
پلیٹلٹس کی کمی دور کرنے والی غذائیں
پلیٹلٹس خون میں موجود سب سے چھوٹے خلیے ہوتے ہیں جو چوٹ لگنے پر جسم سے خون کازیادہ اخراج ہونے سے روکتے ہیں ۔ پلیٹلٹس ہڈیوں کے گودے میں موجود ہوتے ہیں ۔ یہ پلیٹ کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ چوٹ لگنے پر یہ خلیات چوٹ والی جگہ پر جمع ہوجاتے ہیں اور و ہاں پہنچ کرخون کی ٹوٹی ہوئی شریانوں کو جوڑتے اور اس جگہ پر خون کو جما دیتے ہیں ۔ایک صحت مند جسم میں فی ایم سی ایل خون میں اوسط 150000سے450000پلیٹلٹس ہوتے ہیں ۔ جب خون میں پلیٹس نارمل مقدار سے کم ہونے لگتے ہیں تو اس صورتحال کو تھرموبوسائیٹوپینیا thrombrocytopeniaکہتے ہیں ۔ پلیٹلٹس کی کمی دل کی بگڑتی حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ پلیٹلٹس کی تعداد اگر حد سے زیادہ گر جائے تو ناک اور مسوڑھوں میں خون بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جلد کے اندر بھی خون بہنے لگتا ہے جو چوٹ کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ آہستہ آہستہ جسم کے اعضا کام کرنا بند کردیتے ہیں ۔ پلیٹلٹس کا حد سے زیادہ کم ہوجانا ایک تیزی سے پھیلنے والا جان لیوا مرض ہے ۔
جسم میں پلیٹلٹس کم ہوجانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں لیوکیمیا، چند اقسام کے انیمیا، وائرل انفیکشن جیسے ہیپاٹائٹس سی ، ایچ آئی وی ایڈس، کیمو تھیراپی کی ادویات کا استعمال اور الکوہل کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ ان دنوں ڈینگی وائرس بھی جسم میں پلیٹلٹس کم ہونے کی ایک اہم وجہ بن گیا ہے ۔ ڈینگی وائرس میں مبتلا مریض کے جسم میں پلیٹلٹس کی مقدار تیزی سے گرنے لگتی ہے ۔ دورن حمل بھی اکثر پلیٹلٹس کی مقدار کم ہونے لگتی ہے البتہ یہ وقتی کمی ہوتی ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ٹھیک بھی ہو جاتی ہے ۔
یوں تو پلیٹلٹس کی مقدار کم ہونے کی علامات ظاہر ہونے پر فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس مرض سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ان غذاؤں کا استعمال مفید ہے :
*انار

یہ پھل پلیٹلٹس کی کمی دور کرنے کے لیے بہترین ہے ۔ اس کا سرخ رنگ اس میں موجود آئرن کی وافر مقدار کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اس کا مستقل استعمال پلیٹلٹس کی کمی کو دور کرنے میں کافی حد تک معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ آپ انار کو اس کی اصل شکل میں بھی کھا سکتے ہیں اور اس کا جوس بنا کر بھی پی سکتے ہیں ۔ اس میں موجود وٹامنز پلیٹلٹس کی کمی میں بھی جسم کو ضروری طاقت اور توانائی مہیا کرتے رہتے ہیں ۔
*دودھ

دودھ کیلشیم سے بھرپور ہوتا ہے جس سے جسم میں پلیٹلٹس کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ دودھ میں کیلشیم کے ساتھ ساتھ وٹامن کے اور ایک خاص قسم کا پروٹین فائبروجین بھی موجود ہوتا ہے جو کہ زخم بھرنے کی خون کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے ۔ دودھ کے ساتھ ساتھ آپ کو دودھ سے بنی ہوئی دیگر غذائیں بھی فائدہ پہنچائیں گی جیسے کہ دہی اور پنیر وغیرہ۔
*وٹامن بی 9سے بھرپور غذائیں

جسم میں وٹامن بی9یا فولیٹ کی حد سے زیادہ کمی خو ن میں پلیٹلٹس کی مقدار کم ہونے کا باعث بنتی ہے ۔ ایک شخص کو دن میں 400ملی گرام تک فولیٹ ضرور لینا چاہیے ۔ ایسی غذائیں جن میں فولیٹ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ان میں سیریلز، نارنگی کا جوس اور پالک شامل ہیں ۔
*لین پروٹین غذائیں

ایسی غذاؤں میں موجود وٹامن بی12اور زنک تھرموبوسائیٹوپینیا کے اثرات کو دور کرتا ہے ۔ ایسے کھانے کھائیں جن میں لین پروٹین کثیر تعداد میں موجود ہے جیسے کہ مرغی اور مچھلی۔
*پپیتا

پپیتا غذائیت سے بھرپور پھل ہے ۔ نہ صرف پپیتا بلکہ اس کے پتے بھی خون میں پلیٹلٹس کی کمی کو دور کر دیتے ہیں ۔ پانی میں پپیتے کے پتوں کو 10سے15منٹ کے لیے ابال لیں ۔ پانی آدھا رہ جائے تو پانی چھان کر رکھ لیں ۔ اسے دن میں دو بار پئیں ۔ اس سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بڑھنے لگتیہے ۔
*وٹامن کے کا استعمال

وٹامن کے بھی جسم میں پلیٹلٹس بناتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خلیات کی نشونما ہوتی ہے اور ان کی خون میں مقدار معتدل رہتی ہے ۔ ایک پلیٹلٹ خون میں دس دن تک ہی رہتا ہے۔ختم ہونے والے پلیٹلٹ کی کمی کو دور کرنے کے لیے نئے پلیٹلٹس کا جسم میں بنتے رہنا ضروری ہے ۔ اس لیے وٹا،ن کے سے بھرپور غذائیں جسم میں پلیٹلٹس پیدا کرتی رہتی ہیں ۔ جن غذاؤں میں وٹامن کے کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے ان میں کر م کلا، کلیجی اور انڈے شامل ہیں ۔