Facebook Pixel

جوائنٹ فیملی سسٹم۔۔۔ایک دم توڑتی روایت

1,170

آج صبح جب میں بیدارہوئی تومجھے اپنی طبیعت میں تازگی کے ساتھ اپنے اطراف کے ماحول میں ایک عجیب خالی پن اور سناٹے کا احساس ہوا، جسے میں کوئی نام نہ دے سکی۔ تھوڑی دیر میں اسی کیفیت میں بیٹھی رہی، پھررفتہ رفتہ مجھے اپنا خواب یاد آیا کہ جسے دیکھتے دیکھتے میں بیدار ہوئی تھی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی توسب کچھ میرے اطراف میں تھا،میرے خاندان کے تمام افرادیکجا تھے، ایک پررونق گھر تھااورمیں خودبھی ان پیارکرنے والے رشتوں کے درمیان موجود تھی کہ آنکھ کھلنے پرگویا اچانک ہی جیسے سب کچھ غائب ہوگیا اور میں اکیلی رہ گئی۔

خواب جوکہ حقیقت سے انتہائی قریب تھا اور جوکہ واقعی اب ایک خواب بنتا جارہا ہے میں نے دیکھا کہ میں ایک جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ ہوں، میرے اطراف میں میرے ساس سسر،میرے شوہر بچے دیورنندسب کے سب یکجا ہیں ۔خواب میں بھی صبح کاوقت ہے۔ گھرکے افراد نمازسے فارغ ہوچکے ہیں۔ ساس تخت پربیٹھی تسبیح پڑھ رہی ہیں جب کہ سسر کے ہاتھ میں اخبارہے ،جس کاوہ مطالعہ کررہے ہیں۔ گھر میں بچوں کا شور ہے جو اسکول کی تیاری میں مصروف ہیں۔ نندصاحبہ بچوں کی مدد کررہی ہیں تودیورپیاربھری دھمکیاں دے رہاہے کہ بچو جلدی تیارہوجاؤ ورنہ میں اسکول چھوڑنے نہیں جاؤں گا۔شوہر صاحب کی اپنی فرمائشیں سنائی دے رہی ہیں جوکہ دفترکے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہیں اورمیں اس تمام شورشرابے سے محظوظ ہوتی ہوئی کچن میں ناشتے اور بچوں کے لیے لنچ کی تیاری گویا اس طرح کررہی ہوں کہ جیسے یہ بھی ایک چیلنج ہے۔

اسی شور شرابے میں میرے بیٹے کی ایک زور دارآواز آئی، مماجلدی کریں۔ بس آوازکیا آئی کہ میں حقیقت کی دنیا میں واپس آگئی ۔میرا بیٹا مجھے اٹھارہاتھا، میں ہڑبڑاکراٹھ بیٹھی کہ کتنی دیر ہوگئی ہے۔ مجھے اپنے اطراف میں خالی پن کے احساس کے ساتھ خیال آیا کہ میں تواکیلی ہوں اورمجھے اکیلی ہی ساری تیاری کرنی ہے۔ بچوں کو اسکول جاناہے جب کہ مجھے اور میرے شوہر کو دفتر پہنچنا ہے۔ اس خیال کے ساتھ ہی کام میں مصروف ہوگئی اور سوچتی رہی کہ کیا واقعی ایسے خاندان اب خواب بن گئے ہیں اور نئی نسل توگویا جوائنٹ فیملی سسٹم کی افادیت سے ہی ناواقف ہے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم ہماری روایا ت میں سے ایک اہم روایت ہے جوکہ بدقسمتی سے دم توڑتی جارہی ہے، لیکن مشترکہ خاندانی نظام کو کسی بھی طرح نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت بھی بے شمار خاندان اس روایت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک لڑکی جب شادی کرکے اپنے والدین کا گھرچھوڑکر سسرال آتی ہے تو اسے قدم قدم پر اپنے گھروالے یاد آتے ہیں ،جن کے ساتھ اس نے اپنی پچھلی زندگی گزاری ہوتی ہے۔ اسے ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں آتی ہے تو اسے ایک بنا بنایا گھر ملے گا، جس میں ساس،سسر کی صورت میں ماں،باپ اورنند،دیور کی صورت میں بہن بھائی ہوں گے۔ ان تمام رشتوں کو اسے خدا کا دیا ہوا تحفہ سمجھ کر قبول کرلینا چاہیے اوران سے اسے اسی طرح محبت و احترام کا سلوک کرنا چاہیے کہ جس طرح وہ اپنے میکے والوں سے کرتی ہے۔

گھرکے کام کاج بھی گھر والے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں اور اس طرح گھرکی تمام ذمے داری اکیلی لڑکی پر نہیں ہوتی۔ خاص طورپر ملازمت پیشہ خواتین کو جوائنٹ فیملی سسٹم میں بہت آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انہیں ملازمت کے دوران بچوں کی تنہائی کا خوف نہیں ہوتا۔ بچوں کی بہترپرورش میں ساس، سسر کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ خاص طورپربچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت میں خاندان کے بزرگوں کا نمایاں کردارہوتاہے۔

آج کل مہنگائی اپنے عروج پرہے اوران حالات میں ایک تنہا فرد اپنی خاندانی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے سے قاصرہے، لیکن جوائنٹ فیملی سسٹم میں شامل تمام افرادگھرکی ذمے داریوں کو آپس میں تقسیم کرتے ہوئے معاشی طورپر ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خوشیوں اور غم کے لمحات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہوئے پریشانیوں کا مقابلہ بہتر طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب جوائنٹ فیملی سسٹم کے اتنے فوائدہیں تووہ کون سی وجوہات ہیں جواس سسٹم کے ٹوٹنے کی وجہ بنیں۔
عام طورپرجوائنٹ فیملی سسٹم ٹوٹنے کی بنیادی وجہ گھرکے افراد کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کافقدان ہے، یا دوسرے الفاظ میں اسے ہم اختلاف رائے بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے متفق نہیں ہوتے اوراسی وجہ سے آپس میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ افراد ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جوکہ ناگواری کا سبب بنتی ہیں۔

فیملی میں سب سے اہمیت ساس، سسر اور اس کے بعد شوہر کے قریبی رشتوں کی ہوتی ہے۔ اگر گھرکی بہوان رشتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش نہیں آتی تو لڑائی جھگڑے جنم لیتے ہیں ۔

جوائنٹ فیملی میں جھگڑے کی ایک وجہ شوہر کی تنخواہ بھی ہوسکتی ہے، جسے ساس چاہتی ہے کہ بیٹا اسے دے جب کہ بیوی کہتی ہے کہ یہ میرا حق ہے۔

جوائنٹ فیملی میں چوں کہ زیادہ افراد کی رہائش ایک ہی گھر میں ہوتی ہے ،اس لیے گھرمیں پرائیویسی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اگرساس کے دل میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی محبت کواپنی بہو سے بانٹ سکے تویہ وجہ بھی جھگڑے کا باعث بنتی ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں چوں کہ فیملی کے افراد کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کی مصروفیات اور ان کے اوقات آپس میں میل نہیں کھاتے، لہٰذا ان کا روٹین ایک دوسرے سے مختلف ہوتاہے۔ آج کل کی نوجوان نسل اپنے معاملات میں روک ٹوک پسند نہیں کرتی جب کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں اہل خانہ ایک دوسرے کے بچوں پر تنقیدکے علاوہ ان کے معاملات میں دخل اندازی اپنا حق سمجھتے ہیں جوکہ بچوں کے علاوہ بعض اوقات والدین کو بھی برا لگتا ہے۔ جوائنٹ فیملی میں چوں کہ کئی فیملیزشامل ہوتی ہیں اس لیے ان کے بچوں کے بھی آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں۔ گھرکے افراد زیادہ ہونے کے باعث گھرکا کام بھی زیادہ ہوتاہے، اس لیے خواتین میں اکثرکام کی تقسیم پرجھگڑا ہوجاتا ہے ۔

فیملی میں موجود ہرخاتون کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ گھر کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہو جب کہ ساس اپنا اختیارچاہتی ہے۔ جوائنٹ فیملی میں اکثر اوقات جوفردزیادہ کمارہاہے یاجوعورت زیادہ کام کررہی ہے اسی کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے فیصلوں کو اولیت دی جاتی ہے۔ اکثرایک کمانے والے پرہی سارا گھرانحصار کرتا ہے۔ کام سے واپسی پرانہیں دوسروں کے اضافی کام کرنے پڑتے ہیں جنہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔ اگرگھر کاکوئی فرد کسی کاکام کرتاہے تودوسرا فرد شکر گزارنہیں ہوتابلکہ کہتا ہے کہ یہ ان کافرض تھا۔فیملی کے چھوٹے چھوٹے مسئلے بڑے بن جاتے ہیں جنہیں گھرکے افراد بات چیت سے حل کرنااپنی اناکامسئلہ بنالیتے ہیں۔ گھر کے ہرفردکوآپس میں خوشگوارمراسم رکھناہوتے ہیں ورنہ وہ ماحول خراب کرنے کا ذمے دارہوتاہے۔ جوائنٹ فیملی میں گھرکے ہر فرد کوایک ہی طرزِزندگی اختیارکرناپڑتی ہے۔ فیملی کے ہر فرد کے ساتھ برابر کاسلوک کرناپڑتاہے ورنہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ انہیں کم اہمیت مل رہی ہے۔

گھرکی کسی چیز کو آپ ذاتی ملکیت نہیں سمجھ سکتے ،ہر چیزپرسب کا مشترکہ حق ہوتاہے ،کم وبیش ان تمام وجوہات کی بنا پر جوائنٹ فیملی سسٹم ختم ہوتاگیا اوریہ روایت بتدریج کم ہوتی گئی۔ خاندان سمٹتے چلے گئے اور سنگل فیملی سسٹم کاآغازہوا، لیکن ان تمام منفی پہلوؤں کے باوجود ہم جوائنٹ فیملی سسٹم کی افادیت کو فراموش نہیں کرسکتے اور اگر ان تمام پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے فراخ دلی سے سوچیں توگستاخی معاف مجھے ان تمام محرکات کی ذمے دار خاتون خانہ ہی نظر آتی ہے، کیوں کہ ہمارے معاشرے میں خاندان کو باندھے رکھنے کا ذمے دارخواتین کو ہی سمجھاجاتاہے اوراگر خواتین تنگ نظری سے کام نہ لیں اور اپنے شوہرکے گھرکویعنی اپنی سسرال کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی کہ اپنے میکے کو۔ توکوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے معاشرے کی اتنی پیاری دم توڑتی ہوئی روایت کوپھرسے زندہ نہ کرسکیں۔

یا د رکھیں جوائنٹ فیملی سسٹم بندمٹھی کی طاقت کی طرح ہے جو آپ کے حالات کی ستم ظریفوں سے محفوظ رہنے میں مدد دیتاہے۔ وقت کاکام گزرجانا ہے آج جس مقام پرآپ کے ساس ،سسرموجودہیں کل اس جگہ یقیناً آپ ہوں گے اس وقت آپ بھی اپنی اولاد سے دور دوسروں کے رحم وکرم پررہنا پسند نہیں کریں گے۔ ایسے وقت میں جب کہ وہ عمر کے اس حصے میں ہوں کہ انہیں اپنی اولاد کی قربت اورخدمت کی ضرورت ہو آپ بھی اس نیکی میں حصہ لے کر بزرگوں کی دعاؤں سے فیض یاب ہوسکتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہوئے ایک اچھی مثال بن سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...