Facebook Pixel

روایتی کھانے پکانے کے روایتی انداز

1,422

اِس مشینی دور میں جہاں بہت کچھ بدلا ہے وہاں ہم سے ہمارے کھانوں کے وہ ذائقے اور خوشبوئیں بھی چھن گئی ہیں جو ہماری نانی، دادی اور اماں خالص مسالوں سے ہمارے لیے پکاتی تھیں، جن کی خوشبو ہی سے ہماری بھوک چمک اٹھتی تھی۔ روایت سے جڑے وہ نت نئے پکوان اب شاذو نادرہی کہیں ملتے ہیں۔ ہاں اکثر عید بقرعید یا کسی خاص موقع پر یہی کوشش کی جاتی ہے کہ ان روایات کو زندہ رکھا جائے ۔ جن خواتین کو کھانے پکانے کا شوق ہے وہ اکثر مختلف پکوانوں میں طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ مگر کیا کریں کہ آج کل چائنیز، باربی کیو اور فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ کی خوراک میں شامل ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم اپنی نسل کو جہاں اور بہت کچھ دے رہے ہیں ان میں یہ غذائیں بھی ہیں۔

مگر آج بھی بعض گھرانوں میں کبھی کبھی کہیں نہ کہیں آپ کو وہ روایتی کھانے اور وہ ذائقہ مل جائے گا۔ کیونکہ کچھ لوگ آج بھی اس روایت کو نہیں بھولے اور نہ ہی ان ذائقوں کو فراموش کرسکے جن سے وہ لطف اندوز ہوچکے ہیں۔ ان میں چند خاص پکوان یہ ہیں۔

یخنی پلاؤ

yakhni pulao
اس کا اپنا ہی ایک الگ ذائقہ اور مزہ ہے۔ ہم چاہے کتنی ہی انواع و اقسام کی بریانی کھالیں مگر جو بات یخنی پلاؤ میں ہے وہ ان بریانیوں میں نہیں۔ بعض گھرانوں میں بگھا رلگاکرسادے سے پلاؤ تیار کیے جاتے ہیں مگر اس میں وہ ذائقہ، سوندھاپن اور خوشبو نہیں ہوتی جو یخنی پلاؤ میں ہے۔ یخنی پلاؤ کے لیے سب سے پہلے یخنی الگ تیار کی جاتی ہے جس میں نمک ،ثابت گرم مسالا،زیرہ، لہسن ادرک گوشت کے ساتھ ملا کر اُبالا جاتا ہے۔پھر اس کے بعد الگ بھگار لگاکر اس میں یخنی اور چاول شامل کردیے جاتے ہیں۔

نرگسی کوفتے

nargisi kofte
بازار میں اب بنے بنائے مشینی کوفتے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ مگر محنت سے تیار کیے گئے نرگسی کوفتے کے ذائقے اور مزے کی بات ہی اور ہے۔ سِل پر باریک کیے گئے قیمے میں بہت سے مسالے پیس کرکے اسے یکجان کرکے ایک اُبلا ہوا انڈا ڈال کر چاروں طرف قیمے سے بھرائی کی جاتی ہے۔ پھر اسے درمیان میں سے کاٹ دیا جاتا ہے جس کے بعد اس کا شیپ بالکل آنکھ کی طرح ہوجاتا ہے اسی وجہ سے اسے نرگسی کوفتے کہا جاتا ہے۔

پائے

paye
آج کل تو پائے پریشر ککر میں صرف دوگھنٹے میں تیار کرلیے جاتے ہیں۔ مگر پہلے زمانے میں رات بھر پائے چڑھا کر یخنی تیار کی جاتی تھی۔ پھر الگ مسالا بھون کر اس میں پائے شامل کیے جاتے تھے۔ کچھ لوگ آج بھی یہی روایتی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ پائے کھانے اور پکانے کا اصل لطف اور مزاہ اسی روایتی طریقے میں پوشیدہ ہے۔

سرسوں کا ساگ

sarson ka saag(1)
سردیوں میں سرسوں کے ساگ کا اپنا الگ ہی مزہ ہے۔پہلے لوگ مکئی کی روٹی سے یہ ساگ کھایا کرتے تھے۔ مگر نہ اب لوگ اتنی محنت کرتے ہیں اور نہ ہی مکئی کی روٹی ہر کوئی کھاسکتا ہے۔ یہ ساگ جس طرح بھی پکایا جائے مزہ دیتا ہے۔ مگر سرسوں کے گھٹے ہوئے ساگ کی کیا ہی بات ہے۔ دیسی گھی اور لہسن کے تڑکے کے ساتھ اس کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔سرسوں کا ساگ باریک کاٹنے کے بعد اس میں ہری مرچیں شامل کرکے اسے ابالنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے گل جانے پر اس کاپانی نچوڑ کر مکئی کا آٹا ڈال کر اسے خوب گھوٹا جاتا ہے۔ اور تیار ہونے پر آخر میں بگھار لگا دیا جاتا ہے۔
اگر آپ بھی ان روایتی پکوانوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو ا نھی بتائے گئے طریقوں کے مطابق انھیں پکایئے اور مزے مزے سے کھایئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...