گوشت اور انسانی صحت پر اس کے اثرات

1,120

سبزیوں اور دالوں کے ساتھ ساتھ گوشت بھی انسانی خوراک کا اہم جزو ہے، جس سے جسم کو پروٹین، لمحیات، آئرن، وٹامن b وغیرہ حاصل ہوتی ہیں، جوکہ ایک صحت مند جسم کیلئے ضروری ہیں۔اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان مختلف اقسام کی خوراک کھاتا ہے، جس میں پھل، سبزیاں، گوشت، مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔ان تمام چیزوں کی اپنی جگہ پر خاص اہمیت ہے۔ متوازن غذا کھانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی عمر، صنف اور صحت کے مطابق ان سب چیزوں کا اعتدال میں استعمال کیا جائے۔

ہر قسم کی غذا کے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کو عام روٹین میں ضرورت کے مطابق کھانا چاہیے، اسی طرح گوشت کھانے میں غیر معمولی زیادتی سنگین قسم کے صحت کے مسائل کا سبب بن جاتی ہے۔ مچھلی اور مرغی کے گوشت کو عام طور پر White meat کہا جاتا ہے، اس سے انسانی جسم کو پروٹین وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔White meat میں کلوریز اور چکنائی کی مقدارکم ہوتی ہے۔

اس طرح چوپائیوں اور دودھ پلانے والے جانوروں (Mamals) کا گوشت Red Meat کہلاتا ہے۔ مٹن (چھوٹا گوشت) میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، تاہم اس سے دوسری غذائی ضروریات مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس،آئرن اور وٹامن b وغیرہ پوری ہوتی ہیں۔ White Meat اور Red Meat دونوں کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، اس لیے انہیں اعتدال میں رہ کر استعمال کرنا چایئے۔

طبی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عام روٹین میں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال مختلف سنگین نوعیت کی بیماریوں مثلاً کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس، معدہ، جگر کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، بالخصوص وہ لوگ جو پہلے سے ہی ان بیماریوں میں مبتلا ہیں، انہیں سرخ گوشت کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔

عید کے موقع پر گوشت کھانے میں احتیاط کیجئے:

عیدالاضحی، جسے بڑی عید بھی کہا جاتا ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک بڑا تہوار ہے۔ اس دن مسلمان سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ مختلف مسلم معاشروں کی روایات کے لحاظ سے اس دن کی اپنی منفرد ثقافتی حیثیت بھی ہے۔ عید کے موقع خاندان بھر کے لوگ اکٹھے ہوتے ہی ہیں، دوست احباب کی محفلیں بھی سجتی ہیں، لیکن عیدالاضحی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس موقع پر گوشت کی مختلف ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔ گوشت کو روسٹ کرایا جاتا ہے، یا بعض گھروں میں باربی کیو پارٹی کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ قیمہ بنایا جاتا ہے، شامی کباب تیار کئے جاتے ہیں، غرض یہ کہ گوشت کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

پھر یہ کہ چھوٹا یا بڑا گوشت زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے کی جھلیوں میں سوزش ہوجاتی ہے۔ زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے، گوشت آسانی سے ہضم نہیں ہوتا اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس سے ڈائریا جیسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، یا Constipation (قبض) بھی ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں کیفیات بہت تکلیف دہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی احتیاط کی جائے اور زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے اجتناب کیا جائے۔ گوشت کو زود ہضم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اسے بغیر مصالحے کے یا پھر کم مصالحے میں اور شوربے کے ساتھ بنایا جائے۔ نیز انسانی جسم کو مناسب مقدار میں ایسی غذا مثلاً پھل، سبزیاں وغیرہ لیتے رہنا چاہیے، جس سے اس کے جسم کو Fiber ملتا رہے اور غذا ہضم کرنے میں آسانی رہے۔جو لوگ ان بیماریوں مثلاً یورک ایسڈ کی زیادتی، جوڑوں میں درد، بلڈ پریشر، شوگر، دل، معدہ یا جگر وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، انہیں اس موقع پر خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے اور گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے یا ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق بہت تھوڑی مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یا ان کی بیماری شدید صورت اختیار کرسکتی ہیں۔



جہاں تک گوشت کو فریز (Freeze) کرنے کا سوال ہے، تو کوشش کرنی چاہیے کہ گوشت کو ہفتے، دس دن سے زیادہ فریز نہ کیا جائے اور جلد از جلد استعمال میں لے آیا جائے۔ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ کا بھی مسئلہ ہے، اس لیے گوشت کے خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اگر اس مسئلے کا سامنا نہ ہو، تو بھی گوشت کی Quality (معیار) اور غذائیت میں فرق آنا شروع ہوجاتا ہے۔ گوشت کو محفوظ کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ اسے فریز بھی کیا جاتا ہے یا کچھ لوگ گوشت ابال کر نمک لگاکر اسے خشک بھی کرتے ہیں۔ گوشت خراب ہونے کی علامات میں اس کا رنگ تبدیل ہونا یا بو آنا وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم گوشت کو زیادہ عرصہ تک سٹور کرنے کے بجائے زیادہ بہتر یہ ہے کہ عید کے موقع پر مناسب مقدار میں حفظان صحت کے اصولوں کے تحت خود اپنے استعمال میں لایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اسلامی تعلیمات اور معاشرتی افکار کےمطابق رشتہ داروں اور مستحقین میں بانٹ دیا جائے۔ کیونکہ آج کل کے مہنگائی کے دور میں مڈل کلاس کا آدمی پھر بھی گھر میں مہینے میں تین چار بار گوشت پکا کر کھالیتا ہے، تو بلا شبہ وہ اس قربانی کے گوشت کے مستحق ہیں۔


ملائی مٹن اور گلاوٹی کباب کی مزیدار ریسیپز جانئے !


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...