مہندی لگانے کے فوائد طبِ نبوی کی روشنی میں

حناء جس کو عام طور پر مہندی کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے، دنیا بھر میں اپنی خصوصیات اور افادیت کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے ۔خواتین اسے اپنے سنگھار کا لازمی جز مانتی ہیں اور مہندی لگے ہاتھ شادیوں کی رونق سمجھے جاتے ہیں ۔طب نبوی ﷺ میں میں حناء کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔آپ ﷺ نے مہندی کو پسند فرمایا اور بارہا استعمال فرمایا۔ اسی وجہ سے مہندی کا بطور سنّت استعمال کرنا باعث ثواب بھی ہے۔

طب ِنبوی کے ذریعےصحت کے مسائل حل جانئے

طب نبوی ﷺ اور حناء:۔
جامع ترمذی( حدیث نمبر ۲۰۵۵) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر ۔۳۵۰۲) میں سلمیٰ ام رافع سے روایت ہے
(آپ نبی کریم ﷺ کی ملازمہ تھیں )
سلمیٰ ام رافع نے کہا کہ جب کبھی نبی کریم ﷺ کو زخم ہوتا یا کانٹا چبھتا تو آپ ﷺ ا اس پر حنا
کا لیپ فرماتے
سنن ابی داؤد (حدیث نمبر۔۳۸۵۸ ) میں سلمیٰ زوجہ ابو رافع سے روایت ہے
” رسول اللہ ﷺ سے جب بھی کسی نے درد سر کی شکایت کی ہے تو آپ ﷺ نے اسے پچھنا
لگوانے کے لئے کہا اور اگر درد پا (پاؤں کے درد) کی شکایت کی تو حنا لگانے کی بات کی”

طبی فوائد:۔

حناء سرد بہ درجہ اول ہے یہ اپنی اسی تاثیر کی بدولت جسم کی حدت کو کم کرتی ہے ۔منہ کے چھالوں اور زخموں کو مندمل کرتی ہے ۔ پیروں کے درد کو دور کرتی ہے ۔اگر ناخنوں پر لگایا جائے تو ان کا حسن بڑھاتی ہے ۔بالوں کو گرنے سے روکتی ہے انہیں گھنا اور مضبوط بناتی ہے۔قوت حافظہ بڑھاتی ہے بیخوابی کو دور کرتی ہے ۔ مہندی بینائی کو تیز کرتی ہے ۔سر کی خشکی کو دور کرتی ہے ۔گرمی کے موسم میں سر میں لگانے سے سکون پہنچاتی ہے ۔دوران خون کو معتدل کرتی ہے ۔اور درد شقیقہ (آدھے سر کا درد)کو دور کرتی ہے ۔مصفیٰ خون خصوصیات کی بناء پر جلدی امراض کے لئے نافع ہے۔

loading...
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...