Facebook Pixel

خواتین کی مہندی ۔۔۔چاند رات سے اب تک ۔۔۔

2,380

مہندی کے بغیر بناؤ سنگھار ادھورا تصور کیا جاتا ہے
عید الفطر ہو یا عید الضحیٰ خواتین شاپنگ اور سجنے سنورنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔خواتین کیلئے عید کی خوشیاں بناؤ سنگھار اور ہاتھوں میں مہندی کے دلکش ڈیزائن بنوائے بغیر ادھوری ہوتی ہیں۔
یوں تو خواتین مہندی لگانا اور لگوانا پسند کرتی ہیں مگر چند سالوں سے خواتین میں بیوٹی پارلرز سے مہندی لگوانے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔عید سے چند روز قبل ہی شہر کے بیشتر بیوٹی پارلرز میں مہندی لگانے کیلئے ماہر بیوٹیشنز اور مہندی آرٹسٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ گلی محلے میں کھلے بیوٹی پارلرز کا کاروبار بھی چمک اٹھتا ہے۔ بیوٹی پارلرز پر کام کرنیو الی بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ عید پر زیادہ ترخواتین انڈین، راجستھانی، سوڈانی اور عربین ڈیزائن کی مہندی لگواتی ہیں، کم عمر بچیاں اور لڑکیاں ہاتھوں پر کہنی تک اور بازؤں پر بھی مہندی کے ڈیزائن بنواتی ہیں جن میں اسٹون اور گلیٹرز کا استعمال بخوبی کیا جاتا ہے، خواتین کے بناؤ سنگھار اور مہندی کے حوالے سے شہر کے مختلف علاقوں میں باقاعدہ مینا بازار قائم کئے جاتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین زیادہ تر انڈین ڈیزائن پسند کرتی ہیں جو کہ کافی بھرے ہوئے ڈیزائنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔عام دنوں میں دونوں ہاتھوں پر مہندی لگانے کی اجرت 500 روپے وصول کی جاتی ہے جو چاند رات تک بڑھ کر 800 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔جن خواتین کے ہاتھوں کی رنگت سانولی ہو ان کو چاہیے کہ مہندی کا ڈیزائن بنانے کے دوران آؤٹ لائن گہری بنوائیں جو مہندی ہاتھ میں رچنے کے بعد گہرا رنگ دیتی ہے۔جب کہ گورے ہاتھوں میں باریک مہندی ہی رنگ رچانے کیلئے کافی ہوتی ہے۔

تبصرے
Loading...