
کیل مہاسوں کی 5 اقسام اور بچاؤ کے طریقے
تکلیف دہ ، بد نما اورطویل العمر کیل مہاسے نوجوان افراد کے لیے پریشانی کا باعث ہوتے ہیں۔ چہرے پر کیل مہاسے ہونے کی اصل وجہ معلوم کرنا ڈاکٹرز کے لیے اکثر مشکل ہوجا تا ہے ۔ مزید یہ کہ اس کا کوئی مستقل علاج بھی نہیں ہے جس سے اسے آئندہ ہونے سے روکا جا سکے ۔ ہر چہرے پر کیل مہاسے ہونے کی مختلف وجہ اور علامات ہوتی ہیں ۔ وجہ چاہے جو بھی ہو ہر کوئی اسے فوری اپنے چہرے سے صاف کرنا چاہتا ہے ۔
جب آپ چہرے کے دانوں کے لیے کسی معالج کے پاس جاتی ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ پتا لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کس چیز کے باعث ہورہے ہیں ۔ ایک بار اس بات کا پتا چل جائے تو ان کا علاج کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ یہ معلوم کرنے کے لیے معالج اکثر چند ٹیسٹ اور تجربات کرتے ہیں ۔ ان ٹیسٹون کے بعد ہی آپ کی ضرورت کے مطابق کوئی نسخہ دیا جاتا ہے ۔
جلد پر رونما ہونے والے کسی بھی عیب یا مرض کے بارے میں جاننے سے پہلے جلد اور اس کی بناوٹ کو سمجھنا ضروری ہے ۔
جسم کے ہر حصے کی جلد دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔ آپ کے چہرے کی جلد ایک ایسے گلینڈ یا غدودسے بنتی ہے جوجلد کوچکنا رکھنے کے لیے دہنی مادہ یا روغن پیدا کرتاہے ۔ یہ غدود چربی پیداکرنے والا مادہ (sebum ) اپنے ا ندر جذب کرتے ہیں جوکہ جلد کی سطح سے پوروں کے ذریعے باہر نکل آتا ہے ۔ اس طویل عمل کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی جلد قدرتی طور پر ملائم، صاف اور نم رہے ۔
مشکل تب پیش آتی ہے جب اس عمل میں کوئی بیرونی یا اندرونی مداخلت پیدا ہو جائے ۔ جسم میں ہارمونز کے تناسب میں کمی یا زیادتی چہرے پر ہونے والے کیل مہاسوں کی ایک اہم وجہ ہے ۔ اس کی وجہ سے اکثر جلد کے غدود زیادہ سیبم پیدا کرنے لگتے ہیں ۔ اس سے غدود بندہونے لگتے ہیں اور اس میں جراثیم جمع ہو کر کیل مہاسوں کا سبب بن جاتے ہیں ۔ یہ جراثیم میک اپ یا مردہ جلد کیے وجہ سے بھی بننے لگتے ہیں ۔ اس مسئلے کی وجہ سے نہ صرف کیل مہاسے بلکے بلیک ہیڈز اور وائٹ ہیڈز بھی چہرے پر ہونے لگ جاتے ہیں ۔
بلیک ہیڈز
جب جلد کا اضافی تیل اور مردار خلیے جلد کے پوروں میں جمع ہونے لگتے ہیں تو وہ ان خلیوں سے باہر بھی نکل آتے ہیں ۔ ہوا لگنے سے یہ بلیک ہیڈزبن جاتے ہیں ۔ ہو ا لگنے سے یہ کالے رنگ کے نکتے کی طرح نظر آتے ہیں جو کہ جتنا جلد کے باہر ہوتا ہے اتنا ہی اندر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہیں آسانی سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ عام طور پر لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ بلیک ہیڈ کسی جراثیم یا صفائی کے مسائل کی وجہ سے نہیں ہوتے اس لیے ان سے نجات پانے کے لیے چہرے کو صاف رکھنا اور اینٹی بیوٹکس کا استعمال ضروری نہیں ۔ حقیقت میں اس کے خاتمے کے لیے اکثر کسی اچھے بی ایچ اے پراڈکٹ کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی اچھے اسکرب یا کیلنسر سے بھی اسے صاف کیا جاتا ہے ۔ بلیک ہیڈ کے مستقل خاتمے کے لیے خلیوں کی درستگی کی ادوایت استعمال کی جاتی ہیں ۔
وائٹ ہیڈز
یہ چھوٹے ، سفید دانوں کی شکل کی کیلیں ہوتی ہیں البتہ ان میں دانوں کی طرح سوجن اور جراثیم نہیں ہوتے ۔ کبھی تو یہ وائٹ ہہیڈز بڑھتا نہیں ہے اور کبھی یہ بڑھ کر دانہ بن جاتا ہے ۔ انہیں نکالنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ خود بخود نہیں نکلتے ۔ بعض اوقات وائٹ ہیڈز خود نکالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ اگر خود سے وائٹ ہیڈز نہ نکلیں تو زور لگانے کے بجائے کسی جلدی ماہر کے پاس جاکر انہیں نکلوالیں ۔ بلیک ہیڈز کی طرح وائٹ ہیڈز نکالنے کے لیے بھی پی ایچ اے پراڈکٹس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
آبلے
یہ کیل مہاسوں کی طرح چوٹ کی شکل میں نہیں ہوتے بلکہ نسبتاًہلکی نوعیت کے ہوتے ہیں ۔ ان کی رنگت ہلکی گلابی ہوتی ہے اور ان میں سیال بھرا ہوتا ہے ۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مسام پھٹ جاتا ہے اور اس میں جراثیم جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ان سے یہ سیال بنتا ہے جو آگے چل کر پس کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ دانوں کی اس قسم کو آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے ۔ ایسے پراڈکٹ جن میں سیلیکلک ایسڈ(salicylic acid)اور بینزوئل پر آکسائڈ (benzoyl peroxide) موجود ہوں ان کا استعمال ان آبلوں کے خاتمے کے لیے مفید ہوتا ہے ۔ البتہ آبلوں کو دبانے یا ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
چھالے
جب کوئی دانہ بڑھ جاتا ہے تو وہ چھالہ بن جاتا ہے ۔ اس کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے ۔ آبلے بھی آگے چل کر چھالہ بن جاتے ہیں ۔ اکثر نوجوان افراد کے چہرے پر آبلے ور چھالے دونوں ہوتے ہیں ۔ جس کے باعث انھیں دونوں سیلیکلک ایسڈ اور بینزوئل ایسڈ کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ چھالے اور آبلے بننے کی وجوہات ایک ہی ہوتی ہیں ۔
سسٹ
یہ جھلی دار دیواروں والی ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں فاسد مادہ ہوتا ہے ۔ یہ کیل مہاسوں کی سب سے خطرناک قسم ہے ۔ انہیں سنبھالنا اور ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اوپری طور پر یہ عام چھالے جیسے ہی لگیں گے لیکن اندرونی طور پر یہ کافی بڑے ہوتے ہیں اور اس میں جلد کی کئی تہیں مل جاتی ہیں ۔ انکے نشان گہرے ہوتے ہیں جن سے اکثر جلد کی ساخت بدل جاتی ہے اور جلد پر گڈھے پڑ جاتے ہیں ۔
اس قسم کے دانوں کو محض کسی پراڈکٹ یا گھریلو ٹوٹکے سے دور نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں ختم کرنے کے لیے طبی مدد درکار ہوتی ہے