شادی : ایک مضبوط مگر کمزور رشتہ بھی

2,724

مشہور کہاوت ہے کہ میاں بیوی گاڑی کے دوپہیّے کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک پہیّا خراب ہوجائے تو گاڑی کا چلنا ممکن نہیں رہتا۔ شادی marriageایک مضبوط بندھن ہے صرف نکاح کے تین بول آپ کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں اور آپ اپنا سب کچھ اپنے شریکِ حیات کے نام کردیتے ہیں۔ مگر اس قدر مضبوط بندھن انتہائی نازک ڈور سے بندھا ہے اور یہ ڈور کسی ایک کی کوتاہی، جلد بازی اور بے وقوفی سے ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ لہٰذا اس رشتے کو پروان چڑھانے کے لیے اعتماد،سچائی اور دیانت داری بہت ضروری ہے۔ صرف محبت سے کام نہیں چلتا، صبر وتحمل، استقامت اور قوت برداشت سے ہی اس رشتے کو نبھایا جاسکتا ہے۔ یہ رشتہ جس قدر محبت چاہتا ہے اتنی ہی توجہ اور عزت مانگتا ہے۔ میاں بیوی کا ایک دوسرے پر بھروسا ہی اس رشتے کو قابلِ رشک بناتا ہے، جبکہ شک کا ذرا سا بیج اس رشتے کو تہس نہس کر سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں طلاق کی شرح میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ ایک دوسرے کی عادت واطوار اور مزاج کو سمجھنے کے لیے آپ کو خاصی وقت درکار ہوتا ہے۔ پیار ،صبر اور مستقل مزاجی سے اس رشتے کی جانچ پڑتال کیجیے۔ یہ رشتہ بازار میں رکھی ہوئی کوئی شے تو نہیں کہ گھر لے آئے اور پسند نہ آنے پر دکاندار کو مناکر اسے تبدیل کرالیں۔میاں بیوی ایک دوسرے کے مزاج اور جذبات کو جانے بغیر کیسے پوری زندگی گزار سکتے ہیں اس کے لیے انھیں ایک دوسرے کو وقت دینا بہت ضروری ہے۔


شوہر کی وہ عادتیں جو بیویاں پسند نہیں کرتیں


 

بہت سی بیویاں سارا دن نوکر کی طرح کام کرتی ہیں ،گھر والوں کی خدمتیں کرتی ہیں مگر جب شوہر کے گھر آنے کا وقت ہوتا ہے تو وہ اسی اُجاڑ حلیے میں شوہر کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں اور وہ بھی کبھی ایک پاؤں اِدھر اورایک پاؤں اُدھر۔ شوہر فرصت کے لمحات چاہتا ہے بہت سی باتیں شیئر کرنا چاہتا ہے مگر بیوی کو گھر کے کام کاج سے فرصت ہی نہیں مل پاتی۔ نتیجتاً ایسی صورت میں شوہر گھر کے ماحول سے بددل ہوجاتا ہے اور زیادہ تر وقت دفتر یا گھر سے باہر گزارنا شروع کردیتا ہے۔ کیونکہ اسے اپنی شریک حیات ایک ہمدرد اور دوست کے روپ میں چاہیے وہ بھی دلکش سراپے میں۔ تاکہ وہ سارا دن کی تھکن اور پریشانی بھول جائے۔

اس کے برعکس بعض بیویاں ہر وقت شوہر پر مسلط رہتی ہیں۔ کہاں جارہے ہو؟ اس وقت کہاں ہو؟ کس کا فون آیاہے؟ باربار میسج کیوں آرہے ہیں؟شوہر پہ باربار شک کرنا، موبائل کالز چیک کرنا اور ہروقت شوہر کی ٹو ہ میں لگے رہنا بھی شوہر کو بیوی سے بدظن کردیتا ہے۔ یوں شک کا یہ بیج بیوی اپنے رویے سے تناور درخت بنادیتی ہے۔ اور پھر شوہر بھی یہ سوچتا ہے کہ میری بیوی تو پہلے ہی مجھ پر اتنا شک کرتی ہے تو اس شک کو یقین میں بدل دینے میں کیا ہرج ہے! اس طرح اس پیارے رشتے میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجاتی ہیں۔

ہر بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس پر بھرپور توجہ دے اور چھوٹی چھوٹی باتیں اسے شیئر کرے اور اپنا بیش تر وقت اس کے ساتھ گزارے۔ مگر شوہر کبھی موبائل پر، کبھی دوستوں میں،کبھی ٹی وی اور کمپیوٹر کے سامنے اپنا وقت گزار دیتا ہے۔ بے چاری بیوی گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر اسی انتظار میں رہتی ہے کہ میاں جی آکر میٹھی میٹھی باتیں کریں گے۔ میرے ساتھ وقت گزاریں گے۔ کبھی آؤٹنگ، کبھی ہوٹلنگ کرائیں گے، مگر ایسا نہ ہونے پر وہ مایوس ہوکر راہِ فرار ڈھونڈلیتی ہے۔یا وہ جلتی کڑھتی رہتی ہے یا اور کوئی متبادل راستہ اختیار کرلیتی ہے جو فون یا نیٹ پر چیٹنگ کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے جس کے نتائج زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

بعض شوہر حضرات بیوی پر بے جا روک ٹوک اور سختی کا رویہ اپنائے رکھتے ہیں حتیٰ کی بیوی کو فون رکھنے تک کی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ میکے والوں کے زیادہ آنے جانے پر بھی پابندی لگائے رکھتے ہیں ۔ ضرورتاً بھی بیوی کو گھر سے نکلنے نہیں دیتے۔ یہ سب شکوک و شبہات ہی اس رشتے میں دراڑکا باعث بنتے ہیں۔فطرتاً ہر عورت کوایسے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے جو اس پر اعتماد اور بھروسا کرتا ہو۔ وہ خود کو آزاداور محفوظ سمجھے۔ اسے کبھی مایوس نہ کرے۔عورت کبھی بخیل شوہر کو پسند نہیں کرتی لہٰذا اسے مختلف اوقات میں تحفے تحائف اور باہر جانے کی دعوت دیتے رہا کریں۔ بیو ی کو اپنے والدین کے یہاں جانے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ اس عمل میں مداخلت نہ کریں کہ وہ گھر کیسے چلا رہی ہے بلکہ اسے مکمل اعتماد بخشیں کہ وہی اس گھر کی ملکہ ہے۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ حمل اور حیض کے دنوں میں عورت کا مزاج اچانک بدل جاتا ہے لہٰذااس کی اس کیفیت کو سمجھتے ہوئے اس کے مطابق پیش آئیں۔

بیوی کو بھی چاہیے کہ شوہر کی تنہائی میں اس وقت مخل نہ ہو جب وہ اپنے طورپر مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے مخل ہونے سے وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجا ئے گا۔ اپنی سوچ کو شوہر پر تھوپنے کی کوشش مت کریں اس سے وہ یہ سمجھے گا کہ آپ اس پر حکمرانی کرنا چاہتی ہیں۔ شوہر کو اس وقت بالکل اکیلا نہ چھوڑیں جب اسے آپ کی ضرورت ہو بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں۔ اگر آپ اسے کھونا نہیں چاہتیں تو اس بات کے لیے فکر مند نہ ہوں کہ وہ آپ اور بچوں کے لیے کیا کررہا ہے؟فیملی اور دوستوں کے سامنے شوہر کو تنقید کا نشانہ ہرگز نہ بنائیں اور شوہر کے رازوں کو خود تک ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں۔یقیناًان سب باتوں پر عمل کرکے میاں بیوی اس رشتے کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہیں اور یہ رشتہ اور بھی مضبوط بناسکتے ہیں۔


مزید جانئے : شادی کے بعدکس کی سنیں کس کی نہ سنیں؟


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...