برسات میں بیمار نہ ہونے کے ٹوٹکے

519

مون سون یا برسات کا سلسلہ شروع ہوتے ہی گرمی سے جُھلسے ہوئے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ خواتین خصوصی پکوان تیار کرتی ہیں۔ یہ برسات خوشی کا پیغام لاتی ہے، لیکن کبھی کبھی بارشیں نعمت سے زحمت بھی بن جاتی ہیں۔ نت نئی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں۔ بارشوں کے دنوں میں ہماری خوراک بھی کبھی کبھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ دراصل اس موسم میں ہمارا واسطہ جراثیم سے پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھانا آلودہ ہوتے ہوئے دیر نہیں لگاتا۔

جراثیم سے حفاظت

برسات اور گرمی کے موسم میں خاص طور سے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس موسم میں کھانے کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں بعض اوقات خطرناک شکل بھی اختیار کرسکتی ہیں۔برسات کے موسم میں جگہ جگہ پانی جمع ہوجاتا ہے جو کئی دنوں تک ٹھہرا رہتا ہے۔ بارش کے جمع شدہ پانی میں مچھروں اور مکھیوں کی پیداوار خوب ہوتی ہے جو ہماری غذا میں اپنے جراثیم چھوڑ جاتے ہیں اور غذا آلودہ ہوجاتی ہے۔ جو اکثر اسہال، بدہضمی اور دیگر بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے۔ لہٰذا احتیاط ضروری ہے۔ کھانے کو زیادہ دیر تک ریفریجریٹر کے بغیر مت رکھیے۔ کھانے کو ہمیشہ ڈھکا ہوا رکھیے تاکہ یہ مچھروں اور مکھیوں وغیرہ سے محفوظ رہے ۔کھانے کو زیادہ دیر کھلا چھوڑ دینے سے ان میں بیکٹیریا پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔کوشش کیجیے کہ گرم کھانا گرم حالت میں ہی کھالیا جائے۔ اسی طرح غذا سرد ہو تو اسے سرد حالت میں کھایا جائے۔ یاد رہے اگر کوئی غذا فریج میں رکھیں تو بہت عرصے تک نہ رکھیں کیوں کہ فریج میں عرصہ دراز تک رہنے والی غذا کی نہ صرف اس کی شکل اور صورت میں فرق آجاتا ہے بلکہ غذائیت اور ذائقے میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کسی غذا کو لمبے عرصے کے لیے فریج میں نہ رکھیے۔

غذا صحت بخش بنائیں

غذا کو صحت بخش بنانا تمام موسموں کے لیے ضروری ہے۔ لیکن موسم برسات میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے غذا ناصرف صحت بخش بنائی جاسکتی ہے بلکہ اس کے ذائقے میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے اپنی غذا میں پودینے اور لیموں کا استعمال زیادہ کردیں، کیوں کہ یہ غذا کو خوش ذائقہ اور صحت سے بھرپور بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

پودینے کو زمانۂ قدیم سے کھانے کو ہضم کرنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ موسم برسات میں اکثر پیٹ کی تکالیف کے ساتھ ساتھ بدہضمی کی شکایت ہوجاتی ہے۔ ایسے میں پودینے کا پانی پینے سے افاقہ ہوجاتا ہے۔ پودینے کی پتیاں دھوکر چبانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے کھانا اچھی طرح ہضم ہوجاتا ہے۔ مختلف تلی ہوئی اشیا مثلاً سموسے، رولز، پکوڑے اور چپس پودینے کی موجودگی کے بغیر مزا نہیں دیتے، اسی لیے پودینے کی چٹنی کو بیشتر تلی ہوئی اشیا کے ساتھ گھروں میں خصوصاً استعمال کیا جاتا ہے تاکہ تلی ہوئی اشیا باآسانی ہضم ہوجائیں اور معدے پہ بھاری پن بھی پیدا نہ ہونے پائے۔ برسات کے دنوں میں تو پودینے کا استعمال بے حد ضروری ہے، تاکہ اس موسم میں طبیعت ہلکی پھلکی رہے۔

پودینے کی طرح لیموں بھی ہماری غذا کو صحت بخش اور مزیدار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیموں کے طبی فوائد بے شمار ہیں۔ بہ ظاہر یہ ننھا منا سا گیند نما پھل ہے لیکن یہ وٹامن سی کا بھرپور خزانہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ کھانوں میں اس کا استعمال ذائقے کو دوبالا کرتا ہے اور غذا کو زودہضم بناتا ہے۔ لیموں کے عام استعمال سے بھوک میں اضافہ، بدہضمی، مسوڑھوں کی سوجن، گردہ اور تلی کے امراض، فساد خون کے امراض میں فائدے مند ہے۔

برسات کے دنوں میں ہاضمے یا بدہضمی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں اگر لیموں کا باقاعدہ استعمال رکھا جائے تو بڑی حد تک نظام ہاضمہ کی ہر طرح کی خرابی دور کی جاسکتی ہے۔ ایک گلاس پانی میں ایک عدد لیموں کا رَس نمک اور چینی ملاکر پینے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور سارا دن طبیعت ہلکی پھلی اور ہشاش بشاش رہتی ہے۔ لیموں کا رَس خون کی حالت درست رکھتا ہے اور جسم سے زہریلے مادے دور کرتا ہے۔ لیموں جراثیم کش ہے، تیزابی مادوں کو ختم کرتاہے اور صفراوی امراض کا تو تیر بہ ہدف علاج ہے۔ یہ ملیریا اور تیز بخار میں بھی فائدہ دیتا ہے۔کھانوں میں لیموں کا رَس ملانے سے ناصرف غذا مزیدار ہوجاتی ہے بلکہ ہاضم بھی رہتی ہے۔ لیموں کا اچار دونوں ہی اپنی قدرتی خصوصیات کے باعث فائدے مند ثابت ہوتا ہیں۔ لیموں کا تیار کردہ شربت گرمیوں میں خاص طور پر لُو کے دنوں میں بہترین ٹانک ثابت ہوتا ہے۔ اسے پینے سے جسم میں ٹھنڈک کا احساس پیدا ہوتا ہے اور طبیعت ہلکی پھلکی رہتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...