Facebook Pixel

گلوٹین سے الرجی اور گلویٹن فری کھانے

3,081

ہر غذا اپنے اندر حیاتین ،کیلشیم اور معدنیات رکھتی ہے لیکن بعض اوقات بہت سی غذائیں فائدہ دینے کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگوں کو دودھ سے بنی ہوئی اشیاء سے درد شقیقہ کی شکایت ہوتی ہے اور کچھ لوگوں کو میوے یا مچھلی کھانے سے جسم پر دانے نکلنے کی شکایت ہو جاتی ہے ۔ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ غذا ناقص ہوتی ہے بلکہ ہمارا جسم ایسی غذاؤں کو قبول نہیں کرتا جس کا اندازہ ہمیں مختلف ریکشن سے ہوتا ہے ۔( درد ،متلی ،سر چکرانا اور جسم پر خارش ہونا ) ۔اسی طرح بہت سے لوگوں کو گلوٹین سے الرجی ہوتی ہے ۔

گلوٹین ایک طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو اناج میں خاص طور پر گندم اور جو میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ گلوٹین کی وجہ سے ہی روٹی میں ایک لوچ (لچک ) اور نرمی آتی ہے ۔

کئی لوگوں کو گلوٹین سے الرجی ہوتی ہے اور کچھ لوگ گلوٹین انٹولیرنٹ ہوتے ہیں ۔گلوٹن انٹولرنس ایک موروثی بیماری ہے ۔اگر والدین میں سے کسی کو یہ بیماری ہے تو آئندہ نسل میں اس بیماری کے منتقل ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں ۔اس بیماری کو (کوئلک ڈسیس ) کہا جاتا ہے جو کہ سو میں سے کسی ایک فرد کو ہی ہوتی ہے لیکن ایک پیچیدہ مرض ہے ۔اس مرض میں علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے
۔
گلوٹین انٹولیرنٹ افراد کو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔

احتیاطی تدابیر

۱۔ اپنے ڈاکٹر سے گلوٹین فری ڈائٹ چارٹ مرتب کرانا چاہئے
۲۔ کھانے پینے میں احتیاط کرنی چاہئے
۳۔ بازار میں ملنے والے ریڈی میڈ (تیار ) کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے
۴۔ ایسے کھانے جن میں ایسٹ اور پریسرویٹو زکا استعمال ہو ( اچار ،ریسیپی مصالحے اور ٹیسٹ میکر ) اُن سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
۵۔بازار میں دستیاب فریز ہوا گوشت اور سبزیوں کی جگہ تازی اشیاء استعمال کرنی چاہئیں
۶۔ میدہ ،آٹا اور اس سے بنی اشیاء اس بیماری کی سنگینی کو بڑھاتی ہیں اس لئے ( پزا ، ڈ بل روٹی،کیک بسکٹس ،پاستہ او ر پیسٹری ) جیسے کھانیبالکل نہیں کھانے چاہئیں ۔
۷۔ جنک فوڈ کی جگہ ( کلیر سوپ ) اور سلاد کا استعمال کرنا چاہئے
۸۔ اس مرض میں مبتلا افراد کو کھانے کے ڈبوں پر درج اجزاء اور ان کی مقدار کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔

علامات اور پیچیدگیاں

۱۔ سردرد
۲۔ سر چکرانا
۳۔ اُلٹی اور متلی
۴۔ پیٹ میں مروڑ اور شدید درد ہونا
۵۔ قبض
۶۔ اینیمیا ( خون کی کمی )
۷۔ قبض
۸۔بالوں کا تیزی سے گرنا
۹۔ چھوٹی آنتکا انفیکشن
۱۰۔ ہیضہ
۱۱۔ تیزی سے وزن کا کم ہونا

گلوٹین فری ڈائٹ

۱۔۔چونکہ گندم اور جو سے ہمیں پروٹین اور کاربو ہائڈریٹس کی بڑ ی مقدار حاصل ہوتی ہے اور جب ہم ایسی غذائیں نہیں لیتے تو پھر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم گندم اور دیگر اناج کے متبادلات کا استعمال کریں کہ جن سے ہمیں مکمل غذائیت مل سکے ۔
۲۔۔بازار میں یوں تو گلوٹن فری ڈائٹ اور مصنوعات آسانی سے مل جاتی ہیں مگر کافی مہنگی ہوتی ہیں اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ گھر میں موجود اجزاء سے ہی گلوٹین فری کھانے تیار کئے جائیں ۔
۳۔۔گلوٹین فری آٹے سے روٹا ور بسکٹس بنانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے کیوں کہ اس آٹے میں گلوٹین نہ ہونے کی وجہ سے کھنچاؤ اور لچک نہیں ہوتا لہذا اوٹس اور اراروٹ اور چاول کے آٹے کا استعمال کر کے بہترین کوکیز اور بسکٹس بنائے جا سکتے ہیں ۔
۴۔۔ باجرہ ،مکئی اور چاول کا آٹا گندم کے آٹے کا متبادل ہو سکتے ہیں ( روٹی ۔نان ۔اور نان خطائی )
۵۔ بیسن ( چنے کا آٹا ) کی روٹی اور پراٹھا یا پین کیکس بنائے جا سکتے ہیں
۶۔ تازہ ڈیری کی مصنوعات ( انڈے ،دودھ ،دہی اور مکھن ) کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے پروٹین حاصل کیا جا سکتا ہے
۷۔ ریڈی ٹو کُک اور فریز کھانوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے
۸۔ کھانے بنانے کے مختلف انداز اپنا کر اور کھانے میں تنوع لا کر گلوٹن فر لذیذ ڈشز بنائی جاسکتی ہیں ( لوبیا ،بیج،خشک میوے ،تازے پھل اور سبزیاں ) استعمال کر کے کھانے بنائے جا سکتے ہیں
۹۔ سویا سوس ،پروسسڈ گوشت ،سوسیج کا استعمال کم سے ک کرنا چاہئے
۱۰۔ اوٹس میں (اوینن) پایا جاتا ہے جو گلوٹین سے مختلف ہوتا ہے اس لئے اوٹس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے ۔
۱۱۔ گلوٹین فری کھانا بنانے کے لئے برتن ،اور مشینیں دوسرے کھانے بنانے کے لئے استعمال نہیں کرنی چاہئیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...