Facebook Pixel

پام آئل کی غذائی و ادویاتی خصوصیات

1,638

انسان صدیوں سے کھانے پکانے میں مختلف اقسام کے تیل استعمال کر رہا ہے۔ ہمارے یہاں زیادہ تر دیسی گھی کا استعمال عام تھا۔ لیکن اس کے ساتھ سرسوں کے تیل کا بھی استعمال ہوتا ہے جس میں پکوڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی اچار میں تیل کو جزو لاینفک سمجھا جاتا ہے۔ مختلف اقسام کے تیل کی مختلف کیمیائی تراکیب ہیں جس کی بنیاد پر ان کی افادیت کا انحصار ہوتا ہے۔

وہ تیل جن میں غیر سیر شدہ چکنائی کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے انھیں استعمال کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی تیل کو استعمال میں لانے سے پہلے اس کی کیمیائی ترکیب کو دیکھ لیا جائے تو بہترہوگا۔کیونکہ سیر شدہ تیل انسانی صحت کے لیے زیادہ بہتر نہیں سمجھے جاتے۔

پام تیل کا آج کل ہمارے یہاں کھانا پکانے میں زیادہ استعمال ہورہا ہے اس کی بڑی وجہ اس کی قیمت ہے۔ اسے پام کے پھل،بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ پام کے پودے کی ملائیشیا میں بڑی کاشت ہوتی ہے۔ پام تیل پانچ ہزار سال پہلے مصر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ پام کا آبائی وطن مغربی افریقا ہے لیکن وسطی اور مشرقی افریقا اور مڈگاسکر میں بھی پایا جاتا ہے۔

پام کو انیس سو دس میں ملائیشیا میں متعارف کرایا گیا۔ 2008میں ملائیشیا میں17.7ملین ٹن پام آئل پیدا ہوا۔ اس کی پیدا وار کا ساٹھ فیصد چائنا،پورپین یونین،پاکستان، امریکا اور انڈیا میں بھیجا جاتا ہے۔ جہاں یہ کوکنگ تیل،مارجرین اورOleochemicals(گلیسرین،ایسٹرز اور الکوحل وغیرہ) بنانے کے کام آتاہے۔

پام کا رنگ قدرتی طورپر سرخ ہوتا ہے کیونکہ اس میں بی ٹاکیروٹین اور لائیکو پین کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ٹوکو فیرول اور ٹوکوٹرائی اینولز(وٹامن ای فیملی)،وٹامن کے،Squalanene،فائٹو سٹیرولز،فلیوو نائیڈز،فینولک ایسڈز،Glycolipidsپائے جاتے ہیں۔

سرخ پام تیل میں کیروٹین گاجر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ اور ٹماٹر کے مقابلے میں تین سو گنا زیادہ پائی جاتی ہے۔

کیمیائی ترکیب:۔

پام کے پھل کا تیل اور بیجوں کا تیل کیمیائی ترکیب کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ پھل میں56فیصد تیل پایا جاتا ہے۔جوکہ پچاس فیصد سیر شدہ اور پچاس فیصد غیر سیر شدہ چکنائی پر مشتمل ہوتا ہے۔معمولی مقدار میںmyristicاورLubricant acidبھی پائے جاتے ہیں۔پام کرنل تیل(بیجوں سے حاصل شدہ تیل) میں 82فیصد غیر سیر شدہ چکنائی پائی جاتی ہے۔

بیجوں سے بنا تیل زیادہ فائدہ مند نہیں ہے کیونکہ اس میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا پھل سے بنا سرخ تیل ہی استعمال کرنا چاہیے۔پام تیل میں ٹرانس چکنائیاں اور کولیسٹرول نہیں پایا جاتا۔ اس میں موجود ٹوکو ٹرائی اینولز کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پام تیل میں وٹامن ای اور کیروٹین دوسرے کھانوں کے تیل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

پام تیل کو مختلف اقسام کے کیمیائی عمل سے گزار کر اسے ملاوٹوں سے پاک کیا جاتا ہے۔ اسے فلٹر اور بیلچ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فزیکل ریفائننگ کی جاتی ہے جس میں اس کے رنگ اور بو کو دور کیا جاتا ہے۔اس عمل کوRefaind bleached deodorized palm oilکہتے ہیں جسے صابن اور دوسری اشیا بنانے کے لیے بطور خام مال استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے بطور کوکنگ تیل بھی بیچا جاتا ہے۔اس تیل کا استعمال کھانے کے لیے بہتر نہیں ہے۔ قدرتی سرخ پام تیل ہی کھانے میں استعمال کرنا چاہیے۔

صحت مند دل اور متوازن خوراک استعمال کرنے والو ں کو سرخ پام تیل کا استعمال نقصان نہیں دیتا۔ سرخ پام تیل کو اس کی مانع تکسید خوبیوں کی وجہ سےAnti agingکاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔اسے مایونیزمیں اور بطورsalad oil بھی استعمال کیا جاتا ہے۔صابن،واشنگ پاوڈر اور فارما سیوٹیکل پراڈکٹس میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کھانے کے لحاظ سے پام تیل بہتر نہیں ہے کیونکہ اس میں سیچوریٹ فیٹی ایسڈ کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔لیکن اس تیل کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اس کا استعمال زیادہ ہورہا ہے۔لیکن افادیت کے لحاظ سے یہ تیل دوسروں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...