطس:

شوگر کے مریضوں میں ٹرائی گلسرائڈ (ایک قسم کا فیٹ) کا لیول بڑھ جاتا ہے جو پتھری کا باعث بن سکتا ہے ۔

کولیسٹرول کم کرنے کی دوائیں:

کولیسٹرول کم کرنے والی کچھ دوائیں بائل میں کولیسٹرول کی مقدار کو بڑھادیتی ہیں جس سے پتھری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر آپ کا وزن کم ہورہا ہے:
جگر جب زائد کولیسٹرول بنانے لگتا ہے تو اس سے وزن کم ہوتا ہے اور یہ کولیسٹرول پتھری کی وجہ بنتا ہے۔
پانی کم پینا:
پانی کم پینے سے بھی گال بلیڈر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پتھری کا باعث بنتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...