کھانوں سے کیجئےڈپریشن کا علاج

888

ڈپریشن بظاہر ایک معمولی مرض ہے، جسے ذہنی بیماری کہا جاتا ہے، مگر ماہرین طب کے مطابق اس بیماری کے اثرات سے انسانی زندگی بہت مشکل بن جاتی ہے۔برطانوی و امریکی ماہرین صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 3 کروڑ 50 لاکھ افراد ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، اور تقریبا دنیا کے ہر 4 میں سے ایک شخص کو کسی نہ کسی درجے کی ڈپریشن کی شکایت ہوتی ہے۔

ڈپریشن کی بیماری کا شکار زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں، جو گھریلو ذمہ داریوں سمیت دیگر سماجی ذمہ داریوں اور مسائل کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ڈپریشن کے مرض میں مبتلا افراد آہستہ آہستہ ذہنی دیوالیہ پن کا شکار بن جاتے ہیں، جب کہ ان کا معیار زندگی بھی بہتر نہیں ہوتا، چڑچڑے پن اور ہر وقت اضطراب میں رہنے کے باعث وہ اپنی خوراک کا بھی خیال نہیں کرتے۔


 اس بارے میں جانئے :10عادتیں جوکامیاب لوگ کبھی نہیں اپناتے

 

ڈپریشن کا علاج کئی طرح سے ممکن ہے، مگر نیوٹریشن ماہرین کے مطابق کھانوں کے ذریعے بھی ڈپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔نیوٹریشن ماہرین کے مطابق ڈائیٹ یا زیادہ پروٹین اور شگر سے تیارغذا کھانے والے افراد ان افراد کے مقابلے زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، جو صحت مند غذا کھاتے ہیں۔برطانیہ کی مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے مطابق ہفتے کے ساتوں دن کام کرنے والے افراد ذہنی مسائل کا شکار زیادہ ہوتے ہیں، تاہم اگر وہ اپنی خوراک بہتر بنائیں تو ڈپریشن سمیت دیگر ذہنی الجھن سے بچ سکتے ہیں۔امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تازہ پھل، سبزیاں، مچھلی اور اناج سے تیار غذائیں ڈپریشن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ڈپریشن میں مددگارغذائیں

ماہرین کے مطابق جن انسانوں کے جسم میں امینو ایسڈ کی مقدار بہتر ہوتی ہے، وہ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔اس لیے امینو ایسڈ یا پروٹین حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے، سویا بین، دودھ، پنیر، لوبیا اور دالوں سمیت ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن سے پروٹین حاصل ہوسکے۔

وٹامن بی کی زیادہ مقدار بھی ڈپریشن میں مددگار ہوتی ہے،وٹامن بی کے حصول کے لیے اناج سے تیار غذائیں، سبزیاں، پالک، چھولے، خوردنی مچھلی، دالیں، خصوصی طور پر مسور کی دال اور لال لوبیا اور خشک میوہ جات کا بھی استعمال کیا جائے۔

نیوٹریشن ماہرین کے مطابق ڈپریشن سے بچنے کے لیے زیادہ تیل میں تیار اور چٹپٹے کھانوں سے گریز کیا جائے، جب کہ میٹھی اشیاء سے بھی دور رہا جائے، ایکسرسائیز کو معمول بنائیں اور صحت مند تازہ غذا کا استعمال کیا جائے۔


مزید جانئے :25 منٹ کا ورک آؤٹ بنادےگا آپ کو فٹ


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...