آنکھوں کے آگے اندھیرا اور سر چکرانے کے اسباب اور علامات

58,476

آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا ایک حالت کا نام ہے،جس میں کھڑا ہونے سے یا معمولی حرکت کرنے سے بھی مریض کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ چکر آنا وہ حالت ہے،جس میں کھڑا ہونے یا معمولی حرکت کرنے سے مریض کی آنکھوں کے سامنے پہلے اندھیرا چھا نے لگتاہے اورپھر مریض کو ایسا معلوم ہونے لگتاہے گویا کہ مریض کو چکر آرہے ہیں، اور آس پاس کی تمام چیزیں گھوم رہی ہیں اور ایسی حالت میں مریض اپنے آپ کو کھڑا نہیں رکھ سکتا، بلکہ کسی چیز کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتاہے۔بیٹھ جاتا ہے اور کبھی کبھارسہارا نہ ملنے پر گر بھی جاتاہے۔

ہر عمل کا کوئی نہ کوئی ردعمل ہوتا ہے اور ہمارے جسم میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی یا تکلیف کسی بڑی وجہ کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جس کے لئے علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔اگر بروقت علاج نہ کیاجائے تو چھوٹے چھوٹے مسائل آگے جاکر بڑی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔

اسباب

اس مرض کا اصل اوراہم سبب خون کی کمی ہے،اور خون کی کمی کے ساتھ ساتھ جسم میں زہریلے مادوں کا جمع ہونابھی ہوسکتی ہے۔کثرت حیض،بچہ کو زیادہ عرصے تک دودھ پلانا،چوٹ لگنے کے باعث خون کے زیادہ بہہ جانے سے جسم خصوصاً دماغ کمزور اور لاغر ہوجاتاہے۔ اسی سبب یہ شکایت درپیش آتی ہے۔اس کے علاوہ بدہضمی اور قبض کے باعث اچھا خون نہیں پیدا ہوپاتا، اور اسکے ساتھ ساتھ معدہ اور آنتوں میں زہریلا مواد جمع ہوجاتاہے۔اور انکا زہر خون میں شامل ہوکر خون کو بھی زہریلا کردیتاہے۔اسی سبب بھی یہ مرض پیدا ہوسکتاہے۔ان زہریلے مواد کی اذیت دماغ تک پہنچ کر آنکھوں میں اندھیرا اور چکر آنے کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔اسکے علاوہ تمباکو نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بھی یہ مرض لاحق ہوسکتاہے۔

علامات

اگر مرض زیادہ شدید نہ ہوتو،کبھی کھباردیر تک بیٹھنے کے بعد اٹھتے وقت آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاجاتاہے۔اور تھوڑی دیر آرام کرنے سے طبیعت میں بہتری آجاتی ہے۔لیکن اگر مرض شدید ہوتواٹھتے ہی مریض کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاجاتاہے۔اور مریض کو اپنا سر اور آس پاس کی تمام چیزیں گھومتی ہوئی معلوم ہونے لگتی ہیں، اور وہ کھڑا نہیں رہ پاتا بلکہ آنکھیں بند کرکے کسی چیز کا سہارا لینے پر مجبور ہوتاہے۔مریض کو فوراً بیٹھنا پڑتاہے ورنہ وہ گر سکتاہے۔ اور ان علامات کے علاوہ متلی بھی ہونے لگتی ہے۔ اور کبھی کبھار قے بھی ہوجاتی ہے۔جس سے مرض میں تخفیف ہوجاتی ہے۔
اس مرض سے دماغی بیماریوں مثلاً صرع،شقیقہ خصوصاً سکتہ جیسے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔

علاج

مریض کو سب سے پہلے کثرت مشاغل خصوصاًدماغی کاموں،اور غور و فکر سے رکنا چاہئے۔
چائے اور تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔
کھانا ہمیشہ بھوک سے کم کھائیں اور قبض سے بچیں۔
نظام ہاضمہ کی خرابی ہو،قبض کی شکایت رہتی ہو تو اسکا علاج کرائیں۔
مریض میں خون کی کمی ہوتو ایسی غذاؤں کااستعمال کرائیں جس سے خون کی کمی پوری کی جاسکے۔
اپنے جسم کو ڈیٹاکسیفائی کریں،زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔
جسم اور دماغ کو طاقت پہنچانے والی غذاؤں کا استعمال کریں۔
اگر اس مرض میں شدت ہو یعنی جلد جلد اس طرح کا مسئلہ درپیش ہو تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔
اگر مریض عمر رسیدہ ہو تومریض کو فالج یا لقوہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ایسی صور ت میں مزید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

غذا

زود ہضم اور طاقتور غذا مثلاً دودھ،مونگ کی دال یا شوربے والا سالن چپاتی کے ساتھ کھائیں۔
گوشت میں پالک،شلغم،یا چقندر وغیرہ ڈال کر پکائیں تو زیادہ بہتر ہے۔

پرہیز

بادی اور قابض اشیاء مثلاً ماش کی دال،بینگن،اروی،گوبھی،لہسن،پیاز اورتیل وغیرہ سے پرہیز کریں۔
ترش اشیاء کا استعمال نہ کریں۔
تمباکو نوشی اور چائے قہوہ سے پرہیز کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...