گردوں کو نقصان پہنچانے والی 8 غذائیں

27,436

ہماے گردے جسم سے فاضل مادے خارج کرنے کا اہم کام انجام دیتے ہیں ۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق انسانی گردے روزانہ 200کوارٹس خون میں سے 2کوارٹس فاضل مادے نکالتے ہیں ۔یہ 24گھنٹے کا م کرتے رہتے ہیں اور ہمارے جسم کو توانا رکھتے ہیں ساتھ ہی بلڈ پریشر میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
ہماری غذا گردوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے ۔اس میں بہت سی غذائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو گردوں کے کام کو مشکل بنادیتی ہیں ۔لہٰذا گردوں کو بیماری سے بچانے کے لئے ایسی غذاؤں کو مناسب مقدار میں لینا چاہئے۔
اس مقالہ میں 8 ایسی غذاؤں کا ذکر کیا جارہا ہے جو گردوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہیں جن میں سے کچھ مناسب مقدار میں کھانی چاہیے جبکہ کچھ کا استعمال یکسر ترک کردینا چاہئے۔

گائے کا گوشت:

گوشت میں پروٹین ہوتے ہیں جو ہمارے جسم میں مسلز بنانے کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں لیکن گردوں کے لئے انھیں کام میں لانا مشکل ہوجاتا ہے۔گردوں کو اپنا کام انجام دینے کے لئے فیٹس کی ضرورت تو ہوتی ہے لیکن گوشت میں فیٹس زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں جو گردوں میں میکروفیجس سیلز بناتے ہیں جو گردوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔
گوشت میں موجود ایک چیز پیورائن ہوتی ہے جو یورک ایسڈ کی پیداوار کو بڑھاتی ہے۔عام طور پر گردے یورک ایسڈ کوباہر نکال دیتے ہیں ۔لیکن اگر آپ زیادہ مقدار میں پیورائن لیتے ہیں تو یہ گردوں کی پتھری کا باعث بنتا ہے۔

نمک :

سوڈیم ہمارے جسم میں لکوئڈ کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے پوٹاشیئم کی مدد سے سوڈیم خون کو اتنا پانی فراہم کرتا ہے کہ وہ گردوں میں سے آسانی سے نکل سکے۔اگرآپ زیادہ نمک کا استعمال کریں گے تو گردوں کو اسے پتلا کرنے کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت ہوگی۔اس کی وجہ سے بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے جس سے گردوں میں صفائی کا کام انجام دینے والے اجسام نیفرونز کو نقصان پہنچتا ہے۔
تیارکھانوں حتیٰ کہ میٹھی چیزوں میں بھی نمک موجود ہوتا ہے۔نمک کی مقدار میں کمی کرنے کے لئے تازہ بنے کھانوں کا استعمال کریں ساتھ ہی پوٹاشیئم والی چیزیں بھی کھائیں تاکہ جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیئم کا توازن برقرار رہے۔یہ توازن جسم میں پانی کی مقدار مناسب رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔


اس بارے میں جانئے :سیڑھیاں چڑھنا بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے ؟

کیفین :

ہم میں سے اکثر لوگوں کی صبح کا آغاز چائے سے ہوتا ہے ۔پھر شام کے وقت اور دن میں بھی کام کی زیادتی کی وجہ سے ایک دو کپ پینے پڑ جاتے ہیں۔لیکن کیفین دوران خون کو تیز کر دیتی ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ۔کیفین پیشاب آور بھی ہوتی ہے اسلئے گردوں میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔اور پانی کی کمی کا باعث بنتی ہے۔
کم مقدار میں تو کیفین نقصان دہ نہیں ہے لیکن اس کا حدسے زیادہ استعمال جسم میںپانی کی کمی کی وجہ سے گردوں میں پتھری کا باعث بھی بنتا ہے۔اگر دن میں دو یا تین کپ سے زیادہ کیفین والے مشروب کا استعمال نہ کیا جائے اور زیادہ پانی پیا جائے تو پھر فکر کی بات نہیں ۔لیکن ضروری ہے کہ آپ انرجی یا سوڈا ڈرنک کے بجائے صرف کافی یا چائے کا استعمال کریں۔

سوڈا اور انرجی ڈرنکس:

یہ ڈرنکس خوش ذائقہ اورتوانائی سے بھرپورتو ہوتے ہیں لیکن بہت زیادہ مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔سوڈا اور انرجی ڈرنکس صحت کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں اس لئے انھیں غذا سے ختم کردینے سے گردوں پر دباؤ کم ہوگااور صحت بھی اچھی ہوگی ۔
ان مشروبات میں کیفین اور شکر کے علاوہ مضر صحت رنگ اور کیمیکلز بھی شامل ہوتے ہیں۔کیفین ناصرف پیشاب آور ہوتی ہے بلکہ انرجی یا سوڈا ڈرنکس سے حاصل ہونے والے شکر کی مقدار ہمارے جسم کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جسے باہر نکالنے کے لئے گردوں کوبہت زیادہ پیشاب خارج کرنا پڑتا ہے۔ان ڈرنکس کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے جس سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔


یہ بھی پڑھیں :معدے کے فلو کی علامات اور بچاؤ کے طریقے

سوئٹنر:

شکر کے زیادہ استعمال سے بچنے کے لئے ہم ڈائٹ سوڈا پینا پسند کرتے ہیں لیکن اس میں موجود آرٹیفیشل سوئٹنر ہمارے لئے اسی طرح نقصان دہ ہیں جیسے کوئی اور میٹھا مشروب ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ دو ڈائٹ سوڈا پینے سے گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔سوڈا ڈرنک کوئی بھی ہو، صحت کے لئے مضر ہے۔

ڈیری پروڈکٹس:

دودھ سے بنی اشیاء غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں ۔یہ ہماری غذا کا صحت بخش حصہ تو ہوتے ہیں لیکن ان کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوجاتا ہے ۔دودھ میں موجود کیلشیئم گردوں میں پتھری پیدا کرسکتا ہے کیلشیئم کی صفائی کے لئے گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔اس طرح گردے پروٹین کی بھی صفائی نہیں کرپاتے اور جسم میں اس کا لیول خطرناک حد تک بڑھتا جاتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گردے کے مریضوں میں دودھ سے بنی اشیاء کا استعمال کم کرنے سے ڈایالسس کی ضرورت بہت بعد میں پڑتی ہے۔

ناقص غذائیں:

ایسی سبزیاں یا پھل جن پر کیڑے مار دوائوں کا اسپرے کیا گیا ہو وہ بھی ہمارے لئے مضر صحت ہوتی ہیں کیونکہ زہریلے کیمیکلز ان میں سرائیت کر جاتے ہیں اور جب ہم یہ پھل یا سبزیاں کھاتے ہیں تو ہمارا جسم ان کیمیکلز کو باہر نہیں نکال پاتا اور ہمارے جسم میں ان مادوں کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گردے کے شدید مرض میں مبتلا لوگوں میں کیڑے مار دوائوں کے اثرات پائے جانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ۔


یہ بھی پڑھئے:جانئے ہسپتال میں خود کو جراثیم سے بچانے کی حکمت عملی


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...