periods – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Sat, 16 Jan 2021 07:03:42 +0000 ur hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png periods – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 حیض کی بندش کی علامات کم کرنے کے قدرتی طریقے https://htv.com.pk/ur/womens-health/period-problems Fri, 04 Oct 2019 10:00:51 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=34312 periods

45سے55سال کی عمر کی خواتین میں حیض کی بندش کی علامات شروع ہو جاتی ہیں اور چند سالوں تک رہتی ہیں ۔ان علامات میں گرمی لگنا ،رات کو پسینہ آنا ،موڈ سوئنگ ،بے چینی اور تھکن شامل ہیں ۔ اس عرصے میں خواتین کو بہت سی بیماریوں جیسے ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا،مٹاپا ،دل کی […]

The post حیض کی بندش کی علامات کم کرنے کے قدرتی طریقے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
periods

45سے55سال کی عمر کی خواتین میں حیض کی بندش کی علامات شروع ہو جاتی ہیں اور چند سالوں تک رہتی ہیں ۔ان علامات میں گرمی لگنا ،رات کو پسینہ آنا ،موڈ سوئنگ ،بے چینی اور تھکن شامل ہیں ۔
اس عرصے میں خواتین کو بہت سی بیماریوں جیسے ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا،مٹاپا ،دل کی بیماریاں اور شوگر ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

مندرجہ ذیل قدرتی طریقوں سے ان علامات کو کم کیا جاسکتا ہے:

کیلشیئم اور وٹامن Dسے بھرپور غذائیں کھائیں :

حیض کی بندش کے عرصے میں ہارمونز میں تبدیلی ہو تی ہے جس کی وجہ سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور ان کے بھربھراہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔کیلشیئم اور وٹامن ڈی ہڈیوںکی صحت کے لئے بہت ضروری ہیں۔لہٰذا ان اجزاء کو اپنی غذا میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔حیض کے بند ہونے کے بعد وٹامن ڈی کا استعمال ہڈیوںکو کمزور ہوکر ٹوٹنے سے محفوظ رکھتا ہے۔
بہت سی ڈیری پروڈکٹس جیسے دہی ،دودھ اور پنیر میں کیلشیئم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ہرے پتوں والی سبزیوں میں بھی کیلشیئم ہوتا ہے۔دھوپ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے اگر آپ دھوپ میں نہیں بیٹھ سکتیں تو وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ لے لیں ۔اس کے علاوہ چکنائی والی مچھلی ،انڈے اور مچھلی کے تیل میں بھی وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔

صحت مند وزن رکھیں:

حیض کی بندش کے وقت وزن میں اضافہ عام بات ہے۔اس کی وجہ ہارمونز کی تبدیلی ،بڑھتی عمر ،طرز زندگی اور موروثیئت بھی ہو سکتی ہے۔جسم میں فیٹس کا اضافہ ،خاص طور پر کمرکے گرد جمع ہونے والے فیٹس دل اور شوگر کی بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ آپ کا وزن حیض کی بندش کی علامات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں کھائیں :

غذا میں سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ استعمال آپ کو مینو پاز کی بہت ساری علامات سے بچا سکتا ہے۔پھل اور سبزیوں میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور ان سے پیٹ دیر تک بھرا رہتاہے اس طرح یہ وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ا س کے علاوہ یہ بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتے ہیں اورہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں ۔


تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری


 

علامات کو بڑھانے والی غذائوں سے گریز کریں:

کچھ غذائیں جسم میں گرمی پیدا کرنے ،رات کو پسینے آنے اور موڈ سوئنگ کی وجہ بھی بنتی ہیں ۔رات کے وقت کھانے سے یہ اور زیادہ نقصان دہ ہوجاتی ہیں ۔ان غذائوں میں کیفین ،الکوحل،میٹھی اور مصالحے دار غذائیں شامل ہیں ۔

ورزش کریں:

ورزش توانائی کو بڑھاتی ہے اور میٹا بولزم کو تیز کرتی ہے۔ہڈیوں اور جوڑوں کو صحت مند بناتی ہے،ذہنی دبائو کو کم کرکے اچھی نیند لاتی ہیں ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایک سال تک ہفتے میں تین گھنٹے ورزش ادھیڑ عمر کی خواتین کی ذہنی ، جسمانی صحت اور معیارزندگی کو بہتر بناتی ہے۔پابندی کے ساتھ روزانہ ورزش کینسر،اسٹروک،ہائی بلڈ پریشر،شوگر اور دل کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

زیادہ پانی پیئیں :

حیض کی بندش کے و قت اکثر خواتین خشکی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔اس کی وجہ ایسٹروجن لیول کی کمی ہوتی ہے۔ان علامات سے بچنے کے لئے 10سے12 گلاس پانی پینا چاہئے۔زیادہ پانی پینے سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور وزن میں کمی ہوتی ہے۔

کاربوہائیڈریٹ والی غذائوں سے پرہیز کریں:

زیادہ کاربوہائیڈریٹ اور شکر والے کھانے خون میں شکر کا لیول بڑھا دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طبیعت گری ہوئی اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں ادھیڑ عمر کی خواتین میں ڈپریشن کو بڑھا دیتی ہیں۔اس کے علاوہ ایسی غذائوں کا زیادہ استعمال ہڈیوں پر بھی برا اثر ڈالتا ہے ۔

پروٹین والی غذائیں لیں :

دن بھر میں پروٹین والی غذا کا استعمال بڑھتی عمر کی وجہ سے مسلز کو کم ہونے سے بچاتا ہے۔پروٹین والی غذا کا استعمال وزن کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔کیونکہ ان سے پیٹ بھرا رہتا ہے اورجسم زیادہ مقدار میں کیلوریز کو جلاتا ہے۔پروٹین والی غذائوں میں گوشت،انڈے،مچھلی،میوے اور ڈیری پروڈکٹس شامل ہیں ۔


لیکوریا ،علامات،وجوہات اور گھریلو علاج


The post حیض کی بندش کی علامات کم کرنے کے قدرتی طریقے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
دوران حمل پیدا ہونے والے 6 مسائل جو خطرہ کی علامت ہیں https://htv.com.pk/ur/pregnancy/pregnancy-problems-urdu Tue, 05 Mar 2019 11:47:07 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=29548 Pregnancy Problems in Urdu

حمل اکثرخواتین کے لئے قدرتی جسمانی عمل ہوسکتاہے تاہم زیادہ ترخواتین کے لئے ان کی پہلی پریگننسی کی مدت تیزی سے بدلتی ہوئی علامات کے پیش نظربے چینی اورغیریقینی صورتحال ہوتی ہے۔یہ بات جان لیں کہ نئے جذبات اورخدشات صرف حمل کاایک حصہ ہیں۔بہت سے جوڑے معمولی مسائل پربہت زیادہ تناؤ کاشکارہوجاتے ہیں۔اوراس کشیدگی میںخاندان […]

The post دوران حمل پیدا ہونے والے 6 مسائل جو خطرہ کی علامت ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
Pregnancy Problems in Urdu

حمل اکثرخواتین کے لئے قدرتی جسمانی عمل ہوسکتاہے تاہم زیادہ ترخواتین کے لئے ان کی پہلی پریگننسی کی مدت تیزی سے بدلتی ہوئی علامات کے پیش نظربے چینی اورغیریقینی صورتحال ہوتی ہے۔یہ بات جان لیں کہ نئے جذبات اورخدشات صرف حمل کاایک حصہ ہیں۔بہت سے جوڑے معمولی مسائل پربہت زیادہ تناؤ کاشکارہوجاتے ہیں۔اوراس کشیدگی میںخاندان ،دوستوں اوریہاں تک کہ اپنے ڈاکٹرکوبھی مبتلاکردیتے ہیں۔
اکثرمعالج اپنے مریضوں کی شکایت کرتے نظرآتے ہیں کہ وہ معمولی معاملات میں بھی ڈاکٹرسے رجوع کرتے ہیں۔وہ ڈرتے ہیں کہ انھیں نظرانداز کیاجارہاہے اوران کامعاملہ سنجیدہ ہے۔حمل کے دوران خواتین کوذہنی طورپرتیارکیاجاتاہے۔کسی بھی خطرے کی نشاندہی کے بارے میں انھیں بہترمعلومات فراہم کی جاتی ہیں لیکن پہلی پریگننسی میں سب کچھ مشکوک اورخطرناک محسوس ہوتاہے۔

Pregnancy Problems in Urdu
ذیل میں پریگننسی سے متعلق خطرے کے کچھ غلط الارم درج ہیں جوضرورت سے زیادہ تشویش کاسبب بنتے ہیں:

1۔اندام نہانی سے معمولی خون آنا

اگرایسامحسوس ہوتوخواتین خوفزدہ ہوجاتی ہیں ضروری نہیں کہ معمولی بلیڈنگ کانتیجہ مس کیرج ہی ہو۔حمل کے پہلے مرحلے کے دوران معمولی بلیڈنگ یادھبہ آسکتاہے۔یہ اضافی محنت،وزن اٹھانے یاجنسی تعلقات کی وجہ سے بھی ہوسکتاہے۔معمولی دھبہ کونظراندازکیاجاسکتاہے لیکن اگربہت زیادہ بلیڈنگ ہوتوفوری طورپرڈاکٹرسے رابطہ کرناچاہئے۔

مزید جانئے :پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟

2۔بخار

حاملہ خواتین کواکثربخارکی شکایت رہتی ہے۔وہ نہ صرف اپنے بچے کوجراثیم منتقل ہونے سے ڈرتی ہیں بلکہ خواتین کی اکثریت کسی بھی قسم کی ادویات لینے سے گریزکرتی ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی بیماری طویل ہوجاتی ہے اوروہ لمبے عرصے تک طبیعت خراب محسوس کرتی ہیں۔سچائی تویہ ہے کہ دوران حمل ادویات کے استعمال سے بچناچاہئے۔اس میں اینٹی سوزش اورالرجی شکن دوائیں(ہسٹامائن کے اثرات کوکم کرنے والی ادویات)محفوظ طریقے سے لی جاسکتی ہے۔

3۔سردرد

یہ ایک حقیقت ہے کہ دوران حمل شدید سردردپری ایکلیمپسیا(وضع حمل کے دوران بے ہوشی )طاری ہوتی ہے جس کی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہوسکتی ہے۔لیکن زیادہ ترکیسزمیں سردرد صرف ایک سردردہی ہوتاہے۔جوعام طورسے تھکاوٹ اورکشیدگی کی وجہ سے ہوتاہے۔اس سردردکوموثرطریقے سے منظم کیاجاسکتاہے۔

مزید جانئے :مباشرت سے متعلق وہ سوالات جو خواتین پوچھنے سے کتراتی ہیں

4۔کنٹرکشنز

حمل کے اختتام پرلیبرپین شروع ہوتے ہیںاس سے پہلے ہونے والے پین طبی طورپرغلط تصورکئے جاتے ہیں۔جواکثرغلطی سے رونما ہوسکتے ہیں۔وقت سے پہلے ہونے والے لیبرپین وقت پرہونے والے پین سے مختلف ہوتے ہیں۔وقت پرہونے والے دردوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیز ہوتے جاتے ہیں۔وہ باقاعدگی سے ہوتے ہیں اوروقت کے ساتھ ان میں شدت آتی جاتی ہے۔وقت سے پہلے ہونے والے دردکی ایک شناخت یہ بھی ہے کہ وہ حرکت یاپوسچرکی تبدیلی سے ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ حقیقی دردبرقراررہتے ہیں۔

5۔درد

دردہمیشہ مریض کے لئے تشویشناک ہوتے ہیں خاص طورپراگریہ حمل کے اختتام پرہوں تو،کیونکہ یہ لیبرکی پیش روی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔حاملہ خواتین کومشورہ دیاجاتاہے کہ وہ قدرتی طورپرہونے والے دردپر خصوصی توجہ دیں۔اگرسامنے کی طرف تکلیف محسوس ہوتی ہے مثلاً ماہانہ درد کی طرح تواس کامطلب یہ فالز لیبرہیں۔دوسری طرف اگردردیادباؤ پیچھے کی طرف سے ہواوربڑھ کرآگے کی طرف آتاہوتویہ درد حقیقی لیبرکی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مزید جانئے :تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری

6۔پانی کااخراج

پانی کی تھیلی کاپھٹنالیبرکی ایک یقینی نشانی ہے۔لیکن یہ جانناضروری ہے کہ یہ پانی ہی ہے یاکچھ اور؟رطوبتوں کے راستے ڈسچارج یایہاں تک کہ پیشاب بھی پانی کی تھیلی کے پھٹنے کی الجھن کاسبب بن سکتاہے۔جومریض اچھی طرح سے باخبرہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پانی کی تھیلی پھٹنے کااحساس کیساہوتاہے۔جیسے اندام نہانی سے مستقل پانی کااخراج یااچانک تیزی سے پانی بہنا۔
بچہ کی پیدائش ماں اورباپ دونوں کے لئے ہی کشیدہ صورتحال ہوتی ہے۔اچھے ڈاکٹرجسمانی اورنفسیاتی کشیدگی کی اس حالت کوسمجھتے ہیں۔یہ مریض کودوران حمل ہونے والی جسمانی تبدیلیوں اورخطرناک علامات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں جنھیں جلد ازجلد طبی طورپرحل کرناضروری ہوتاہے۔
اگرماں کوتمام پہلوؤں کے بارے میں تعلیم دے دی جاتی ہے تووہ اپنے آپ کوغیرضروری پیچیدگیوں سے بچالیتی ہے۔حمل کالطف اٹھانے میں اس کی مد دکریں اوراسے بھی ایک قدرتی جسمانی عمل کی طرح سمجھیں جیساکہ یہ ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں    

تحریر : ڈاکتر ثناء انصاری


 

The post دوران حمل پیدا ہونے والے 6 مسائل جو خطرہ کی علامت ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے https://htv.com.pk/ur/womens-health/periods Mon, 20 Aug 2018 13:24:17 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=29955 periods

 مہینے کے ان دنوں میں مجھے گھرمیں یہاں وہاں گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔ کراچی کی رہائشی تیرہ سالہ بچی ساجدہ نے اپنے چہرہ کوچادرسے ڈھکتے ہوئے کہا۔ساجدہ کوداغ لگ جانے یاشرمندگی کے ڈرسے مہینے کے پانچ دن توضرورچھٹی کرناپڑجاتی تھی جس سے اس کی پڑھائی کا خاصہ حرج ہوتاتھا۔کپڑے پرداغ لگ جاناہی ایک […]

The post ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
periods
مہینے کے ان دنوں میں مجھے گھرمیں یہاں وہاں گھومنے کی اجازت نہیں تھی۔ کراچی کی رہائشی تیرہ سالہ بچی ساجدہ نے اپنے چہرہ کوچادرسے ڈھکتے ہوئے کہا۔ساجدہ کوداغ لگ جانے یاشرمندگی کے ڈرسے مہینے کے پانچ دن توضرورچھٹی کرناپڑجاتی تھی جس سے اس کی پڑھائی کا خاصہ حرج ہوتاتھا۔کپڑے پرداغ لگ جاناہی ایک وجہ نہیںبلکہ کئی اوروجوہات کی بناء پرمعاشرہ پیریڈز یعنی ماہواری کوشرم کاباعث سمجھتاہے اورلوگ اس بارے میں بات نہیں کرناچاہتے۔

ناپاکی اوردیگرچیزوں کوبہانہ بناکرخواتین کوکمروں میں بندکردیاجاتاہے اوروہ مفلوج ہوکررہ جاتی ہیں۔UNICEFکے ایک ایس ایم ایس پول کے مطابق جب 700لڑکیوں کی آراء لی گئی تو معلوم ہواکہ 29فیصد پاکستانی لڑکیاں اورعورتیںپیریڈز کے دنوں میں داغ کے ڈرسے اپنے اسکول اوردیگرکاموں پرنہیں جاتیں۔
یہاں نہایت کم عمرلڑکیوں کویہ سکھایاجاتاہے کہ وہ اپنے نجی معاملات اپنے تک ہی رکھیں۔خاص طورپرجن معاملات کاتعلق ان کے جسم سے ہوتاہے۔اسی وجہ سے نوجوان لڑکیاں ذاتی طورپرخود سے اپنے پیریڈ کے مسائل کومنظم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں اوران دنوںنہایت محتاط رہتی ہیں۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثرلڑکیوں کواس مسئلے کے بارے میں مناسب معلومات حاصل نہیں ہوتی۔
جب پاکستانی خواتین سے ان کے پہلے پیریڈ کے بارے میں سوال پوچھاجاتاہے تو خواتین کی بڑی تعدادیہی جواب دیتی ہے کہ انھیں اپنے پہلے پیریڈسے پہلے ماہواری کے بارے میں کچھ معلومات حاصل نہیں تھیں۔کچھ خواتین نے اپنے پہلے پیریڈ کے بارے میں خطرناک اوردھچکہ لگنے والے احساسات کاتذکرہ کیا جوانھوں نے پہلی دفعہ آنے والے خون کو دیکھنے پرمحسوس کیا۔بہت سی کم عمرلڑکیوں نے توبتایاکہ انھیں لگاکہ اب وہ مرنے والی ہیں اورانھیں سمجھ ہی نہیں آیاکہ کیاکریں اورکس سے مددطلب کریں۔

مندرجہ بالاUNICEF سروے کے مطابق یہ بھی پتاچلاہے کہ49 فیصد پاکستانی لڑکیاں اپنے پہلے پیریڈ سے پہلے حیض کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔

2017 میںریئل میڈیسن فاؤنڈیشن نے بتایاکہ پاکستان میں79 فیصد خواتین اپنی حیض کی مدت کوحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں گزارتی ہیں۔یہ سب تولیدی صحت کی تعلیم،ماہواری سے متعلق مکمل آگاہی اوراس کی صحت وصفائی کے اصولوں پرمنظم طریقے سے عمل کرنے سے متعلق شعوراوررسائی کی کمی کانتیجہ ہے۔پاکستان بھرمیں خواتین کے لئے حیض کاانتظام ایک اہم چیلنج ہے۔خاص طورپرکم آمدنی کے باعث جس کی وجہ سے خواتین کوصاف پانی،واش روم اورصفائی رکھنے والی مصنوعات دستیاب نہیں۔بات چیت کافقدان اورممنوعہ موضوع ہونے کی وجہ سے خواتین اپنے مسائل کااظہارنہیں کرپاتی جسکی وجہ سے حیض کی یہ مدت ان کے لئے مزید مشکلات کاباعث بنتی ہے۔خاص طورپرپاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشرتی،ثقافتی اورمذہبی پابندیاں زندگی کی وضاحت کرتی ہیں۔
ہمارے ہاںخریدنے کی سکت نہ ہونابھی ابھی تک ایک اہم مسئلہ ہے۔یہ سبب بھی ماہواری میں حفظان صحت کے اصولوں پراثراندازہوتاہے۔پاکستان میں زیادہ ترلڑکیوں اورعورتوں کوحیض کی اہم مصنوعات اورٹوائیلٹ جیسی بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔اسی وجہ سے داغ کے خوف کے باعث وہ اپنی روزمرہ سرگرمیاں ترک کردیتی ہیںاورباقاعدہ انفیکشن کاشکارہوجاتی ہیں۔لڑکیاں اورخواتین پیریڈ میں آنے والے خون کے بندوبست کے لئے پرانے کپڑے،ٹکڑے،موزے،پتے حتٰی کے راکھ تک کااستعمال کرتی ہیں۔یہ تمام معاملات انفیکشن اوردیگرامراض کاسبب بنتے ہیں جس سے وہ بے خبرہوتی ہیں۔
پاکستان میں حیض کے حفظان صحت کے اصولوں کومانیٹرکرنے والوں کاکہناہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے پسماندہ طبقے کوبڑی مشکلات کاسامناہے۔ہمارا مقصد ہے کہ حیض کے معمولات کوصحت مند عمل کے طورپرلاگوکریں اوراس عمل کوخواتین کی لائف سائیکل کامثبت حصہ بنائیں۔ ہمارا مقصد غریب خواتین کوصرف حیض کی تعلیم دینانہیں بلکہ انھیںصفائی کی بنیادی مصنوعات کی دستیابی بھی ہے۔جس کی مددسے وہ محفوظ اورصحت مندطریقے سے اعتماداوروقارکے ساتھ حیض کی مدت گزاریں۔یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان میں پیریڈ کومعمول کاحصہ سمجھیں تاکہ خواتین اورلڑکیاں حیض کی مدت کواعتماد اوروقار کے ساتھ گزارسکیں۔

تحریر : ثناء لوکھنڈوالا

ترجمہ : سائرہ شاہد

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

The post ماہواری ۔۔۔۔۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری https://htv.com.pk/ur/womens-health/reproductive-health Thu, 24 May 2018 10:14:40 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28246

شادی شدہ زندگی شروع کرنے کے بعد اپنے خاندان کاآغازہرایک کی زندگی کااولین مقصد ہوتاہے۔نئے شادی شدہ جوڑے اکثر اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرتے ہیں۔نئے شادی شدہ جوڑے اکثر ایک دوسرے کے تولیدی نظام اورجسمانی اعضاء سے ناواقف ہوتے ہیں۔اس کے باعث کئی عوامل متاثر ہوتے ہیں اورہارمون،غذا اورکشیدگی سمیت کئی مسائل سامنے آتے […]

The post تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

شادی شدہ زندگی شروع کرنے کے بعد اپنے خاندان کاآغازہرایک کی زندگی کااولین مقصد ہوتاہے۔نئے شادی شدہ جوڑے اکثر اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرتے ہیں۔نئے شادی شدہ جوڑے اکثر ایک دوسرے کے تولیدی نظام اورجسمانی اعضاء سے ناواقف ہوتے ہیں۔اس کے باعث کئی عوامل متاثر ہوتے ہیں اورہارمون،غذا اورکشیدگی سمیت کئی مسائل سامنے آتے ہیں۔ایک ممنوعہ موضوع ہونے کی وجہ سے بہت سے نوجوان مرد وخواتین تولیدی صحت اورنسل پرستی کی بنیادی معلومات سے محروم رہتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں بانجھ پن کی غلط فہمی عام ہے جبکہ یہ تولیدی مسائل ،ہارمونل عدم توازن اورکشیدگی کے سبب ہے۔تولیدی صحت کے حوالے سے کچھ باتیں ایسی ہیں جن کاجانناہرشادی شدہ جوڑے کے لئے ضروری ہے۔

ماہواری کاریکارڈ رکھیں

ماہانہ سائیکل شروع ہونے سے لے کراس کی مقداراورمدت ہرعورت کی دوسری عورت سے مختلف ہوتی ہے۔کونسی صورت کس کے لئے نارمل اورکس کیلئے ایب نارمل ہوسکتی ہے یہ جاننے کے لئے ہرعورت کااپنی ماہانہ سائیکل کی مکمل نگرانی اورمعلومات ضروری ہے۔ گائنالوجسٹ کے مطابق ماہواری کاریکارڈ رکھنے کے لئے ایک ڈائری مرتب کریں۔خاص طورپروہ بچیاں جن کوابھی ماہواری کاآغاز ہواہے انھیں کچھ سالوں تک ضروریہ ریکارڈ رکھناچاہئے ۔

پیریڈ شروع ہونے کی تاریخ،اس کی مدت اوراس سے متعلق مزید عوامل تحریری طورپررکھنابہت ضروری ہے۔حمل ٹھہرنے کے اس وقت زیادہ امکانات ہوتے ہیں جب بیض ریزی کاوقت ہوتاہے یعنی بیضہ دانی سے انڈے ریلیز ہوتے ہیں۔یہ عمل ماہانہ سائیکل کے پہلے دن کے بعدتقریباً بارہ سے چودہ دن کے بعد ہوتاہے۔

مزید جانئے  :پانچ مسائل جو عموماً ہر حاملہ عورت کو پیش آتے ہیں

مانع حمل اشیاء کے بارے میں جانیں

گزشتہ وقتوں کے مقابلے میں اب خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کی جاتی ہے۔اس کے باوجود اب تک کئی شادی شدہ جوڑے مانع حمل اشیاء کے مختلف طریقوں کے فوائد اورنقصانات سے ناواقف ہیں۔پیشہ ورانہ ماہرین سے مشورہ کرنے کے بجائے لوگ اپنے دوستوں سے رائے لیتے ہیں جواکثراوقات ٹھیک نہیں ہوتی۔

مانع حمل کے طریقوں میں جیسے کنڈم،برتھ کنٹرول پلز،آئی یوڈیز وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔میڈیکل ویب سائٹ پرآپ کواس کی مزید معلومات جیسے خلاصہ اوراعدادوشمار شیٹ اورچارٹ وغیرہ مل سکتی ہیں۔جوشادی شدہ جوڑوں کی بہترین رہنمائی میں مدد فراہم کرسکتی ہے کہ ان کے لئے کیابہترہے۔اسمیں مانع حمل اشیاء کے ضمنی اثرات جیسے بلیڈنگ،ڈسچارج اوران اشیاء کے استعمال میں ناکامی کی شرح کی تفصیلات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹرکوکب دکھاناضروری ہے؟

ماہانہ سائیکل میں معمولی تبدیلیاں نارمل ہوتی ہیں لیکن خواتین کویہ معلوم ہوناچاہئے کہ اگر بہت زیادہ اوربے قاعدہ بلیڈنگ ہوتوایسی صورت میں اپنی ڈاکٹرسے ضروررابطہ کریں۔اضافی بلیڈنگ عام طورسے یوٹیرائن وال میں خرابی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔عام طورسے یہ صورتحال ادویات اورسرجری سے کنٹرول ہوسکتی ہے۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یورین کینسرکی بھی یہی علامات

ہوتی ہیں۔لہٰذاجتنی جلدی ممکن ہوتو فوری طورپرگائنالوجسٹ سے رابطہ کریں۔دیگرغیرمعمولی علامات جیسے خارش،جلن،سوزش اور ایکسٹراڈسچارج انفیکشن کانتیجہ ہوتے ہیں۔بعض انفیکشن ایس ٹی ڈیز (جنسی منتقل شدہ بیماری )کے زمرے میں آتے ہیں۔لہٰذا ان کی تشخیص اورفوری علاج ضروری ہے دوسری صورت میں وہ مریض کے لائف پارٹنرمیں منتقل ہوسکتی ہے۔

مردانہ عوامل پرغورکریں

حمل نہ ٹھہرنے میں مردانہ اسپرم بھی اہم کرداراداکرتے ہیں۔اسپرم کی مقداراورکوالٹی کاغیرمعمولی ہونا اس کی وجہ ہوسکتاہے۔ان تمام وجوہات کے باعث حمل ٹھہرنے میں رکاوٹ آسکتی ہے۔اس مسئلہ میں مردانہ کمزوری بھی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔

بعض اوقات ذیابیطس یاپھرنفسیاتی مسائل کے باعث بھی ایساہوتاہے۔ہماری ثقافت میں ان باتوں کوبدنامی کاذریعہ سمجھاجاتاہے اسی لئے نوجوان مرد وعورتوں میں اس قسم کی اکثرغلط فہمیاں ہیں جنھیں دورکرناضروری ہے۔تولیدی صحت ہماری زندگی کاایک اہم پہلوہے۔یہ معاملات نہ صرف ہماری جسمانی صحت کومتاثرکرتے ہیں بلکہ یہ ہمارے نفسیاتی اورسماجی روابط کے لئے منفی بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔اگران معاملات کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل نہ ہوتو آگے جاکراس کے دوررس اورسنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

انگریزی میں پڑھئے!

تحریر : ڈاکٹر ثناء انصاری 

ترجمہ : سائرہ شاہد


 

The post تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
مخصوص ایام کے مسائل کاآسان حل https://htv.com.pk/ur/womens-health/common-health-related-problems-during-periods Tue, 27 Mar 2018 06:45:10 +0000 http://htv.com.pk/ur/?p=20845

خواتین کومخصوص ایام میں بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔جووہ کسی سے شیئر بھی نہیں کر پاتی جس سے مسائل اورالجھ کربڑی پریشانی کاسبب بنتے ہیں۔اسی لئے ان پریشانیوں کوسمجھتے ہوئے خواتین کو ان مسئلوں سے نمٹنے کے لئے چند تجاویز بیان کی گئی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے مسائل آسانی سے حل […]

The post مخصوص ایام کے مسائل کاآسان حل appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

خواتین کومخصوص ایام میں بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔جووہ کسی سے شیئر بھی نہیں کر پاتی جس سے مسائل اورالجھ کربڑی پریشانی کاسبب بنتے ہیں۔اسی لئے ان پریشانیوں کوسمجھتے ہوئے خواتین کو ان مسئلوں سے نمٹنے کے لئے چند تجاویز بیان کی گئی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے مسائل آسانی سے حل کرسکتی ہیں۔

۱۔مخصوص ایام میں ہونے والادرد

سورج مکھی کے بیج،السی کے بیج اور گلاب کی خشک پتیاں ہم وزن لے کرپیس کررکھ لیں۔اگر آپ اس مسئلہ کاشکار ہیں تو باقاعدگی سے ایک چمچ صبح وشام تین ماہ تک کھائیں تو اس درد سے نجات مل جائے گی۔بارہ سال سے بڑی بچیوں کوروزانہ ایک مٹھی سورج مکھی کے بیج چھیلے ہوئے ضرورکھلائیں تاکہ وہ اس مسئلہ سے محفوظ رہیں۔

۲۔مخصوص ایام کی خرابی

السی کے بیج دوچمچ لے کر صبح بھگودیں اورعصر کے وقت پی لیں۔کلونجی،اجوائن،ثابت اسپغول اورمیتھی دانہ ہم وزن لے کر پیس کررکھ لیں۔اگر یہ مسئلہ ہوتوبچیوں کوایک چوتھائی چائے کاچمچ اوربڑوں کے لئے آدھاچائے کاچمچ استعمال کریں۔اس دوا کے استعمال کے بعد آدھے گھنٹے تک چائے یاکافی کااستعمال نہ کریں۔گرمی کے موسم میں اجوائن کی مقدار آدھی کردیں۔مخصوص ایام کے ساتھ ساتھ یہ لیکوریاکے لئے بھی بہت اچھانسخہ ہے۔

۳۔مخصوص ایام کی زیادتی

رات کوایک کپ پانی گرم کرکے اسمیں انارکے سات پھول ہاتھ سے مسل کرڈال دیں۔ایک چمچ مصری یاچینی ڈال کرڈھک کررکھ دیں۔صبح ہلکاساگرم کرکے چھان کرپی لیں۔لیکن مخصوص ایام کے دوران اسکااستعمال نہ کریں۔مہینے میں دوبار ایام کی شکایت یاہرپندرہ دن میں مخصوص ایام کے ہونے کامسئلہ ٹھیک ہوجائے گا۔لیکن جسے قبض رہتاہووہ انار کے پھول پرسے چھلکاہٹاکراستعمال کریں کیونکہ انار کاچھلکاقبض کی تکلیف بڑھاسکتاہے۔

۴۔حیض کی قلت

پرانا گڑ بیس گرام،السی کے بیج ایک کھانے کاچمچ،اجوائن دیسی ایک کھانے کاچمچ،میتھی دانہ ایک کھانے کاچمچ،کلونجی ایک کھانے کاچمچ،پیس کررکھ لیں۔آدھاچمچ رات سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ دس دن تک لیں۔چاند کی پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک لیں۔اگر کافی وقت سے حیض بند ہوں تو وہ بھی آجائیں گے۔اوربے اولادی ہے تو وہ بھی ختم ہوگی۔

۵۔ماہواری کاوقت پرنہ ہونا

ایک گلاس دودھ میں دو سے چار چھوہارے ڈال کراچھی طرح پکالیں اورپھر اسے پی لیں ماہواری وقت پرہوگی ۔اگر دودھ پسند نہ ہوتوپھرتلسی کے بیج ایک چمچ لے کرایک گلاس پانی میں اتناابالیں کہ آدھاگلاس رہ جائے پھرپی لیں۔تو ماہواری آنے لگے گی۔ناریل کھانے سے بھی رکے ہوئے حیض کے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

۶۔کمر اورپیروں کادرد

بعض خواتین کومخصوص ایام میں کمراورپیر درد کی شکایت رہتی ہے۔دماساجوپنسار کے پاس سے آرام سے مل جاتی ہے ۔ڈیڑھ کپ پانی میں ڈیڑھ چمچ دماساکوٹ کرشامل کریں اوراتناپکائیں کہ ایک کپ رہ جائے پھرچھان کررات بھر رکھ دیں۔صبح اس ایک کپ کوتین حصوں میں تقسیم کریں اورہرکھانے کے بعد صبح ،دوپہر اورشام میں پی لیں۔لیکن مخصوص ایام میں نہ پیئیں۔اسکے ساتھ زیتون کااصلی تیل دن میں دوچائے کے چمچ پی لیں۔یاسلاد میں ڈال کرکھالیں۔

مزید جانئے  :کمر میں شدید درد رہنا،وجوہات اور احتیاط


The post مخصوص ایام کے مسائل کاآسان حل appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>